شجاع آباد ‘ جاگیردار ونی کیس کا ڈراپ سین ‘ صلح نامہ پر ملزمان بری

شجاع آباد ‘ جاگیردار ونی کیس کا ڈراپ سین ‘ صلح نامہ پر ملزمان بری

  

شجاع آباد (نامہ نگار) جاگیر دار ونی کیس کا ڈراپ سین متاثرہ خاندان نے عدالت کو اربوں پتی جاگیر داروں سے صلح نامہ لکھ کر دے دیا سول جج مدثر نواز نے تمام ملزمان کو موقع پر ڈسچارج کر دیا جاگیر دار ونی کیس کے مرکزی کردار نواب منان خان خاکوانی، کبیر خان خاکوانی سمیت دیگر(بقیہ نمبر29صفحہ12پر )

ملزمان انیس،عارف،اللہ بچایا،اقبال اور نکاح خواں راؤ اسلام کو ایک روزہ پولیس ریمانڈ کے بعد سول جج مدثر نواز کی عدالت میں پیش کیا گیا اس موقع پر میڈیا اور سول سوسائٹی کی لیگل ٹیم سابق سیکرٹری بار راؤ عامر لقمان ایڈووکیٹ اور ملک عمران کھاکھی پر مشتمل وکلاء کا پینل عدالت میں پیش ہوا اور دلائل پیش کیے کہ متاثرہ لڑکیوں 4 ماہ کی حاملہ حمیرا اور ونی کی جانے والی نور فاطمہ مقدمہ کی پیروی کرنے والی خاتون مریم بی بی نے میڈیا کوآن ریکارڈ بیان دیے تھے کہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اب ان کا بیان تبدیل ہوا نہیں کروایا گیا ہے مقامی صحافی انجمن تحفظ حقوق شہریان کے صدر راحیل صدیقی اور سینئر صحافی ندیم شاہ نے سول جج کو متاثرہ خاندان کے ویڈیو بیان دکھائے تو سول جج نے کہا کہ آپ اس کی بریکنگ نیوز چلا دیں مجھے یہ نہ دکھائیں وکلاء کے پینل کو کہا کہ یہ ویڈیو کلپس اب کسی کام کے نہیں متاثرہ خاندان نے عدالت میں بیان دے دیا ہے کہ ان کے نکاح زبردستی نہیں ان کی مرضی سے ہوئے ہیں اور فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہے تمام ملزمان کو بری کردیا گیا ہے جس پر وکلاء نے بحث کی کہ عدالت معاملے پر نظر ثانی کرے اور مقدمہ کے اندراج کے گواہ اللہ ڈتہ کا بیان ریکارڈ کیا جائے مگر عدالت نے تمام دلائل رد کر دیے اورملزمان کو ڈسچارج کر دیا واضح رہے کہ اس کیس میں متاثرہ خاندان نے 5 روز قبل میڈیا کو آن ریکارڈ یہ بیان دیے تھے کہ جاگیر داروں نے ان کی بیٹی نور فاطمہ کو ونی کیا ہے جب کہ عارف کو شدید تشدد کا نشانہ بنا کر جاگیر دار نواب منان خان خاکوانی نے اپنا گناہ چھپانے کے لیے چار ماہ کی حاملہ حمیرا سے نکاح کرنے پر اسے مجبور کیا ہے اور ان کی 9 سالہ بچی سمعیہ کو جاگیر داروں نے اپنے پاس قید کر رکھا ہے ڈی ایس پی سرکل رانا اشرف کی سربراہی میں 4 دن قبل تھانہ صدر میں انکوائری کے دوران بھی متاثرہ خاندان کے انہی بیانات کے سبب رات گئے مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا مقدمہ کے اندراج کے 3 روز بعد ہی اس کیس کا ڈراپ سین ہو گیا اور متاثرہ خاندان نے ملزمان کے حق میں بیانات دے کر ان سے صلح کر لی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 164 کے بیان کے ایک روز بعد ملزمان کو ڈسچارج کیا جاتا ہے اسی روز ملزمان کو ڈسچارج کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

ونی کیس ڈراپ سین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -