طیبہ تشدد کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق جج اور اہلیہ کی سزا معطل کر دی

طیبہ تشدد کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق جج اور اہلیہ کی سزا معطل کر دی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے مقدمے میں سزا پانے والے سابق ایڈیشنل اینڈ سیشن جج راجا خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کی سزا کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے اپیل پر سماعت مئی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 17 اپریل کو طیبہ تشدد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم علی خان اور ان کی اہلیہ کو ایک ایک سال قید اور 50،50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔تاہم اگلے ہی دن سابق جج اور ان کی اہلیہ نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل 2 رکنی ڈویڑن بنچ نے آج راجا خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کی اپیل پر سماعت کی۔اپیل کنندگان کی جانب سے راجا رضوان عباسی اور سہیل وڑائچ ایڈووکیٹس پیش ہوئے۔سماعت کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے طیبہ تشدد کیس میں راجا خرم اور ان کی اہلیہ ماہین کی سزا کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے اپیل پر مزید سماعت مئی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016 کو پیش آیا تھا اور پولیس نے 29 دسمبر کو سابق ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لیا تھا۔

طیبہ پر تشدد کیس

مزید :

صفحہ آخر -