کشمیری 70سال سے قربانی دے رہے ہیں ، کشمیر پاکستان کیلئے دل کی لکیر ، جغرافیائی نظریاتی اساس اسی سے جڑی ہے عسکری ماہرین تجزیہ کار

کشمیری 70سال سے قربانی دے رہے ہیں ، کشمیر پاکستان کیلئے دل کی لکیر ، جغرافیائی ...

  

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) ممتاز دانشوروں ،عسکری ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کے لیے دل کی لکیر کی حیثیت رکھتا ہے پاکستان کی جغرافیائی اور اور نظریاتی اساس کشمیر سے جڑی ہے۔ہمیں کشمیریوں کے لیے ملکر کھڑے ہونا ہے۔پاکستانیوں کے لیے کشمیری 70 سال سے قربانی دے رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار فلیٹیز ہوٹل میں پاکستا ن نیشنل فورم کے زیر اہتمام کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف منعقدہ کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا گیا۔ تقریب میں علما، صحافی اور مفکرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس میں روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی، اوریا مقبول جان ،کیپٹن (ر)کریم اللہ خان، جسٹس (ر)شیخ ریاض احمد ، لیفٹینیٹ جنرل ندیم اعجاز ،لفٹینیٹ جنرل (ر)نصیر اختر ،پی سی بی کے سابق چیئرمین خالد محمود اور دیگر افراد نے شرکت کی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ ہم نے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اجاگر نہیں کیا ، ہم عرصہ دراز سے اندرونی مسائل میں الجھے رہے اور دوبارہ سکیورٹی کونسل میں مسئلہ پیش نہ کر سکے۔ جب بھی مسئلہ کشمیر پر مذاکرات پر کا کوئی ماحول بنتا ہے تو دو طرفہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو جاتے ہیں۔ کشمیر پاکستان کے لیے دل کی لکیر کی حیثیت رکھتا ہے پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی اساس کشمیر سے ہی جڑی ہے اس لئے ہمیں کشمیریوں کے ساتھ کر مل کر کھڑے ہونا ہے۔ اوریا مقبول جان نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو بھارت کے وجود سے علیحدہ کر کے بھارت’’بلیو آئیڈ بوائے ‘‘بن چکا ہے ، پاکستانیوں کے لیے کشمیری 70 سال سے قربانی دے رہے ہیں۔ایک غیر ملکی محقق کے مطابق 2006 ء میں ہونے والا ممبئی کاحملہ بھارت اور اسرائیل کا مشترکہ منصوبہ تھا۔ایک مندر میں آصفہ سے بد اخلاقی کی جاتی ہے اوروہاں کی تمام خواتین بھوک ہڑتال کرتی ہیں کہ ملزم کو چھوڑ دیا جائے۔ ہم معاہدہ شملہ کو ابھی تک گھسا رہے ہیں اور نئی کوشش نہیں کرتے نہ ہی کشمیریوں کے لیے اس طریقے سے آواز بلند کرتے ہیں جو کہ انکا حق ہے۔لفٹینیٹ جنر ل ( ر)نصیر اختر نے کہا کہ کشمیر کو سب سے زیادہ عالمی طور پذیرائی ملی جب پر تحریک انتفاضہ کے دوران نوجوان کشمیری رہنما برہان الدین وانی کو بھارتی قابض فوجیوں نے شہید کر دیا ۔اس شہادت نے کشمیر کے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ۔ اب تک ہزاروں کے حساب سے کشمیری اپنی جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جب کہ سیکڑوں لوگ وحشی بھارتی فوجیوں کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال کے باعث اندھے پن کا شکار ہو چکے ہیں جو کہ ایک المیہ ہے ۔ ندیم اعجاز نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے ہمیں بھارت سے دو ٹوک انداز میں بات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مستقبل میں پاکستان کی معیشت اور پانی کے مسئلے پر کشمیر اہم حیثیت رکھتا ہے ۔کانفرنس سے کیپٹن (ر)کریم اللہ خان،جسٹس( ر) شیخ ریاض احمد، ،پی سی بی کے سابق چیئرمین خالد محمود نے بھی خطاب کیاکانفرنس میں سول سوسائٹی ،اور مفکرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

کشمیر فورم

مزید :

علاقائی -