ووٹروں کے پاس منتخب رکن کیخلاف ’’عدم اعتماد ‘‘ کا اختیار ہونا چاہئے

ووٹروں کے پاس منتخب رکن کیخلاف ’’عدم اعتماد ‘‘ کا اختیار ہونا چاہئے
ووٹروں کے پاس منتخب رکن کیخلاف ’’عدم اعتماد ‘‘ کا اختیار ہونا چاہئے

  

\تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

جب سے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ سامنے آیا ہے، کچھ لوگ کسی وجہ کے بغیر ہی اس بے ضرر سے نعرے سے الرجک نظر آتے ہیں اور انہوں نے اپنی خفت مٹانے کے لئے یہ فلسفہ سامنے لانا ضروری سمجھا ہے کہ ووٹ کی عزت اسی وقت ہوگی جب ووٹروں کی عزت ہوگی۔ جن لوگوں نے کبھی ووٹر کو عزت نہیں دی، وہ کیسے یہ نعرہ لگا سکتے ہیں۔ بعض لوگوں نے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے اندر چھپے ہوئے خطرے کو بھانپتے ہوئے اس کی تاویلات کو بہت دور تک پھیلانے کی کوشش کی ہے، حیرت ہے کہ جن لوگوں کو ووٹ کو عزت دینے سے کوئی اختلاف بھی نہیں نہ وہ بظاہر اس کے خلاف ہیں انہوں نے بھی اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر تنکے تلاش کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ اس تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ ووٹ کی عزت بھی ہونی چاہئے اور ووٹر کی بھی، اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ پہلے کون سا کام کیا جائے کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو پھر بحث اس جانب چل پڑے گی کہ انڈہ پہلے تھا یا ’مرغی‘ ہمارے خیال میں ووٹر قابل احترام ہوتے ہیں، لیکن جس طرح تحریک انصاف نے اپنے بیس ’’ووٹروں‘‘ کو پارٹی سے نکالنے کے لئے شوکاز نوٹس جاری کئے اگر کوئی ووٹر ایسا ہو گیا تو وہ لائق احترام تو نہیں ہو سکے گا۔ کچھ عرصے سے بحث نے ایک نیا رخ بھی اختیار کر لیا ہے کہ الیکشن لڑنے والے ووٹ لینے کے لئے تو ووٹروں کے نخرے برداشت کرتے ہیں لیکن انتخابات کے بعد اپنے حلقے کو بھول جاتے ہیں یا بھول کر بھی حلقے کا رخ نہیں کرتے، حالانکہ فطری بات تو یہ ہے کہ الیکشن کے دنوں میں کوئی امیدوار جس طرح بار بار حلقے کا دورہ کرتا ہے، ووٹروں سے ملتا ہے، ان کی خاطر تواضع کرتا ہے، الیکشن کے بعد اس میں تھوڑا بہت فرق تو آ جاتا ہے اور یہ بات کوئی زیادہ حیران کن بھی نہیں۔ ہمارے ایک کالم نگار دوست مرحوم ڈاکٹر شیرافگن کا قصہ سناتے ہیں جو وزیر بھی رہے اور قومی اسمبلی کے رکن بھی، میانوالی ان کا حلقہ انتخاب تھا جہاں سے اب ان کے صاحبزادے امجد خان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شیر افگن کا معمول تھا کہ وہ اپنے ڈیرے پر آنے والوں کی تواضع چائے اور لڈوؤں سے کرتے تھے، الیکشن ہو رہے ہوں یا نہ ہو رہے ہوں، وہ اگر میانوالی میں اپنے ڈیرے پر موجود ہوتے تو یہ ان کا معمول تھا، وقت کوئی بھی ہوتا، مہمان کوئی بھی ہوتا، اس کی تواضع انہی دو چیزوں سے ہوتی، ممکن ہے ایسے بہت سے معمولات ان لوگوں نے بھی اپنا رکھے ہوں جو الیکشن لڑتے ہوں، تواضع کا تعلق وسائل سے بھی ہوتا ہے، جن لوگوں کے پاس کشادہ وسائل ہیں اور وہ طبعاً کشادہ دست بھی ہیں، وہ اپنے ہاں آنے والے مہمانوں کو ہرممکن طریقے سے شاد کام کرتے ہیں، چونکہ ایک حلقہ انتخاب لاکھوں ووٹروں پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک رکن قومی اسمبلی کو بعض صورتوں میں ساٹھ ستر ہزار لوگوں نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہوتا ہے اس لئے یہ تو ممکن نہیں کہ کوئی ایم این اے اتنے لوگوں کو مطمئن رکھ سکے۔ لازماً ان میں سے بعض لوگ اگر اس سے خوش ہوں گے تو کچھ ناراض بھی ہوں گے، پھر تھانہ کچہری کے مقدمات میں سارے لوگ ہمیشہ سچ پر نہیں ہوتے، بہت سے لوگوں کے مقدمات ناجائز بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح کسی ایم این اے کے ووٹروں میں بھی ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، اچھے بھی، برے بھی۔ بہت سے لوگوں پر مقدمات بھی ہوتے ہیں، درست بھی اور غلط بھی، اس لئے یہ تصور تو محال ہے کہ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے اپنے ہر ووٹر کو مطمئن کر سکے، ناراضگیاں بھی ہو جاتی ہیں اور ان ناراضگیوں کے نتیجے میں جو دھڑے بندیاں ہوتی ہیں، ان کی وجہ سے بعض اوقات انتخاب میں ہار جیت بھی ہو جاتی ہے، بہت سے ارکان اسمبلی بار بار منتخب ہوتے ہیں اور ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں منتخب کرنے کے بعد ووٹر پچھتاتے ہیں اور بعد ازاں ایسے امیدوار کو منتخب کرنے سے توبہ کر لیتے ہیں۔

یہ صرف ہمارے ہاں نہیں ہے، پوری دنیا میں ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں کئی سینیٹر بار بار منتخب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایوان نمائندگان کے انتخاب میں بھی کئی امیدوار بار بار کامیاب ہوتے ہیں، برطانیہ جیسے ملک میں بھی یہی ہے۔ ان دونوں ملکوں میں دو جماعتی جمہوری نظام ہے، کبھی ایک جماعت کی حکومت ہوتی ہے اور کبھی دوسری کی، برطانیہ میں کبھی لیبر پارٹی برسراقتدار ہوتی ہے تو کبھی کنزرویٹو پارٹی اور اگر کسی ایک جماعت کو اکثریت نہ ملے تو مخلوط حکومت بھی بن جاتی ہے، لیکن ’’باریان‘‘ ان دو جماعتوں کی ہی لگی ہوئی ہیں۔ اس سسٹم کو وہاں تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ بات ناپسندیدہ سمجھی جاتی ہے گویا جو چیز برطانیہ میں خوبی ہے وہ ہمارے ہاں خرابی ہے، لیکن ایک چیز مشترک ہے کہ ووٹروں کا مزاج وہاں بھی ایسا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے نمائندے سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کا حل وہاں یہ سوچا گیا کہ حلقے کے ووٹروں کا دسواں حصہ اگر کسی بھی وقت اپنے نمائندے پر عدم اعتماد کر دے تو اس کی رکنیت ختم کی جا سکتی ہے، اگرچہ یہ ابھی تجویز ہے اور غور و فکر کے مرحلے میں ہے لیکن اگر پاکستان میں بھی ایسی کسی تجویز پر غور کرکے اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کر لی جائے تو یہ شکایت بڑی حد تک رفع ہو سکتی ہے کہ منتخب نمائندے انتخابات کے بعد اپنے ووٹروں کو بھول جاتے ہیں۔ ہمارے جن دوستوں کو آج کل ووٹروں کی عزت کا بڑا خیال ہے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ اس تجویز پر غور کریں اور اگر یہ پسند نہیں تو کوئی ایسی بہتر تجویز سامنے لائیں جس پر عمل کرکے ووٹروں کی عزت کا مستقل اہتمام کیا جا سکے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اس تجویز پر غور کرنا چاہئے اور ہو سکے تو پارلیمینٹ میں بھی اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں یہ ہوگا کہ منتخب نمائندہ اپنے حلقے کے ووٹروں کو بھول نہیں سکے گا کیونکہ یہ خوف اس کے سر پر سوار ہوگا کہ اس کے دس فیصد (یا کم و بیش) ووٹر اس کے خلاف بغاوت کرکے اسے پارلیمینٹ کی رکنیت سے محروم کر سکتے ہیں۔ ووٹ کی عزت کے ساتھ ووٹروں کے احترام کو یقینی بنانے کے لئے ہمارے خیال میں یہ ایک مناسب تجویز ہے لیکن جو لوگ صرف نعرے لگا رہے ہیں اور انہیں ووٹر کی عزت سے نہیں محض نعرے سے دلچسپی ہے وہ ممکن ہے اس جانب کسی پیش رفت کے لئے کوئی کردار ادا نہ کریں۔

عزت کیسے؟

مزید :

تجزیہ -