پاک افغان تجارت: ورکنگ گروپ بنانے کا اصولی فیصلہ

پاک افغان تجارت: ورکنگ گروپ بنانے کا اصولی فیصلہ

  

یہ خبر خوش آئند ہے کہ پاکستان اور افغانستان تجارت سے متعلق ورکنگ گروپ بنانے کے لئے رضامند ہو گئے ہیں اور آئندہ ماہ دونوں ملکوں کے نمائندہ وفود تجاویز کو حتمی شکل دیں گے۔ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ یہ ملاقات پاکستان کے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور افغانستان کے وزیر خزانہ خلیل احمد حکیمی کے درمیان ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں نمایاں کمی پر دونوں ملکوں کے نمائندوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان کی طرف سے اس بات پر آمادگی کا اظہار کیا گیا کہ ماضی میں جن مسائل کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، انہیں اب حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور مناسب انتظامات مکمل کرنے کے بعد ہی حکومت پاکستان زمینی راستے سے بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت بحال کر دے گی۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو پڑوسی مسلمان ملکوں کی حیثیت سے دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں۔ خاص طور پر قبائل کی سطح پر صدیوں پرانے روابط چلے آ رہے ہیں۔ ایک دور میں دونوں ملکوں کے شہری ویزے اور تجارت کے حوالے سے غیر معمولی سہولتوں کے ساتھ نہایت پراعتماد اور پرامن فضا میں آیا جایا کرتے تھے۔ پاک افغان تعلقات میں رفتہ رفتہ خرابی 80ء کی دہائی میں آئی، جب روس نواز حکومتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن بڑی تعداد میں قائم کرکے پاکستان کے خلاف مختلف سازشوں کا آغاز کیا۔ گزشتہ پندرہ سولہ سال کے دوران بھارت نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور ہمارے اس پڑوسی مسلمان ملک کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی جاتی رہی۔ بھارت کی ان سازشوں کے ثبوت متعدد بار پاکستان نے افغان حکمرانوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کو مہیا کئے ہیں لیکن افغان سرزمین کے غلط استعمال میں کمی نہیں آئی۔

دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کے آپریشن ضرب عضب اور پھر ردّالفساد کے نتیجے میں پاک افغان تعلقات نازک صورت حال سے متاثر ہونے لگے ہیں۔ سرحدی راستوں کی سخت نگرانی کرنے اور سینکڑوں کلومیٹر طویل سرحد پر پاکستان کی طرف سے باڑ لگانے اور نگران چوکیاں قائم کرنے کے فیصلے پر بھارت کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ اب افغانستان سے دہشت گردوں کو بھیجنا آسان نہیں رہا۔ کئی بار افغان فوجیوں نے ہمارے فوجیوں پر فائرنگ کی ہے۔ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ایسا بھارت کے ایما پر ہوتا ہے تاہم پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے ہمیشہ صبر و تحمل کا ثبوت دیتے ہوئے افغان حکمرانوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ مذاکراتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ افغانستان نے تجارت کے حوالے سے ورکنگ گروپ بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی معاملات پر بھی افہام و تفہیم سے بہتری کی صورت پیدا ہوگی۔ ایک زمانے میں پاکستان اور افغانستان میں دو ارب چالیس کروڑ ڈالر کی تجارت ہوا کرتی تھی، اب صرف 80 کروڑ ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے۔ تجارت میں بہتری لاتے ہوئے دیگر معاملات، جن میں بھارتی مداخلت سرفہرست ہے، کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -