فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر411

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر411
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر411

  

اشوک کمار طویل عمر پانے کے باوجود بالعموم صحت مند اور چاقو چوبند رہے۔کسی قابل ذکر بیماری مبتلا نہیں ہوئے۔اس کا ایک سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ بہت اچھے ایک ہومیو پیتھک معالج بھی تھے۔اپنا اور جاننے والوں کا ہومیو پیتھی سے ہی علاج کرتے تھے۔یہ ان ا مشغلہ بھی تھا اور شوق بھی تھا۔فلمی صنعت کے بے شمار لوگ ان سے دوائیاں لیا کرتے تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر410 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان کے خاندان کی شہرت اور اختیار ایک زمانے مین فلمی دنیا پر محیط تھا ۔خود تو ایک مایہ ناز اداکار تھے ہی، ان کے دونوں بھائی بھی فلمی صنعت میں نمایاں کامیاب تھے۔ان تینوں نے کشور کمار کی ایک مزاحیہ فلم ’’چلتی کا نام گاڑی‘‘میں ایک ساتھ کام کیاتھا۔مدھو بالا اس میں ہیروئن تھیں ۔یہ فلم بخاری صاحب نے لکھی تھی ۔جو بعد میں پاکستان چلے آئے تھے۔بے حد خلیق ، نفیس اور وضع دار آدمی تھے۔افسوس کے لاہور کی فلمی دنیا ان ساے فائد ہ نہ اٹھا سکی ۔وہ ہپنا ٹزم اور یوگا سے بہت دلچسپی رکھتے تھے ۔ہم نے ان سے ہپناٹزم کے بارے میں ایک ضخیم کتاب بھی پڑھنے کو لی تھی مگر ابتدائی معلومات کے علاوہ اور کچھ نہ حاصل کر سکے تھے ۔وہ کہا کرتے تھے کہ یوگا کی مشقوں اور طریقوں سے ہر بیماری کا علاج ہو سکتا ہے۔اس کا زندہ ثبوت وہ خود تھے۔اوّل تو خاصی عمر کے باوجود وہ کبھی بیمار نہ ہوئے اور اگر کبھی بیمار ہوتے تو یوگا کے ذریعے اپنا خودہی علاج کر لیا کرتے تھے۔بے کاری ،پریشانی اور لاہور فلموں کی بے رخی نے انہیں بالآخر وقت سے پہلے ہو محروم کر دیا ۔موت سے ایسا مرض جس کا علاج ہی نہیں ہے ۔وہ یوگا کے ذریعے بھی اس کا علاج نہیں کر سکے ۔ان کی ایک ہو بیٹی تھی جس سے انہیں بے انتہا محبت تھی ۔خدا جانے اب وہ کہاں اور کس حال میں ہے۔

اشوک کمار اور ان کے بھائی فلمی ستون تھے ہی ان کے بہنوئی ایس مکر جی بھی بمبئی کی فلمی دنیا میں بہت بڑی ہستی رہے ہیں ۔ہمنسو رائے اور دیویکا رانی کے بعد وہ بھی بمبئی ٹاکیز جیسے ادارے کے ڈائریکٹروں میں شامل تھے۔بعد میں انہوں نے بمبئی ٹاکیز سے علیحدہ ہو کر ’’فلمستان‘‘کے نام سے ذاتی فلم ساز ادارہ بنا لیا تھا۔اور بہت سی کامیاب فلمیں بنائی تھیں ۔ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہوں نے اسکرین پلے بنانے پر عبور حاصل کیاہے۔انہیں موسیقی کا بھی شعور تھا یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر فلم موسیقی کے اعتبار سے انتہائی مقبول اور کامیاب ہوتی تھیں ۔انہوں نے ناگن ،جنگلی،پروفیسر اور بہت سی ہلکی پھلکی میوزیکل اور رومانی فلمیں بنائیں۔ان کا یہ اعزاز تھا کہ انکی کوئی فلم فلاپ نہیں ہوئی ۔اس طرح یہ خاندان کافی عرصے تک بمبئی کی فلمی صنعت پہ چھایا رہا۔اپنے بیٹے کو بھی انہوں نے ایک کامیاب ہیرو بنا دیا تھا مگر وہ کسی اور کی فلم میں کام نہ کر سکا اور فلمی صنعت میں کوئی مقام نہ حاصل نہ کر سکا۔

ایس مکر جی ،کشور کمار اور انوپ کماری کی وفات کے بعد اشوک کمار ہی اس خاندان کی نمائندگی کرنے والے تنہا فرد رہ گئے تھے اور اب وہ بھی نہیں رہے۔اس طرح پر تھوی راج اور راج کپور کے خا ندان کی طرح یہ خاندان بھی فلمی صنعت پر اپنی چھاپ لگا کر رخصت ہو گیا۔

دراصل اشوک کمار کی پہلی فلم ’’جیون نیا ‘‘تھی جو 1930میں ریلیز ہوئی تھی ۔اس کی ہیروئن دیویکا رانی تھی ۔یہ ایک کامیاب فلم تھی مگر دوسری فلم ’’اچھوت کنیا‘‘نے اشوک کمار کو ایک دم آسمان پر پہنچا دیا۔یہ ایک بہت اچھے موضوع اور بلند مقصد کے تحت بنائی گئی تھی ۔اس کی بے شمار کامیابی نے اچھوت کمار کو لیجنڈبنا دیا تھا ۔بعد میں’’قسمت ‘‘ نے انکی عظمت اور مقبولیت پر مہر ثبت لگا دی تھی ۔اس کے بعد اشوک کمار نے لا تعداد فلموں میں کام کیا اور ایک بار جب بلند مقام حاصل کر لیا تھا اس پر آخردم تک فائز رہے۔

جب بولتی فلموں کا زمانہ آیاتو فلموں میں گانے شوٹنگ کے ساتھ ہے ریکارڈ کیے جاتے تھے۔اور عموماََاداکارخود ہی گاتے تھے ۔پلے بیک کا رواج نہ تھا ۔جھاڑیوں اور دیواروں کے پیچھے سازندے بیٹھ جاتے تھے اور سیچویشن کے مطابق ہیرو اور ہیروئن نغمہ سرائی کرتے تھے ۔اشوک کمار نے موسیقی کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انکو موسیقی کی الف بے کا بھی نہیں پتہ تھا ۔مگر اس زمانے میں گانوں کے بول سادہ اور طرزیں آسان ہوتی تھیں۔اس لیے ذرا سی مشق کے بعد اداکار اپنے گانے خود ہی گا لیاکرتے تھے۔

مثال کے طور پرغالباََ ’’اچھوت کنیا‘‘ میں اسوک کمار اور ہیروئن دیویکا رانی نے اپنے گانے خود ہی گائے تھے۔یہ فلم ہماری پیدائش کے آس پاس ریلیز ہوئی ہم نے کافی عرصہ کے بعد دیکھی۔اس کا ایک گانا اور رومانی منظر ہمیں یاد ہے ۔کیمرا ایک جگہ نصب ہے ۔سامنے ایک بڑا سا درخت اور اور جنگل کا ایک چھوٹا سا حصہ نظر آ رہاہے۔ہیرو اور ہیروئن ایک بڑے درخت کے تنوں کے پاس کھڑے ہیں ۔ہیروئن گانا شروع کرتی ہے اور یہ دو گانا تھا۔

میں بن کے چڑیا بن کے بن میں گھوموں رے۔

ہیرو گاتا تھاْ

میں بن کے پنچھی بن کے بن میں ڈولوں رے۔

سارے گانے کے دوران کیمرا ایک ہی جگہ نصب رہتا ہے۔ایک بول کے بعد ہیروئن ایک درخت کے تنے پر چڑھ کر بیٹھ جاتی ہے۔ہیرو بھی اسی تنے پر جا کر بیٹھ جاتا ہے۔دونوں باری باری بول ادا کرتے ہیں۔بہت سا دہ دھن اور اس سے بھی زیادہ سادہ بول تھے جو آج بھی ہمیں یاد ہیں ۔اشوک کمار اور دیویکا کمار کی آوازیں بھی نا پختہ اور لرزاں تھیں لیکن گانا بہت اچھا لگا اور بے پناہ مقبول ہوا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر412 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -