مسلم ممالک کے مشترکہ عسکری بلاک

مسلم ممالک کے مشترکہ عسکری بلاک
مسلم ممالک کے مشترکہ عسکری بلاک

  

کہنے کو تو دنیا میں مسلم ممالک کی تعداد57ہے۔ لیکن ان میں صرف نصف درجن ملک ہی ایسے ہیں جو کسی شمار قطار میں آتے ہیں، باقی صرف ٹوٹل پورا کرتے ہیں۔

ان نصف درجن مسلم ممالک میں ترکی، پاکستان، ایران، مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور ان تین عرب بڑے بڑے ملکوں کا گروپ ہے جو امارات، قطر اور بحرین کہلاتے ہیں۔

ان کی اہمیت بھی بالترتیب وہی ہے جو سطورِ بالا میں لکھی گئی ہے۔

ترکی ان ممالک میں نسبتاً جدید تر اور طاقتور ملک ہے اس کا 95 فی صد رقبہ اگرچہ ایشیاء میں ہے اور صرف 5فی صد یورپ میں ہے لیکن یہ ملک اپنے آپ کو یورپی ممالک میں شمار کرتا ہے۔ ناٹو کا ممبر ہے۔

اس کی فضائیہ اور بحریہ امریکی اسلحہ سے لیس ہیں۔ اس کی آرمی بھی جدید شمار ہوتی ہے اوریہ صنعت و حرفت میں بھی باقی ممالک سے بہت آگے ہے۔

اس کے جنوب مغرب میں ایک فضائی مستقر ہے جس کوانسرلک (Incirlik) بیس کہا جاتا ہے اور جو امریکہ کے ڈی فیکٹوکنٹرول میں ہے اور جس میں امریکی جوہری بم ذخیرہ ہیں۔ افریقہ، جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا کو چھوڑ کر امریکہ نے اپنا جوہری اسلحہ کئی یورپی اور ایشیائی ممالک میں رکھا ہوا ہے۔

بحرالکاہل اور بحرہند کے جزیروں مثلاً ہوائی، گوام اور ڈیگو گارشیا میں اس کے جوہری اثاثے موجود ہیں یعنی جوہری وارہیڈز بھی ہیں اور ان کے گراؤنڈ ڈلیوری سسٹم بھی موجود ہیں۔

ان کے علاوہ اس کی 18جوہری آبدوز ہیں جن میں سینکڑوں ایٹمی اور ہائیڈروجن بم بالکل تیار حالت میں نصب ہیں۔ یہ کشتیاں زیرِ آب دنیا کے بڑے چھوٹے سمندروں میں آتی جاتی رہتی ہیں۔

علاوہ ازیں امریکہ کے خلائی اثاثے بھی چند درچند ہیں اور گوابھی تک خلا میں کسی جوہری اسلحہ کی موجودگی کی کوئی خبر دنیا کے سامنے نہیں آئی لیکن کون جانے وہاں بھی ان بموں کا ذخیرہ موجود ہو۔۔۔۔ یہی فوجی قوت ہے جو امریکہ کو پون صدی سے دنیا کی واحد سپریم قوت بنائے ہوئے ہے۔

ہم اسلامی ملکوں کی بات کررہے ہیں۔۔۔۔ ترکی کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ اس کے پاس جوہری وارہیڈز بھی ہیں اور ان کے ڈلیوری سسٹم بھی موجود ہیں۔ اس کی تینوں افواج عالمی پیمانے کے کسوٹی پر پرکھیں تواگرچہ دوسرے درجے پر آتی ہیں لیکن جنگ آزمودہ ہیں اور جنوبی ایشیا کے اس خطے میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔۔۔ پاکستان کے بعد ایران ہے جو بڑی تیزی سے پاکستان کی برابری بلکہ اس سے آگے نکلنے کے لئے تمنا اور تگ و دو کررہا ہے۔ اگرچہ فی الحال اس کے پاس جوہری اہلیت نہیں لیکن ماہرین کا اندازہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ آئندہ پانچ سات برسوں میں اس قابل ہو جائے گا کہ ایک محدود پیمانے کی جوہری صلاحیت حاصل کرلے۔ ڈلیوری سسٹم میں اس کے پاس میزائلوں کا بھی ایک قابلِ لحاظ ذخیرہ ہے۔

تیل اور گیس کے ذخائر کے بل بوتے پر اس کی آرمی اور نیوی گزشتہ 15برسوں سے عراق، شام اور لبنان اور یمن میں پراکسی وار لڑتی رہی ہیں اورخاصا جنگی تجربہ حاصل کرچکی ہیں، روس سے اس کے دوستانہ تعلقات ہیں جن کی بنا پر اس کا مستقبل روشن ہے۔۔۔۔ کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لئے کسی نہ کسی ورلڈ پاور کی چھتری ناگزیر ہے۔

مصر کو عرب اسرائیلی جنگوں کا تجربہ ہے لیکن اس نے 1973ء کے بعد سے لے کر اب تک کوئی جنگ نہیں لڑی اور نہ ہی اسے کس پراکسی جنگ کا کوئی تجربہ ’’نصیب‘‘ ہوا ہے۔ آج بظاہر مصر کا کوئی دشمن بھی نہیں، اس لئے جنگی تیاریوں کے اعتبار سے وہ بھی ایک تیسرے درجے کی فوجی قوت ہے۔

انڈونیشیا کی افواج اگرچہ تعداد اور اسلحہ کے لحاظ سے قابل توجہ ہیں لیکن اس کابھی چونکہ کوئی دشمن نہیں اس لئے اس کی جنگی آمادگی(War Prepardness) بھی کوئی اتنی قابلِ ذکر نہیں۔

سعودی عرب اور امارات وغیرہ کے پاس تیل کی دولت کی ریل پیل ہے اور بیرونی ملکوں سے خریدے گئے اسلحہ کے بڑے بڑے انبار بھی ہیں لیکن ان کی افواجِ ثلاثہ ان اسلحہ جات سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھاسکتیں کیونکہ ان کا پیشہ ورانہ عسکری علم و فضل اور ٹریننگ تیسرے درجے کے اسلامی ممالک سے بھی کمتر ہے۔

میں اپنے کالموں میں کئی بار اس حقیقت کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرا چکا ہوں کہ درج بالا چھ ممالک میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو جوہری اہلیت کا حامل ہے، جس کی اسلحہ سازی کی اساس رفتہ رفتہ ترقی کی منزلیں طے کررہی ہے۔

تینوں افواج کے جدید ہتھیاروں یعنی ٹینکوں، توپوں، طیاروں، آبدوزوں اور بحری جنگی جہازوں میں استعمال ہونے والے ایمونیشن ملک کے اندر بنائے جارہے۔

پچھلے کئی برسوں سے اگرچہ ہمیں دہشت گردوں کے ساتھ خونریز مقابلوں سے گزرنا پڑا ہے اور ہماری افواج، دیگر سیکورٹی فورسز اور سویلین آبادی نے بے دریغ جانوں کی قربانیاں دی ہیں لیکن اگر یہ نہ دی جاتیں تو ہمارا حشر بھی عراق، لیبیا، شام اور افغانستان جیسا ہوتا۔۔۔۔

امریکی اور ناٹو افواج کو روسی اور چینی افواج پر ایک پروفیشنل برتری یہ بھی حاصل ہے کہ جہاں اول الذکر افواج وقفے وقفے سے بالخصوص برا عظم ایشیا میں( کوریا، ویت نام، افغانستان، عراق اور شام) مختصر اور طویل دورانیے کی جنگیں لڑتی رہی ہیں وہاں روس اور چین کی افواج کو ’’زندہ معرکوں‘‘ میں کودنے کاموقع نہیں ملا۔ کچھ روز پہلے امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مل کر شام پر جو ’’مختصر سا‘‘ حملہ کیا ہے اس کے کون و مکاں(Time and Space)کا سکیل اگرچہ بہت کم تھا لیکن ان تینوں ناٹو ممالک نے اپنے میزائلوں، طیاروں اور ان کے اسلحہ جات کو اس زندہ (Live) حملے میں آزما کر دنیا پر ثابت کیا کہ ان کے جدید اسلحہ جات جنگ آزمودہ (War Tested) ہیں۔ ان کے مقابلے میں روس کا وہ طیارہ شکن نظام جس کو S-400 کہا جاتا ہے اس کی موجودگی اگرچہ شام کے شہروں میں بتائی جاتی ہے لیکن اس کو ’’آزمایا‘‘ نہیں گیا۔ معلوم نہیں اس کی وجوہات کیا تھیں۔

کیا تیسری عالمی جنگ کا خطرہ تھا؟ اگر تھا تو اس کا رسک اگر مغربی طاقتیں لے رہی ہیں تو روس کو بھی لینا چاہئے تھا۔ اور جہاں تک چین کا تعلق ہے تو اس کی وارٹیکنالوجی اور اس کو آزمانے کی رسائی بحیرۂ چین سے نکل کر بمشکل بحرہند اور جی بوٹی(Horn of Africa)تک پہنچی ہے۔۔۔۔ ناٹو کا مقابلہ کرنے کے لئے چینی افواج کو ابھی کافی وقت لگے گا!

چاہئے تو یہ تھا کہ 1990-91ء میں سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے سقوط کے بعد ناٹو افواج کو بھی ساقط کردیا جاتا کیونکہ اس کا قیام وار ساپیکٹ فورسز کے مقابلے کے لئے عمل میں لایا گیا تھا۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ناٹو کو نہ توڑنا مغربی دنیا کی، اشتراکی بلاک پر ایک بڑی سبقت تھی۔ روس چونکہ اپنی ہم خیال 15 ریاستوں کو نہیں سنبھال سکا تھا اس لئے ان کو آزاد کردیا گیا اور خود بھی ان کے اضافی بوجھ سے آزاد ہوگیا۔ لیکن ان ممالک میں چند ریاستیں ایسی بھی تھیں جہاں سوویت یونین نے اپنی اسلحہ ساز فیکٹریاں لگا رکھی تھیں۔

ان میں یوکرائن کی حیثیت سب سے ممتاز تھی کہ یہاں جدید روسی ٹینک اور بکتربند گاڑیوں (APCs)وغیرہ بنانے کے بڑے بڑے کارخانے تھے۔

ان میں ٹیکنیکل اہلیت کی حامل ورک فورس بھی یوکرائن کے رہنے والوں ہی پر مشتمل تھی اس لئے یوکرائن، پولینڈ اور قازقستان وغیرہ کے آزاد کرنے سے روس کو عسکری میدان میں مغربی دنیا کے مقابلے میں نقصان اٹھانا پڑا۔

یوکرائن کے علاوہ قازقستان وہ ملک تھا جس میں رشین خلائی سیاروں کی لانچنگ کے لئے زمینی سہولیات تعمیر کی ہوئی تھیں اس کو آزاد کرنے میں بھی روس کو نقصان ہوا۔

تاہم اگرچہ وہ بہت جلد اس میدان میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا اور اس نے قازقستان سمیت دوسری وسط ایشیائی ریاستوں میں اپنے گزشتہ اثرورسوخ کو ازسرنو بحال کرلیا اور ان میں موجود جدید عسکری تنصیبات کا استعمال بھی کرنے لگا، لیکن ایک اور نقصان جو 1991ء کے سقوط میں روس کو اٹھانا پڑا وہ وارسا پیکٹ افواج کے درمیان سابقہ پروفیشنل انٹر ایکشن سے محرومی تھی۔

کسی بھی بڑے ملٹری بلاک کی افواج میں چونکہ مختلف زبانوں، اسلحہ جات اور ٹریننگ کے طریقے اور (SOPs) مختلف ہوتے ہیں اس لئے اگر اس بلاک کے ممالک کو کسی جنگ میں اکٹھے کودنا پڑے تو لسانی اختلافات کے علاوہ بھی اور بہت سی Drills ایسی ہوتی ہیں جن کو ایک صفحے پر لانا مشکل ہوتا ہے۔۔۔ آج سعودی عرب میں ایک سابق پاکستانی آرمی چیف کی کمان میں جو مسلم افواج جمع ہیں ان میں ایک بڑا مسئلہ اور مشکل جو پیش آرہی ہے وہ عسکری طریقہ ہائے کار(SOPs) اور زبانوں کا اختلاف بھی ہے۔

عرب ممالک کی افواج کی زبان عربی ہے (اور اگر ایران بھی ان میں شامل ہوجاتا تو ایرانی مسلح افواج کی زبان فارسی ہے) پاک افواج نہ عربی سے واقف ہیں، نہ فارسی سے۔

(میرا اشارہ پروفیشنل لغت کی طرف ہے)چنانچہ اس اسلامی عسکری بلاک کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے ان میں ایک بڑی مشکل یہی لسانی مشکل ہے۔

اسلامی دنیا( مسلم امہ) نے اس موضوع پر بہت کم غورو خوض کیا ہے کہ جب تک مختلف افواج میں لسانی یکتائی (One-ness) نہیں ہوگی وہ کسی بھی جنگی معرکے میں اکٹھے مل کر شرکت نہیں کرسکیں گی۔

سرد جنگ ختم ہوئی تو چھوٹے مغربی ممالک کو دوخطرات و مشکلات کا سامنا تھا۔۔۔۔ پہلی مشکل یہ تھی کہ وہ اکیلے روسی حملے کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اور دوسری مشکل زبانوں کے اسی اختلاف کی تھی۔

ان مشکلات کا احساس دوسری عالمگیر جنگ میں روس سمیت دوسرے تمام یورپی ممالک کو ہوچکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب امریکہ نے ناٹو کو توڑنے کے سوال پر یورپی ممالک سے بات چیت کی تو انہوں نے ناٹو کو باقی رکھنے اور اس میں اپنی شمولیت کا فوری اظہار کردیا۔

آج اسی وجہ سے ناٹو ممالک کی تعداد 28تک پہنچ چکی ہے۔ وہ چھوٹے یورپی ممالک جن کو اپنے دفاع کا خطرہ تھا وہ اب ایک حد تک اس خطرے سے باہرآ چکے ہیں کیونکہ ان کے اپنے ملک میں ناٹو افاج کی بڑی بڑی مشقیں چلتی رہتی ہیں۔

ان ناٹو افواج کی پروفیشنل لسانی مشکلات کا حل بھی یہی نکالا گیا کہ ناٹو افواج کو آپریشنل موضوعات پر ایک مشترک زبان میں ٹریننگ دے کر ان کو ’’زندہ‘‘ (Live)جنگ میں ٹیسٹ کیا جائے۔

ہم جانتے ہیں کہ امریکہ، فرانس، پولینڈ، ڈنمارک، ناروے، ہالینڈ اور سویڈن وغیرہ کی زبانیں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ لیکن ناٹو ممالک کے فوجی کمانڈروں اور سویلین لیڈرشپ کو داد دینی چاہئے کہ انہوں نے ملکی دفاع کو سماجی اور لسانی اختلافات پر مقدم جانا۔

آج یہ تمام28ممالک ایک ہی عسکری زبان(انگلش)کو فالو کررہے ہیں۔ افغانستان، عراق، شام اور لیبیا کی پراکسی جنگوں میں ناٹو ممالک نے ہر طرح کے جنگی آپریشنوں کا ’’زندہ‘‘ تجربہ کیا اور ناٹو کو اس لسانی محاذ پر بھی بکھرنے نہیں دیا۔۔۔۔

آج مسلم ممالک کی متحدہ اور مشترکہ افواج کو درج بالا دونوں مشکلات کا سامنا ہے۔ دیکھتے ہیں یہ مسلم بلاک ناٹو کی تقلید کرسکتے ہیں یا نہیں!

مزید :

رائے -کالم -