معلوم نہیں بنیادی حقوق کی فراہمی میں کامیاب ہوتا ہوں یانہیں،اگر کارڈیک سینٹر بند ہوا تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، چیف جسٹس

معلوم نہیں بنیادی حقوق کی فراہمی میں کامیاب ہوتا ہوں یانہیں،اگر کارڈیک ...
معلوم نہیں بنیادی حقوق کی فراہمی میں کامیاب ہوتا ہوں یانہیں،اگر کارڈیک سینٹر بند ہوا تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، چیف جسٹس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد کے ہسپتالوں میں سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ معلوم نہیں بنیادی حقوق کی فراہمی میں کامیاب ہوتا ہوں یانہیں،لیکن اگر کارڈیک سینٹر بند ہوا تو ذمہ داروںکیخلاف کارروائی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے ہسپتالوں میں سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس پاکستان نے سیکرٹری وزیراعظم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں فواد حسن فواد آجائیںوہاں مسئلہ حل ہو ہو تا ہے ،اس لئے توقیر شاہ کو بھی بلایا ہے تاکہ تمام مسئلے حل ہو جائیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایسا کریں گزرتے ہوئے سپریم کورٹ آجایا کریں ،اس پر فواد حسن فواد نے کہا کہ میں روز یہاں آجایا کروں گا۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پمزکارڈیک سینٹر کے ملازمین کنٹریکٹ پر تھے جبکہ گریڈ 16 کے ملازمین کو مستقل کردیا گیا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ گریڈ17 سے اوپر افسران کی بھرتی فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے کرنی ہے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پمز میں کارڈیک سینٹر بند نہیں ہوناچاہئے،یہ لوگ پبلک سروس کمیشن میں اپلائی کریںاورجو کمشن سے کلیئر ہوں انہیں مستقل کیا جائے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کارڈیک سینٹر کے ملازمین کو اب تک کی تنخواہیں دی جائیں۔

اس پر سیکرٹری وزیراعظم نے کہا کہ عدالت جو حکم کرے اس پر عمل ہو گا۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -