گنے کے کاشتکاروں کو عدم ادائیگیوں پر ازخودنوٹس کی سماعت، کسان اتحاد کے نمائندے نے سپریم کورٹ میں شکایات کے انبار لگا دیئے

گنے کے کاشتکاروں کو عدم ادائیگیوں پر ازخودنوٹس کی سماعت، کسان اتحاد کے ...
گنے کے کاشتکاروں کو عدم ادائیگیوں پر ازخودنوٹس کی سماعت، کسان اتحاد کے نمائندے نے سپریم کورٹ میں شکایات کے انبار لگا دیئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں گنے کے کاشتکاروں کو عدم ادائیگیوں پر ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران کسان اتحاد کے نمائندے نے عدالت میں شکایات کے انبار لگا دیئے ۔نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ تمام سرکاری عملہ شوگر مل مالکان کےساتھ ملا ہوا ہے،شوگر ملز والے صرف مسلم لیگیوں کو پیسے دے رہے ہیں اورشہبازشریف کے خاندان کی مل والے دھمکیاں دیتے ہیں۔

کسان اتحاد کے نمائندے کا کہناتھاکہ سرکاری ریٹ 180 روپے من ہے،شوگر ملز 100 روپے فی من کے حساب سے ادائیگی کرتیں ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے گنے کے کاشتکاروں کو عدم ادائیگیوں پر ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔

وکیل ڈاکٹر عبدالباسط نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ کاشتکاروں کوادائیگی میں بدعنوانی ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس پاکستا ن نے استفسار کیا کہ ملک میں کتنی شوگر ملز ہیں؟اعلیٰ عدلیہ کے جج نے ریمارکس دیئے کہ شوگرملز کی جانب سے ادائیگی کے سرٹیفکیٹ مانگے تھے ،دیکھنا ہے عدالتی حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ شوگر ملز کو پبلک نوٹس دیا تھا شاید تعمیل نہیں ہوئی۔

کسان اتحاد نے نمائندے نے عدالت کو بتایاکہ تمام سرکاری عملہ شوگر مل مالکان کے ساتھ ملا ہوا ہے،شوگر ملز والے صرف مسلم لیگیوں کو پیسے دے رہے ہیں اورشہبازشریف کے خاندان کی مل والے دھمکیاں دیتے ہیں۔نمائندہ کسان کا کہناتھا کہ سرکاری ریٹ 180 روپے من ہے لیکن شوگر ملز 100 روپے فی من کے حساب سے ادائیگی کرتیں ہیں ۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد /کسان پاکستان