تگڑی پارلیمنٹ، نواز شریف کانیا بیانیہ

تگڑی پارلیمنٹ، نواز شریف کانیا بیانیہ
تگڑی پارلیمنٹ، نواز شریف کانیا بیانیہ

  

نواز شریف ایک طرف کہتے ہیں ان کی زبان بند کردی گئی ہے اور دوسری طرف وہ جو چاہتے ہیں کہہ بھی دیتے ہیں اور نشر بھی ہوجاتی ہے، لندن سے واپسی پر احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بعد انہوں نے اس قسم کی باتیں کیں اور وہ براہ راست عوام نے دیکھ اور سن بھی لیں، پس ثابت ہوا کہ لاہور ہائی کورٹ نے پیمرا کو عدلیہ مخالف بیانات سے روکنے کا جو حکم دیا تھا وہ نواز شریف کے لئے نہیں تھا، خیر میاں صاحب کا یہ بیانیہ تو اب پرانا ہوچکا ہے، جو نئی بات انہوں نے پیشی کے موقع پر کی وہ یہ تھی کہ موجودہ پارلیمنٹ تگڑی نہیں تھی، اس لئے اپنی طاقت نہیں منوا سکی اگلی پارلیمنٹ تگڑی آئے گی تو مسائل پر قابو پا لے گی، یہ نیا مؤقف ہے جو نواز شریف کی طرف سے سامنے آیا ہے، پہلے انہوں نے کمزور یا تگڑی پارلیمنٹ کی بحث نہیں چھیڑی، پہلے تو وہ یہی کہتے رہے کہ پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیا جاتا، وہ اسٹیبلشمنٹ کو الزام دیتے رہے کہ وہ پارلیمنٹ کی خود مختاری پر شب خون مارتی ہے، مگر اب وہ یہ تھیسز سامنے لائے ہیں کہ پارلیمنٹ کمزور تھی، اس لئے وزیراعظم کومدت پوری نہیں کرنے دی گئی، نئی پارلیمنٹ تگڑی آئے گی اور خود کو سپریم تسلیم کرالے گی، پارلیمنٹ کمزور یا تگڑی کیسے ہوتی ہے، اس بارے میں انہوں نے وضاحت نہیں کی، کون سی چیز ہے جو پارلیمنٹ کو کمزور کرتی ہے اور کون سی مضبوط بنا دیتی ہے، اس کا پیمانہ انہوں نے نہیں بتایا۔

جس پارلیمنٹ کو وہ کمزور کہہ رہے ہیں وہ تو بظاہر بہت مضبوط تھی، مسلم لیگ ن کو اس میں واضح اکثریت بھی حاصل تھی اور اب بھی حاصل ہے، وہ جو قانون منظور کرانا چاہتے کراسکتے تھے، مگر انہوں نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی، البتہ جب وہ نا اہل ہوگئے تو انہوں نے اپنی جماعت کو اشارہ کیا کہ انہیں پارٹی صدر بنانے کے لئے ترمیم کی جائے، وہ حکم بھی بجا لایا گیا، ان کے لئے قانون میں تبدیلی کردی گئی، وہ دوبارہ صدر بھی بن گئے لیکن یہ ترمیم سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دی، کیونکہ اس میں واضح طور پر ایک شخص کو فائدہ پہنچانے کی نیت ثابت ہوگئی تھی، سو پارلیمنٹ تو مضبوط تھی اور ہے لیکن اس کا استعمال اجتماعی مفاد میں نہیں کیا گیا، میاں صاحب نے تگڑی پارلیمنٹ کا نظریۂ پیش کرکے ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے، کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایک ایسی پارلیمنٹ وجود میں آئے جو آئین سے بھی بالا تر ہوکر فیصلے کرے، پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار تو خود آئین دیتا ہے، لیکن آئین کے بنیادی ڈھانچے کی چولیں ہلانے کا اختیار تو کسی کے پاس نہیں، 62 ون (ایف) اگر آئین کا حصہ ہے تو کسی شعبدہ بازی سے اس شخص کو ریلیف نہیں دیا جاسکتا جو اس کی زد میں آکر نا اہل ہوچکا ہے، میاں صاحب نے دو بیانیے دیئے ہیں، پہلے بیانیے میں وہ ووٹ کو عزت دو کا فیصلہ لائے اور دوسرے میں اب انہوں نے مضبوط اور تگڑی پارلیمنٹ کی بات کردی ہے، ان کے یہ دو بیانیے ہی اپنے اندر کئی سوالات لئے ہوئے ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ تضادات نے ان کی یہ دونوں باتیں غیر مؤثر کردی ہیں۔

مثلاً ووٹ کو عزت دو والا معاملہ اس نکتے پر آکر الجھ گیا ہے کہ جب تک آپ ووٹر کو عزت نہیں دیں گے، ووٹ کو عزت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا، کیا یہ ہماری جمہوریت کی سب سے بڑی خامی نہیں کہ اس میں ووٹ لینے کے بعد ووٹرز کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔

دنیا کے کسی مہذب جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ نے جن وعدوں پر عوام سے ووٹ لئے ہوں، اقتدار میں آنے کے بعد انہیں بھلا دیں، پاکستانی جمہوریت کی یہ خامی تو بہت پرانی ہے، بھٹو جیسا مقبول ترین لیڈر بھی روٹی، کپڑا اور مکان کا اپنا انتخابی وعدہ پورا نہیں کرسکا تھا، میاں صاحب نے 2013ء کے انتخابات سے پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آکر چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے، آج نئے انتخابات ہونے کو ہیں مگر لوڈشیڈنگ اپنے عروج پر ہے، سو ووٹرز کی عزت تو تبھی ہوسکتی ہے، جب ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کا بھرم بھی رکھا جائے، اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو کیسا ووٹ کا تقدس اور کہاں کی عزت، جہاں تک مضبوط اور تگڑی پارلیمنٹ کا تعلق ہے تو خود اقتدار میں آنے والے لوگ اسے مضبوط نہیں ہونے دیتے، اس سوال پر غور کریں کہ پارلیمنٹ مضبوط اور تگڑی کیسے ہوتی ہے؟ اس کا جواب یہ نہیں کہ فوج، عدلیہ یا اسٹیبلشمنٹ اس کے کام میں مداخلت نہ کریں تو پارلیمنٹ مضبوط ہوجاتی ہے، اس کا اصل جواب یہ ہے کہ جب پارلیمنٹ کو حکومتی امور چلانے میں اہمیت دی جاتی ہے، قائد ایوان یعنی وزیراعظم اپنے فیصلوں کی اجازت پارلیمنٹ سے لیتا ہے یا کئے گئے فیصلوں کی توثیق پارلیمنٹ سے کراتا ہے، تو پارلیمنٹ تگڑی ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تو معاملہ ہمیشہ اس کے الٹ رہا ہے، پارلیمنٹ کو تو ربڑ سٹیمپ بنا دیا جاتا ہے، سارے فیصلے بالا بالا کئے جاتے ہیں، پارلیمنٹ کے اجلاس صرف آئینی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہوتے ہیں، ان میں حکومتی معاملات کو زیر بحث ہی نہیں لایا جاتا۔

خود نواز شریف نے موجودہ اسمبلی اور سینٹ کو کتنی اہمیت دی، جب انہوں نے اہمیت ہی نہیں دی تو پارلیمنٹ تگڑی کیسے ہو جاتی، وہ صرف 6 بار قومی اسمبلی میں گئے، سینیٹ میں انہیں لانے کے لئے قراردادیں منظور کی گئیں، جب خود ہم اپنے منتخب اداروں کا احترام نہیں کریں گے تو یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ ریاست کے باقی سب ادارے پارلیمنٹ کے گُن گانے لگیں، موجودہ پارلیمنٹ میں حکومت کی خارجہ، داخلہ اور اقتصادی پالیسیاں کتنی بار زیر بحث آئیں، جس قومی اسمبلی کا اسپیکر وزراء کے نہ آنے پر اسمبلی سے بائیکاٹ کرجائے، اس کی توقیر کیسے ہوگی، پارلیمنٹ کی پانچ سالہ کارروائی اٹھا کر دیکھیں تو آدھے سے زیادہ اس میں یہ مسئلہ درپیش ہوگا کہ کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس ملتوی کردیا گیا، حکومت نے جتنے بڑے معاہدے کئے ان میں سے کسی ایک کو بھی اسمبلی میں نہیں لایا گیا، آج تک اپوزیشن یہ مطالبہ کرکے تھک گئی کہ ایل این جی کا معاہدہ ایوان میں پیش کیا جائے مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی، پارلیمنٹ کو اگر تمام اداروں کی ماں ثابت کرنا ہے تو پہلے اسے خود حکومت اپنی ماں تسلیم کرے، کیونکہ اس کا تو تعلق بھی براہ راست ہوتا ہے، لیکن حکومت ہمیشہ پارلیمنٹ سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کرتی ہے، وزیراعظم اور وزراء اجلاسوں میں آنا کسر شان سمجھتے ہیں، وہ مطلق العنان حکمرانی چاہتے ہیں، جس میں انہیں پارلیمنٹ سمیت کسی کے سامنے جوابدہ نہ ہونا پڑے، کیا یہ سامنے کی بات نہیں کہ ارکان اسمبلی یہ دہائی دیتے پائے گئے کہ ان کی پوری مدت کے دوران ایک بار بھی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات نہیں ہوئی، پارلیمنٹ تو خیر دور کی بات ہے، فیصلوں سے پہلے کابینہ کے اجلاس تک منعقد نہیں کئے جاتے تھے، جس پر سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ دینا پڑا کہ وزیراعظم آئین کے تحت اکیلے کچھ نہیں بلکہ ان کا اپنے فیصلوں کی کابینہ سے منظوری لینا ایک آئینی تقاضا ہے، گویا خود آئین کے اندر یہ موجود ہے کہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کس طرح مستحکم و تگڑی ہوسکتی ہے۔

آپ پنجاب کی مثال لے لیں، یہاں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اسمبلی کو کتنا وقت دیا ہے، کتنے فیصلے اسمبلی کی منظوری سے کئے ہیں، یا اپنے کتنے فیصلوں پر اسمبلی کو اعتماد میں لیا ہے، جمہوریت کو اگر آپ ون مین شو کی طرح چلاتے ہیں تو وہ پانی پر تیرنے والی کاغذی کشتی کے سوا کچھ نہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے میں 56 پرائیوٹ کمپنیاں بنا کر اربوں روپے کے منصوبے شروع کئے، ان کی پنجاب اسمبلی سے منظوری لی اور نہ ہی اعتماد میں لیا، اسمبلی سے جو بجٹ منظور کرایا اس میں ان کا ذکر تک نہیں کیا اور بالا بالا اتنے بڑے فیصلے کئے گئے، جب قائدِ ایوان اپنی ہی اس اسمبلی کو اہمیت نہ دے جس نے اسے وزیراعظم یا وزیراعلیٰ بنایا ہے تو اس کی عزت دوسرے کیوں کریں گے۔

اگر سیاسی جماعتیں واقعتاً یہ چاہتی ہیں کہ پارلیمنٹ مضبوط ہو تو انہیں باہر کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی طرف دیکھنا چاہئے کہ وہ پارلیمنٹ کو کتنی اہمیت دیتی ہیں، نظامِِ حکومت چلانے میں پارلیمنٹ کو جتنی زیادہ اہمیت دی جائے گی، اتنا ہی وہ مضبوط، خود مختار اور تگڑی ہوجائے گی، یہاں تو یہ حال ہے کہ خود سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کو لولی لنگڑی اور بے اختیار کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں، نواز شریف پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ ضرور لگائیں مگر اس بات کو نہ بھولیں کہ انہوں نے خود کبھی اس نعرے کو عملی شکل دینے کی کوشش نہیں کی۔

مزید :

رائے -کالم -