چارسدہ میں محکمہ تعلیم کی پالیسیوں کیخلاف 571 تعلیمی ادارے بند

چارسدہ میں محکمہ تعلیم کی پالیسیوں کیخلاف 571 تعلیمی ادارے بند

  

چارسدہ(بیورورپورٹ)چارسدہ میں بھی صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح پختون خوا حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف ضلع بھر کے تمام 571 نجی تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے ۔ پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کی کال پر دو روزہ ہڑتال کے پہلے دن ضلع بھر کے تینوں تحصیلوں میں تمام نجی تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے اپنے مطالبات کے حق میں چارسدہ پریس کے سامنے احتجاجی کیمپ بھی لگایا ۔ احتجاجی کیمپ میں پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک(پن) کے ضلعی صدر نفیس اللہ، جنرل سیکرٹری طاہر امین ، جاوید خان ، شہزاد الدین سمیت نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ نجی تعلیمی اداروں کے نمائندہ تنظیم پن کے صدر نفیس اللہ نے کیمپ کے شرکاء سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے پرائیویٹ سکولوں کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ کا جو بل صوبائی اسمبلی سے پاس ہواہے صوبائی حکومت خود اسکی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ کے مطابق نجی تعلیمی اداروں کی سکروٹنی کیلئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے بجائے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کو تعینات کیا گیا ہے جو انہیں کسی صورت قبول نہیں۔ صوبائی حکومت نے ایکماہر تعلیم کے بجائے تعلیمی اداروں کو بیورکرسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت غیر ملکی این جی اوز کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور تعلیمی نصاب سے نظریہ پاکستان اور نظریہ اسلام کو ختم کر رہی ہے ڈی ایف آئی ڈی اور اے ایس آئی کے روپ میں یہ این جی از فنڈنگ دے کر صوبائی حکومت کو نصاب تعلیم میں ترمیم پر مجبور کر رہی ہے تاکہ نظام تعلیم کو مکمل طور پر سیکولر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کی فیس کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے اگر پرائیوٹ سکولز چھٹیوں کی فیس نہیں لے گی تو اساتذہ کو تنخواہیں اور دیگر اخراجات کیسے برادشت کرینگے ۔ انہوں نے مزید کہا مطالبہ کیا کہ نجی تعلیمی اداروں کو ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ کے تحت چلایا جائے بصورت دیگر تمام تعلیمی اداروں کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -