صدر نے پراسیکیوٹر جنرل نیب جسٹس (ر) اصغر حیدر کو ماہانہ 13 لاکھ سے زائد تنخواہ اور مراعات دینے کی منظوری دیدی

صدر نے پراسیکیوٹر جنرل نیب جسٹس (ر) اصغر حیدر کو ماہانہ 13 لاکھ سے زائد تنخواہ ...
صدر نے پراسیکیوٹر جنرل نیب جسٹس (ر) اصغر حیدر کو ماہانہ 13 لاکھ سے زائد تنخواہ اور مراعات دینے کی منظوری دیدی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پراسیکیوٹر جنرل نیب جسٹس (ر) اصغر حیدر کی تنخواہ اور مراعات کی منظوری دے دی گئی۔

صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر تنخواہ اور مراعات کی منظوری دی۔ دستاویز کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل نیب کے لیے تنخواہ اور مراعات کی مد میں ماہانہ 13 لاکھ 7 ہزار 331 روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ بنیادی تنخواہ کی مد میں ماہانہ سات لاکھ 99 ہزار 699 روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ سپیرئر جوڈیشل الاﺅنس کی مد میں ماہانہ تین لاکھ 70 ہزار 579 روپے کی منظوری دی گئی۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کے میڈیکل الاﺅنس کی مد میں 69 ہزار 35 روپے منظور کیے گئے۔ گھر کے یوٹیلٹی بلز بھی حکومت ادا کرے گی۔

حکومت کی طرف سے دوران ملازمت سرکاری رہائش دی جائے گی۔ سرکاری رہائش استعمال نہ کرنے کی صورت میں 68 ہزار ہاﺅس رینٹ ملے گا۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کو 1800 سی سی سرکاری کار اور ڈرائیور کی سہولت ہو گی۔

ماہانہ 600 لٹر پٹرول اور گاڑی کے مینی ٹینس اخراجات بھی حکومت ادا کے گی۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کو بیرون اور اندرون ملک فضائی سفر کے لیے بزنس کلاس کا استحقاق ہو گا۔ وزارت قانون و انصاف نے تنخواہ اور مراعات ہائیکورٹ کے جج کے مساوی دینے کی سفارش کی تھی۔ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے جج کے مساوی تنخواہ اور مراعات کی منظوری کی ایڈوائس کی۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -