قوانین کی بجائے ذہنیت تبدیل کرائیں

قوانین کی بجائے ذہنیت تبدیل کرائیں
قوانین کی بجائے ذہنیت تبدیل کرائیں

  

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے پشاور کے دورے کے دوران کہا ہے کہ 1861ء میں بنائے گئے ملکی قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ عوام کو انصاف فراہم کرنا چاہتی ہے۔ جناب چیف جسٹس کے گوش گزار ہے کہ لوگوں کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قوانین کیا ہیں اور کب کے ہیں۔

انہیں فوری انصاف درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں قوانین کے پرانا ہونے یا نیا ہونے سے، لوگوں کو کیا سروکار؟ ویسے بھی پارلیمنٹ کے لوگوں کے پاس وقت بھی نہیں ہوتا۔

انگریز کے بنائے ہوئے قوانین کو ہماری پارلیمنٹ تبدیل کرے گی؟ ہماری پارلیمنٹ اپنے اراکین کی تن خواہوں، مراعات اور سہولتوں کے بل کسی تاخیر کے بغیر منظور کر سکتی ہے۔

ا نتخابی اصلاحات کے سلسلے میں جو قوانین اور ضابطے منظور کئے گئے ہیں، اس سے کہیں بہتر ہوتا کہ اراکین پارلیمنٹ یہ’’ تہمت ‘‘ اپنے سر ہی نہیں لیتے۔ پاکستان میں معاملات گھمبیر اس لئے ہیں کہ سرکاری محکمے اور افسران شکایت سننے اور انہیں بروقت حل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

حیدرآباد پریس کلب کے باہر روزانہ درجنوں ایسے لوگ آتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ پریس ان کا معاملہ اٹھائے تو شائد عدلیہ کے نوٹس میں آجائے۔ یہ معاملات معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں جنہیں ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی حل کرنے اور کرانے کی صلاحیت اور اختیار رکھتے ہیں۔

پاکستان بھر میں بنیادی مسئلہ قانون کی حکمرانی کا ہے اور اہم ترین مسئلہ بہتر طرز حکمرانی کا ہے۔ جناب چیف جسٹس نے چاروں صوبوں کو دورہ کر کے دیکھ لیا کہ وزراء اور اراکین اسمبلی کس انداز میں پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں۔

انہیں جب جب مسائل درپیش ہوتے ہیں وہ موجودہ قوانین میں ہی راستہ نکال لیتے ہیں۔ انہیں عوام کو درپیش مسائل سے کوئی غرض نہیں، حالانکہ یہ لوگ اپنے آپ کو عوام کا منتخب نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ اعلیٰ افسران، بااثر افراد بھی اطمینان بخش زندگی گزار رہے ہیں۔ عوام پینے کے صاف پانی کو ترستے ہیں، خالص دودھ کی قیمت ادا کرنے کے باوجود پانی ملا دود ھ ملتا ہے۔

سڑک پر پیدل چلنے والوں کو دوکانداروں کی قائم کردہ تجاوزات کا سامنا رہا ہے۔ شہر کے اندر اور شہروں کے درمیان سفر کرنے کی سہولتیں ناپید ہیں۔ شہروں میں رہائش کے لئے حکومتیں بلڈر مافیا کے ہاتھوں بر ضا یر غمال ہیں۔

اخبارات میں پلازوں کے اشتہار دیکھ کر لگتا ہے کہ اس ملک میں ایک ہی منفعت بخش کاروبار ہے جو رہائش کے لئے مکانات سے تعلق رکھتا ہے۔ کسی بھی شہر میں حکومت عام لوگوں کو رہائش کے لئے کم قیمت زمین فراہم کرنے میں سرے سے ناکام ہے۔

شہروں میں بلڈر بڑے رقبہ پر قائم پرانے مکانات خرید کر کسی معیار کے بغیر کثیر المنازل عمارتیں تعمیر کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

اس قسم کی تعمیرات پر نظر رکھنا جن کی قانونی ذمہ داری ہے وہ بلڈر سے پیسے لے کر ان کے کئے گئے غلط کاموں کی پردہ پوشی کردیتے ہیں۔ سکولوں میں بچوں کو پینے کا پانی نہیں ملتا۔

کوئی صفائی ستھرائی پر توجہ نہیں دیتا حالانکہ سرکاری ملازمین اس کام کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ کچرا مہینوں پڑا رہتا ہے، حد تو یہ ہے کہ سکولوں اور اسپتالوں کے باہر کچرا ڈپو بنا دئے گئے ہیں، نالیاں ابل رہی ہوتی ہیں، سامان یا کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے لوگ اپنا کاروبار کر کے چلے جاتے ہیں، اپنا کچرا سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔

سرکاری افسران یا دیگر لوگ بدعنوانیوں کے معاملات میں پکڑے جاتے ہیں لیکن بر وقت کارروائی نہیں ہو پاتی۔ لوگوں کو درپیش زیادہ تر مسائل کا تعلق بلدیاتی قوانین اور نظام سے ہے۔ امتحانات میں کامیابی کے باوجود بچوں کو پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں میں داخلے نہیں ملتے۔

تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ صورت حال کے بارے میں حکمران اور حکام شکایت سننے کے لئے وقت نہیں دے پاتے۔ اکثر و بیشتر معاملات اور شکایات کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہے ۔

بنیادی حقوق اور انسانی حقوق کے لئے سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس جناب محمد افضل ظلہ نے ڈسٹرکٹ جج حضرات کوذمہ داری سونپی تھی کہ انسانی حقوق کی شکایت کی سماعت کر لیا کریں۔ اگر اسی طرح ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ میں خصوصی جج نامزد کر دئے جائیں تو لوگوں کے مسائل کسی حد حل ہو سکتے ہیں۔

ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کوئی شخص اپنی شکایت پیش کرنا چاہے تو وکیل کی خدمات حاصل کرنے سے قاصر اس لئے رہتا ہے کہ وکلاء کی فیس کا مطالبہ پورا کرنا ان کے بس میں نہیں ہوتا ہے

وکلاء کو بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وسائل سے محروم اور مایوس لوگوں کی بھی سن لیا کریں ۔ از خود نوٹس کے معاملات ان خصوصی بنچوں کے سپرد کئے جا سکتے ہیں۔

عام لوگ جن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، اس کا اندازہ حکمرانوں کو اس لئے نہیں ہوپاتا کہ عوام کے ساتھ ان کے رابطے میں بیک وقت کئی رکاوٹیں موجود ہوتی ہیں۔

کسی صورت میں کسی عام شخص کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے صوبے کے وزیر اعلیٰ یا کسی وزیر سے ملاقات کر کے اپنے یا اپنے شہرکے کسی مسئلہ پر گفتگو کر سکے۔

اسے حکمران طبقہ جمہوریت قرار دیتا ہے اور یہ لوگ فرماتے ہیں کہ وہ عوام کی عدالت سے فیصلہ لیں گے۔ اس تماش گاہ میں وزیر اعظم ہوں یا وزرائے اعلیٰ یا وزراء ،جس انداز میں جمہوریت اور عوام کی عدالت سے منتخب ہو کر آتے ہیں، اس سے کوئی بے خبر نہیں ہے۔

قوانین کا عمل دخل اپنی جگہ ضرور ہوگا لیکن اصل معاملہ حکمرانوں اور حکام کی ذہنیت اور رویوں کا ہے جسے تبدیل کرنا ہوگا۔ جناب چیف جسٹس نے جس تیز رفتاری سے ازخود نوٹس لئے ہیں اور ان پر احکامات صادر کئے ہیں ، ان سے حکمران اور حکام کے کان ضرور کھڑے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے کو جاری رکھنے کی شدید ضرورت ہے۔ ازخود نوٹس کے بیشتر معاملات کا براہ راست عوام کے مسائل سے تعلق ہے۔

لوگ پولیس تھانے جاتے ہیں تو رپورٹ درج نہیں کی جاتی۔ مالک مکان پریشان کرتا ہے تو کوئی سننے والا نہیں ہے۔ پولیس قوانین میں تبدیلی ضروری تصور کی جاتی ہے لیکن جن معاملات میں پولیس کارروائی کرنے کا اختیار رکھتی ہے اس پر بھی کارروائی نہ ہونے میں قوانین کا کیا دخل ہے۔

مزید :

رائے -کالم -