نشتر ہسپتال میں جان بچانے والی ادویہ ‘ آکسیجن ماسک تک ناپید

نشتر ہسپتال میں جان بچانے والی ادویہ ‘ آکسیجن ماسک تک ناپید

  

ملتان (وقائع نگار) نشتر ھسپتال ملتان میں جان بچانے والی ادویات، یہاں تک کہ آکسیجن ماسک تک بھی ناپید ایمرجنسی وارڈ، بچوں کی ایمرجنسی، لیبر روم و دیگر وارڈز میں پچھلے کئی دن سے جان بچانے والی ادویات مہیا نہیں کی جارہی، صرف(بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

کچھ اینٹی بایوٹک اور کچھ دیگر ادویات مل رھی ہیں جو اتنے مریضوں کے لئے ناکافی ہیں موجودہ وائس چانسلر کے پاس فنانشل اختیارات نہ ھونے کی وجہ سے لوکل پرچیز سے ادویات کی خریداری بند ھو چکی ھے۔ پائینئر یونٹی کا اجلاس پروفیسر ڈاکٹر شاہد راؤ کی زیر صدارت ھوا جس میں نشتر ھسپتال میں ادویات کی شدید قلت پر غم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ادویات نہ ھونے کی وجہ سے ڈاکٹرز اور مریضوں میں جھگڑے ذیادہ ھو رھے ہیں مریض ادویات نہ ملنے کا ذمہ دار ڈاکٹر کو سمجھتے ہیں۔ حکومت نشتر کے لئے جلد مستقل وائس چانسلر کا اعلان کرے اور تب تک موجودہ وائس چانسلر صاحب کو فنانشل اختیارات دیے جائیں، اس کے علاوہ جلد از جلد ھسپتال میں ادویات مہیا کی جائیں۔ اجلاس کے دیگر شرکاء میں پرفیسر ڈاکٹر کاشف چشتی، ڈاکٹر سہیل ارشد، ڈاکٹر ساجد امامی, ڈاکٹر عبدالمنان, , ڈاکٹر نصرت بزدار, ڈاکٹر راشد راؤ, ڈاکٹر طارق حمید, ڈاکٹر سلطان کھر, ڈاکٹر سلیمان پتل, ڈاکٹر توفیق راؤ , ڈاکٹر ساجد اختر, ڈاکٹر رانا کلیم, ڈاکٹر مطیع اللہ ماجد, ڈاکٹر فیصل, ڈاکٹر کلیم اللہ خان, ڈاکٹر رانا آصف, ڈاکٹر فرخ شاہ, ڈاکٹر طلحہ, ڈاکٹر کاشف راؤ , ڈاکٹر راؤ سرفراز, ڈاکٹر رانا مبارک, ڈاکٹر مرزا وسیم, ڈاکٹر سکندر, ڈاکٹر نذیر, ڈاکٹر سلمان, ڈاکٹر فرحان میرانی, ڈاکٹر اشفاق, ڈاکٹر اویس رومی, و دیگر درجنوں ڈاکٹرز نے شرکت کی.

مزید :

ملتان صفحہ آخر -