کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا مسئلہ حل کر دیا ، اب اہل کراچی کو بجلی ملے گی : وزیر اعظم

کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا مسئلہ حل کر دیا ، اب اہل کراچی کو بجلی ملے گی : ...

  

کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا مسئلہ حل کردیا اور اب کے الیکٹرک کو جتنی ضرورت ہوگی اتنی گیس فراہم کی جائیگی۔21 اپریل کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے شہر کو بجلی فراہم کرنیوالے ادارے کے الیکٹرک کے مسائل پر غور کے لیے کابینہ کمیٹی برا ئے توانائی کا خصوصی اجلاس پیر 23 اپریل کو کراچی میں طلب کیا تھا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی گزشتہ روزکابینہ کمیٹی توانائی کے اجلاس کیلئے کراچی پہنچے جہاں وہ ائیرپورٹ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر کامرس کالج کے گراؤنڈ میں اترے، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کا استقبال کیا ۔گورنر ہاؤس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی توانائی کا اجلاس ہوا جس میں گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر توانائی اویس، وزیر مملکت عابد شیر علی، سوئی سدرن گیس اور کے الیکٹرک کے نمائندوں سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کے معاملے پر غور کیا گیا جبکہ وزیراعظم کو لوڈ شیڈنگ پر تفصیلی بریفننگ بھی دی گئی۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا مسئلہ حل کردیا ہے، گیس سپلائی بحال کردی ، سوئی سدرن آج سے کے الیکٹرک کو مکمل گیس فراہم کریگی۔کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا اپنا مسئلہ تھا اس سے وفاق کا کوئی تعلق نہیں،مسئلے کو حل کیا گیا اب کراچی والوں کو بجلی ملے گی،بجلی معاملے پر وفاق سے متعلق اگر سندھ حکومت کا کوئی بیان آیا ہے تو وہ سیاسی ہے اس کی حمایت نہیں کرتا۔شہر میں بجلی ہوگی تو پانی بھی ہوگا، سوئی سدرن کے الیکٹرک کو 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دے گی اور اگر اس سے بھی زیادہ ضرورت ہوئی تو گیس دی جائے گی جبکہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کے واجبات کے معاملے پر بھی مفتاح اسماعیل کی ذمہ داری لگائی ہے۔کے الیکٹرک نجی کمپنی ہے اسے سرکاری تحویل میں لینے کا کوئی امکان نہیں جبکہ کے الیکٹرک نیپرا کے ٹیرف پر چلتی ہے، یہ نہ زیادہ چارج کرسکتی ہے اور نہ ہی سرچارج لگا سکتی ہے۔کے الیکٹرک نے لکھ کر دیا ہے ان کے فرنس آئل کے پلا نٹس پوری سطح پر چل رہے ہیں ان میں کوئی بھی بند نہیں، گیس کی قلت کی وجہ سے لوڈشیڈنگ بڑھی تھی جو اب نہیں ہوگی۔جب بل کی ادائیگی سو فیصد ہوگی تو کراچی سے بھی مکمل لوڈشیڈنگ ختم ہوگی کیونکہ بل اور سپلائی کا آپس میں تعلق ہے۔ملک کے باقی حصوں کیلئے بھی پالیسی وا ضح ہے، جو چوری کریگا وہ تکلیف میں رہے گا، جس سسٹم پر 40 سے 60 فیصد چوری ہو وہاں پیسے کون دے گا، ملک میں آج بھی طلب سے زیادہ بجلی موجود ہے لیکن جہاں چوری زیادہ ہوگی وہاں لوڈشیڈنگ بھی زیادہ ہوگی، ان نقصا نا ت کا بوجھ ملک برداشت نہیں کرسکتا۔کراچی کیلئے وفاقی حکومت جو کچھ کرسکتی ہے اس سے زیادہ کیا، گرین لائن میں بھی اپنا کام پورا کردیا، اب سندھ حکومت نے بسیں چلانی ہیں، اگر گرین لائن کیلئے سندھ حکومت ہمیں کہے ہم بسیں دینے کو تیار ہیں، اگر 70 سال میں کراچی کی کسی نے خدمت نہیں کی اور یہ حکومت کررہی ہے تو میں اس کا ذمہ دار نہیں،سیاست میں پولیٹیکل انجینئرنگ کے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا وہ پولیٹیکل انجینئر نہیں، اگر ایسا ہورہا ہے تو پولیٹیکل انجینئر سے ہی پوچھیں۔ کراچی کے مسائل کی ذمہ دارصوبائی حکومت ہے، ملک میں بجلی طلب سے زیادہ موجود ہے۔

وزیر اعظم

مزید :

علاقائی -