قائمہ کمیٹی اجلا س میں حکومتی ارکان غیر حاضر ، اپوزیشن نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم مسترد کر دی

قائمہ کمیٹی اجلا س میں حکومتی ارکان غیر حاضر ، اپوزیشن نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم ...

  

اسلام آباد(آئی این پی ) قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ نے حکومتی ارکان کی عدم حاضری کے باعث ٹیکس ایمنسٹی سکیم اکثریت سے مسترد کردی، کمیٹی میں موجود اپوزیشن ارکان نے متفقہ طور پر وفاقی وصوبائی حکومتوں سے چار ماہ کا بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے،وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے بجٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پورے سال کا بجٹ پیش کرنا کسی بھی طرح پر ی پول دھاندلی نہیں، آئندہ حکومت بجٹ میں کسی بھی طرح کی ترامیم اور تبدیلیاں کرنے کی مجاز ہوگی ،سات لاکھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ سے انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوا جا سکتا ، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا نئی حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ہوگا ، اپوزیشن ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ بجٹ کومسلم لیگ (ن) اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنا سکتی ہے جو کہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ، آئین وقانون کے تحت چار ماہ کا بجٹ پیش کرنے میں کسی بھی طرح کی کوئی قدغن نہیں ۔قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی قیصر احمد شیخ کی صدارت میں ہوا ۔ وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا کہ نئی حکومت ہمارے بجٹ اہداف کی پابند نہیں ہوگی حکومت چار ماہ کا یا چھ ماہ کا نہیں بلکہ پورے سال کا بجٹ پیش کر ے گی بجٹ میں نئے منصوبوں کا اعلان نہیں کررہے بلکہ گزشتہ منصوبوں کو ہی جاری رکھنے کے اعلانات کئے جائیں گے ،گزشتہ پانچ ماہ میں ریونیو میں 2ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ، حکومت نے تقریباً80ارب روپے کا ٹیکس کٹ لگایا ہے ،ٹیکس کی شرح کم کرنے سے ٹیکس جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا ، نئے مالی سال میں 50سے60ارب روپیہ قومی خزانے میں آئے گا ، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کسی بھی طرح بجٹ کیساتھ منسلک نہیں بجٹ میں غریب طبقہ کیلئے بجلی کے بلز پر سبسڈی دینے کی بات کی جا سکتی ہے۔بجٹ کے تحت آئندہ مالی سال کیلئے 13فیصد گروتھ ریٹ ٹارگٹ کر رہے ہیں ، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کادباؤ کسی بھی طرح اگلی حکومت پر نہیں آئے گا کیونکہ یہ اسکیم 30جون کو ختم ہو جائے گی ۔سیکرٹری خزانہ نور خان نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے چار ماہ کا بجٹ بھی پیش کیا جا سکتا ہے ، قانونی طورپر اس کیلئے کوئی قدغن نہیں ہے ، اس معاملہ کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے ،بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 3.2کھرب روپے لگایا گیا ہے ، اس وقت بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوجاتا ہے،رواں مالی سال شرح نمو 6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، فی الوقت شرح نمبر 5.8فیصد ہے ، فزیکل خسارہ4.1فیصد رہا ہے ، شرح غربت کنٹرول میں رہی ہے ، حکومتی ریو نیو کلیکشن 17فیصد چل رہا ہے جو بہترین ہے ، امید ہے آئندہ سال کسی بھی قسم کا شارٹ فال نہیں آئے گا ، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) سے مزید بہتری آئے گی ۔ اسد عمر نے کہا کہ حکومت کی مدت ختم ہو رہی ہے تو کیا چار ماہ کے لئے بجٹ نہیں پیش کیا جا سکتا،ملک میں پورا الیکشن ہورہا ہے ،جو نئی حکومت آئے گی وہ اس بجٹ پر عمل کیسے کرے گی ،160 توانائی کے شعبہ میں گردشی قرضے ایک مرتبہ پھر525ارب تک پہنچ چکے ہیں ، حکومت کی جانب سے یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ 400ارب روپے کے ری بیٹ اور ری فنڈ سے متعلق کیا فیصلہ کیا جائے گا مکمل بجٹ پیش کرنا پری پول دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے ، نفیسہ شاہ نے کہا کہ نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا استحقاق ا نئی حکومت کا ہے شیخ فیاض الدین نے کہا کہ یہ ملک کی معیشت کے ایک سال کیلئے اعداد وشمار کا معاملہ ہے ، اسے تماشہ نہ بنایا جائے اور حکومت پورے مالی سال کا بجٹ پیش کرے ۔اسفند یار بھنڈارا نے کہا کہ وہ بھی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہیں کہ حکومت مالی سال کا مکمل بجٹ پیش کرے ۔ عارفہ خالد پرویز نے بھی حکومت کی جانب سے پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا ۔ چیئرمین کمیٹی قیصر شیخ نے کہا کہ کمیٹی کا اتفاق ہے کہ حکومت کو چارہ کا بجٹ پیش کرے۔ بعد ازاں ایف بی آر حکام نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے ٹیکس ریٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی کوئی بڑی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔کمیٹی میں پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ حکومت سگریٹ پر ٹیکس کے حوالے سے متعارف کرائی گئی تیسری سلیب کو فوری طور پر ختم کرے ۔ انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹس آف پاکستان نے مطالبہ کیا کہ ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے حکومت فوری طور پر 1200ملین روپے فراہم کرے رشید گوڈیل نے کہا کہ چوروں کو حاجی بنانے کا عمل شروع کیا گیا ہے نفیسہ شاہ نے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عالمی منی لانڈرنگ قوانین کا ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر کیا اثر ہوگا، حکومت کو کسی طرح بڑے پیمانے پر ایسی ٹیکس ایمنسٹی سکیم جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔مخدوم مصطفی نے کہا کہ اس طرح کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیمز کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی تا ہم کمیٹی میں موجود اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو مسترد کردیا ۔

قائمہ کمیٹی

مزید :

علاقائی -