پاکستان میں ’’انسداد پولیو‘‘ پروگرام کا آغاز

پاکستان میں ’’انسداد پولیو‘‘ پروگرام کا آغاز
پاکستان میں ’’انسداد پولیو‘‘ پروگرام کا آغاز

  

1994ئ میری زندگی کا ایک یادگار سال ہے اور رہے گا، جب مَیں نے پاکستان میں پنجاب سے بطور وزیرصحت ’’انسداد پولیو پروگرام‘‘ کا آغاز کیا۔ یہ مرض بہت ہی پرانا ہے۔

1580-1350ء قبل مسیح کے دور کے مصر، یونان، روم میں جو تصاویر پینٹ کی گئی تھیں یا دیواروں پر کندہ ہوئیں، ان میں اس مرض سے متاثرہ بچوں اور بڑوں کی تصاویر ملتی ہیں۔ دور جدید میں سنجیدگی سے اس کے انسداد کے لئے کوششیں شروع ہوئیں، حکمت عملی طے ہوئی۔ اقوام متحدہ میں باقاعدہ اس کے انسداد کے لئے Protocol پر رکن ممالک نے دستخط کئے ،جن میں پاکستان بھی شامل تھا، لیکن یہاں اسے کبھی اہمیت نہیں دی گئی، کیونکہ یہ حکومتوں میں شامل افراد کا مسئلہ نہیں تھا۔

آج بھی ذاتی مفادات کے لئے قانون سازی ترجیح ہے۔ 1994ء میں مَیں وزیرصحت بنا تو ناروے میں پاکستانیوں کی ایک تنظیم نے مجھے اوسلو آنے کی دعوت دی۔ ’’پاکستان ڈے‘‘ کے حوالے سے تقریبات ہو رہی تھیں۔ مَیں بھی ایک تقریب میں مہمان خصوصی تھا۔

وہیں مجھے پتہ چلا کہ مسلم لیگ سے وابستہ پاکستانیوں نے بھی ایک تقریب کا اہتمام کیا ہوا ہے۔ مَیں وہیں سے بن بلائے وہاں بھی جا پہنچا۔ ایک پیغام دینا مقصود تھا کہ سیاسی اختلاف رائے ہو سکتا ہے اور ہے۔رہے گا بھی، لیکن بنیادی طور پر ہم سب پاکستانی ہیں۔

میرے اس فیصلے کا سیاسی فائدہ بھی ہوا۔ وہاں ہمیں یعنی حکومت کو اتنا تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا،جتنا عام طور پر ایک دوسرے کو بنایا جاتا ہے۔

وہیں مجھے بتایا گیا کہ بھارتی لابی کی طرف سے ایک پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں بچوں میں ایک وائرس موجود ہے،جس کی وجہ سے ان کے پیر اور ٹانگیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ٹیڑھی ہو جاتی ہیں۔

میں نے وہیں سے اسلام آباد سے اطلاعات حاصل کیں۔ مجھے ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر محمد علی بارزگر نے، جو ایرانی ہیں، بتایا کہ یہ پولیو کی وجہ سے ہے اور دنیا بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں سے تقریباً 20فیصد پاکستان میں رپورٹ ہوتے ہیں (جو لوگ دم، درود، فقیروں سے دعا اور عطائیوں ،نیم حکیموں کے پاس جاتے ہیں، وہ اس کے علاوہ ہے) ۔۔۔ مَیں نے سفارت خانے کی معرفت ناروے کی وزیرصحت سے ملاقات کا شیڈول طے کیا(ناروے پاکستان کو امداد مہیا کرنے والے ممالک میں اہم ملک ہے جو نارڈک کے ذریعے ہمارے ملک کے علاوہ بھی پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو امداد مہیا کرتا ہے)۔

اگلے روز میں وقت مقررہ پر پہنچ گیا۔خاتون وزیر چند منٹ تاخیر سے تشریف لائیں اور معذرت کرتے ہوئے وجہ بتائی کہ وہ ٹرین سے آتی ہیں۔ ان کا دفتر اسٹیشن سے ذرا دور ہے، اس لئے انہوں نے سائیکل اسٹینڈ پر اپنی سائیکل کھڑی کی ہوتی ہے۔

اسٹیشن سے دفتر وہ سائیکل پر آتی ہیں۔ آج اسٹینڈ پر میری سائیکل جیسی 2/3 اور بھی کھڑی تھیں۔ مجھے اپنی سائیکل شناخت کرنے میں کچھ وقت لگا۔

مجھے احساس ہوا کہ ہماری معاشی، معاشرتی، ذہنی پسماندگی، بنیادی ضروریات سے محرومی، حکومتوں کی ترجیحات میں ذاتی مفادات کا تحفظ، پروٹوکول میں 40/50 گاڑیوں کا ہونا، صحت، تعلیم ،پینے کے صاف پانی جیسی سہولتیں ،بلکہ بنیادی حقوق کو نظر انداز کرنے کی وجہ کیا ہے؟

اگلے دن ہی میں نے ایک ’’میٹ دی پریس‘‘ تقریب کا اہتمام کیا۔ وہاں یہ سوال بھی کر دیا گیا کہ پاکستان میں بچوں میں جو خطرناک وائرس ہے، کیوں نہ وہاں سے واپس آنے والے خاندانوں کے ساتھ جو بچے ہوتے ہیں، انہیں قرنطینہ میں رکھا جائے؟ اس سے مجھے وضاحت کا موقع ملا کہ یہ کوئی وائرس نہیں ہے اور نہ ایک سے دوسرے کو منتقل ہو سکتی ہے۔

یہ پولیو کا مرض ہے اور میں احساس ندامت کے ساتھ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم نے اس طرف سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جلد ہی ہم انسداد پولیو پروگرام شروع کر دیں گے یا آپ میرے اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جانے کی خبر سن لیں گے، پڑھ لیں گے۔

چونکہ یہ پراپیگنڈہ بھارتی لابی کی طرف سے کیا جا رہا تھا۔ میں نے ان ممالک کا ذکر ڈبلیو ایچ او کے مستند حوالے سے جس میں یہ مرض موجود ہے، خاص طور پر بھارت کے اعدادوشمار کا بار بار ذکر کیا۔ وہاں سے واپسی پر پہلا کام یہ کیا کہ اس پروگرام کے آغاز کی تیاری کی۔ یہاں میں اس وقت کے تمام ساتھیوں کی بھرپور کاوشوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔

سیکرٹری سے لے کر ویکسی نیٹر تک سب نے اسے قومی فریضہ سمجھا اور نبھایا۔ کمشنرز کے ساتھ میٹنگز کیں۔ انہیں ہدایات دیں کہ وہ اپنے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلدار، پٹواری حضرات کے ذریعے یقینی بنائیں کہ مساجد میں باقاعدگی سے اعلان ہو کہ پولیو ہے کیا؟ اس کے اثرات کیا ہیں؟ اس سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھنا کتنا ضروری ہے؟ اور فلاں دن فلاں تاریخ فلاں جگہ بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں، جو انہیں اس مرض سے محفوظ رکھیں گے، پھر کسی بھی قسم کے منفی پراپیگنڈے سے بچنے کے لئے (جو بعد میں ہوا بھی اور آج بھی کبھی کبھی کہیں کہیں سنائی دیتا ہے) وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو سے درخواست کی، انہوں نے آصفہ کو قطرے پلاتے ہوئے فلم بنوائی جو دن میں بار بار ٹی وی پر دکھائی جاتی تھی۔

روٹری انٹرنیشنل جو اس پروگرام کا سب سے بڑا ڈونر تھا اور ہے۔ سی آئی ڈی اے کینیڈین ایجنسی جو ناروے کی نارڈک کی طرح پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو امداد مہیا کرتی ہے۔

عرب امارات نے اس کے لئے فنڈز مہیا کئے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر محمد علی بارزگر، یونیسف کے کنٹری ڈائریکٹر جم میری اور یونیسف کی کینیڈین نژاد مسز جینتھ نے بھرپور تعاون کیا۔ ہمارے تاجر حضرات نے بینرز عطیہ کئے۔

کولڈ چین مکمل کی گئی، کیونکہ ویکسین کو ٹھنڈی جگہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ائرپورٹ، ریلوے اسٹیشن، بس اڈہ ،گلیوں، محلوں میں کیمپ بنائے گئے اور دن رات ہر مرحلے کی ذاتی نگرانی کرتا رہا۔ میڈیا نے بھرپور تعاون کیا۔

مقررہ تاریخ کو پریس کلب کے دوستوں کو ساتھ لیا اور وائرلیس بند کرکے اپنی گاڑی کی چابی انہیں دے دی کہ جہاں جانا چاہیں، چلیں تاکہ ایک تو یہ نہ ہو کہ ہم ایسی جگہ لے جائیں، جہاں اچھا انتظام ہو۔

دوسرا مجھے جہاں جہاں کمزوری اور خامیوں یا اسے مزید بہتر بنانا مقصود ہو، اس کا علم ہو جائے اور اگلے سال کے لئے انہیں دور کرکے اسے اوربہتر بنایا جائے۔ ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کے نمائندے ساتھ رہے۔ جہاں جہاں ہم گئے یا ایسے کہہ لیں کہ پریس کے دوست مجھے لے کر گئے ۔ اللہ کا شکر ہے۔

شرمندگی یا ندامت نہیں ہوئی۔ اس سارے عمل میں ایک اور حقیقت سامنے آئی کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے باوجود مسجد آج بھی کمیونیکیشن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

ایک گاؤں میں پریس کے دوست لے گئے۔ گلیوں میں پھرتے (یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سارے دورے میں ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کے نمائندے ساتھ تھے) ۔۔۔ایک دکان پر ایک ادھیڑ عمر خاتون سبزیاں، دالیں، چائے چینی وغیرہ بیچ رہی تھی، اس سے پوچھا کہ آج کے دن کی کیا اہمیت ہے۔

جواب یہ تھا کہ آج اس دن قطرے پلائے جا رہے ہیں، جس سے ہمارے بچے تندرست و توانا رہیں گے اور معذوری سے محفوظ رہیں گے۔ سوال کیا گیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے۔ جواب تھا ہر روز مسیتے(مسجد) اعلان ہوندا سی۔

یہ ہے داستان کہ پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام کب اور کیسے شروع ہوا اور کس کے حصے میں اللہ پاک نے یہ سعادت اور اعزاز دیا۔مَیں نے ایک ویژن دیا اور اس پروگرام کو اس کا حصہ بنایا۔۔۔ "Health For all By Year 2000"، ۔۔۔جس کے تحت ہیلتھ ورکرز پروگرام، ہیلتھ ایجوکیشن ٹی بی کنٹرول، ایڈز آگاہی کنٹرول پروگرام، کم از کم بنیادی ضروریات کی فراہمی پروگرام، نمک میں آیوڈین شامل کرنا۔

تہران کے اس وقت کے میئر (بعد میں صدر) احمدی نژاد سے ملاقات کے بعد صحت مند ٹیم کا پروگرام پائپ لائن میں تھا۔پیپلزفارمیسی، ہسپتال کے اندر ہی ضروری ادویات کی چوری روکنے اور مارکیٹ سے کم قیمت پر فراہمی، محفوظ اور صاف خون کی منتقلی جیسے پروگرام شروع کئے۔

ان اصلاحات کی تصدیق اور Recognize کرنے کے بعد ہمیں ڈبلیو ایچ او کی طرف سے گولڈ میڈل دیا گیا جو ایک سال میں ایک ملک کو دیا جاتا ہے، لیکن ہوتا وہی ہے جو ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا(اللہ نہ کرے) ۔۔۔ہر نئی حکومت پہلے سے جاری پروگرام یا تو بند کر دیتی ہے یا مکمل نہیں کئے جاتے۔ آج بھی بہت سے ہسپتال، سکول، کالج، سڑکیں اسی غفلت کا شکار ہو کر نامکمل ہیں۔

ٹی وی چینل اور اخبارات زیادہ ہونے کی وجہ ’’فوٹو پروگرام‘‘ کی طرف توجہ دیتی ہے زمینی حقائق مختلف ہوتے ہیں۔ میرے بعد انسداد پولیو پروگرام بھی اسی جوش و جذبے سے شروع نہ رکھا گیا، نتیجتاً آج بھی افغانستان اور نائیجیریا کے ساتھ وطن عزیز پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے، جہاں پولیو کے کیسز سامنے آتے رہے ہیں، آ رہے ہیں۔ بہرحال میں نے اپنے حصے کی اینٹ رکھ کر ابتدا کر دی تھی۔

آج بھی جب میں ہنستے بستے کھیلتے کودتے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو فخر بھی ہوتا ہے اور آنکھوں میں تشکر کے آنسو بھی آ جاتے ہیں کہ اللہ پاک نے اس سعادت اور اعزاز کے لئے میرا انتخاب کیا۔

بے اختیار دعا نکلتی ہے کہ میرے وطن کا ہر بچہ اسی طرح کھیلتا کودتا رہے اور میرا وطن بھی اسی طرح خوشحالی، مضبوط، سلامتی اور سالمیت کے ساتھ تاقیامت قائم و دائم رہے۔ سیاسی، جمہوری، معاشی، معاشرتی استحکام مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے۔ ثم آمین

مزید :

رائے -کالم -