وفاقی وزیر داخلہ نے بھی ’’کے الیکٹرک‘‘ کو کراچی میں بجلی بحران کا ذمہ دار قرار دیدیا

وفاقی وزیر داخلہ نے بھی ’’کے الیکٹرک‘‘ کو کراچی میں بجلی بحران کا ذمہ دار ...

  

کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر داخلہ، ترقیات، منصوبہ بندی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے شہرقائد میں بجلی کے بحران کی ذمہ داری کے الیکٹرک پر عائد ہوتی ہے، وہ اپنے بند پاور پلانٹس چلائے ،وفاقی حکومت اس کے گیس کمپنی اور د یگر اداروں سے معاملات طے کرانے میں معاونت کر رہی ہے، سیاسی استحکام کی راہ چند فیصلے نہیں روک سکتے، ملک بہتر مستقبل کی جانب گا مزن ہے۔گزشتہ روز ڈاؤ ڈینٹل کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں انکا کہنا تھا وفاقی حکومت نے ڈینٹل کالج کی آٹھ منزلہ عمارت دے کر کراچی کے عوام کو تحفہ دیا ہے، مسلم لیگ ن کی حکومت کو اگلی مدت ملی تو کراچی کو لاہور سے بھی زیادہ ترقی یا فتہ شہر بنا دینگے، سی پیک منصوبے کی صورت میں پاکستان کے دروازے پر اقتصادی ترقی دستک دے رہی ہے، اس بار بھی ہم نے موقع ضا ئع کردیا توآئندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کرنیگی ، ہم اس بار سرخرو ہوگئے تو مجھے یقین ہے پاکستان 2030تک دنیا کی بیس معیشتوں میں سے ایک ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا مسلم لیگ ن حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان کا گروتھ ریٹ 5.8فیصد ہے، ہر شعبے میں ریکار ڈ سرمایہ کاری ہو رہی ہے، ہماری حکومت نے گزشتہ 5سال کے دوران گیارہ ہزار 400میگا واٹ بجلی سے قومی گرڈ میں شامل کی، اتنی بجلی پورے 70برس میں قومی گرڈ میں شامل نہ ہوسکی، اب ملک میں کہیں بجلی کا بحران نہیں ، کراچی میں بجلی بحران کی وجہ توانائی کی کمی نہیں بلکہ اسکی مخصوص وجوہات ہیں، پاکستان میں 1960کی دہائی کے بعد ترقی کے راستے پر گامزن ہونے کا دوسرا موقع 1990میں ملا تھا جو ضائع ہو گیا، جبکہ انہی خطوط پر چل کر بھارت سن دوہزار میں اپنی معیشت کو سنبھال گیااور بنگلہ دیش نے ہماری منصوبہ بندی پر عمل کر کے 2013میں اپنی برآمدات میں اضافہ کرلیا، 20ویں صدی نظریات اور اکیسویں صدی اقتصادی ترقی کی صدی ہے، معیشت میں آگے جانے کے اشا ر ے بہت نمایاں ہیں ، مگر سوشل انڈیکیٹرز بہت کمزور ہیں، ضرورت ہے کہ ہم اس شعبے میں محنت کر یں ، حکومت تعلیم کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو آگے لانا چاہتی ہے، پانچ برس کے دوران حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ 12ارب سے بڑھا کر 47ارب روپے کر دیا، ضلعی بنیادوں پر یونیورسٹی کیمپسز بننے چاہیں ، جلد ہی ملک کے چپے چپے میں نوجوانوں کو اعلی تعلیم کی سہولت دیدی جائیگی۔ بھا ر ت میں صرف 1400کلومیٹر جبکہ پاکستان میں ہم 1700کلومیٹر موٹرویز مکمل کرنیوالے ہیں، آج صنعتی دور میں ٹرانسپورٹ کم اخراجات ا و ر بہتر سہولتیں اقتصادی ترقی کی ضامن ہیں، ہم نے اس شعبے میں بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، قبل ازیں وفاقی وزیر نے تختی کی نقاب کشا ئی کر کے ڈاؤ ڈینٹل کالج کی 8 منزلہ عمارت کا رسمی افتتاح بھی کیا۔

وزیر داخلہ

مزید :

صفحہ آخر -