جب گرین کارڈ کی اسٹمپ کراچی سے لگاکرے گی

جب گرین کارڈ کی اسٹمپ کراچی سے لگاکرے گی
جب گرین کارڈ کی اسٹمپ کراچی سے لگاکرے گی

  

جب کبھی مورخ پاکستان کی سیاسی تاریخ ایمانداری سے مرتب کرے گا وہ خادمِ اعلیٰ شہبازشریف کے ذکر خیر کے بغیر ادھوری رہے گی ۔ انکی گڈ گورنس کی طرح انکی گفتگو بھی کمال کی ہوتی ہے جس کا لطف اس وقت دو آتشہ ہوجاتا ہے جب وہ فرماتے ہیں کہ اب کی بار اگر عوام نے ہمیں منتخب کیا تو لاہور کو پیرس بنا دینگے ، یہ وہ جملہ ہے جو وہ ہر الیکشن کے موقع پر دہراتے ہیں ۔ اس میں نیا اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب کراچی کے دورے کے دوران انہوں نے کراچی کو نیویارک بنانے کا اعلان کیا تو تو اہل کراچی کی بن آئی۔اور انہوں نے ابھی سے اپنے مالی معاملات کو فارن کرنسی یعنی امریکن ڈالر کے حوالے سے دیکھنا شروع کر دیا ہے اور بعض افراد یہ بھی پوچھتے پائے گئے ہیں کے ہمارے پاسپورٹ پر گرین کارڈ کی اسٹمپ یہیں کراچی میں لگے گی یا امریکہ والے نیویارک سے لگ کر آئے گی۔

وہ تو بھلا ہو پاکستان کے پیرس لاہور سے اطلاع آگئی کہ اس سارے معاملات کو دل پر لینے کی ضرورت نہیں ہے الیکشن کے دنوں میں میاں شہبازشریف کی شو بازیاں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ 

پھر الیکشن جیتنے کے بعد وہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ فلاں سال کے آخر تک ہم بجلی ہی ختم کر دینگے ۔مطلب کہ لوڈ شیڈنگ ختم کر دینگے اور پھر کسی شاندار موٹروے کا افتتاح ہوجاتا ہے۔

یار لوگ بھی نیتوں پر شک کرنے لگے ہیں کہتے ہیں پیرس اور نیویارک کو چھوڑیں بس لندن کی طرح کوئی اسٹیٹ آف دی آرٹ ہاسپٹل بنا دیں جس میں عوام کو بھی چھوڑیں بس اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا علاج کرا سکیں۔

دوسری طرف اعلیٰ عدلیہ نے پنجاب گورنمنٹ سے پچاس کمپنیوں کا ریکارڈ طلب کیا ہے جسکے مطابق ہر چئیرمین پانچ لاکھ سے زائد تنخواہ لے رہے ہیں اور انکے زیر استعمال گاڑی کی مالیت 65 لاکھ سے زائد ہے جبکہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کی تنخواہ ایک لاکھ اسّی ہزار بتائی گئی ہے

یقیناً چیف سیکرٹری سوچنے میں حق بجانب ہونگے۔

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی۔

اورنج ٹرین کے منصوبے پر لاگت 93 ارب تک جا پہنچی ہے جو کہابھی تک نا مکمّل ہے ۔گڈ گورنس کے دعویداروں کا سارا زور کاسمیٹک منصوبوں پر ہے 

سستی روٹی ہو یا دانش اسکول ،قائد اعظم سولر پارک ہو یا نندی پور پروجیکٹ ،سب کا حساب چاہئے ۔

بات کہاں سے چلی کہاں جا پہنچی ۔میاں شہبازشریف کے کراچی کے طوفانی دورے متحدہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے مراکز پر حاضری اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شہبازشریف حصول اقتدار کے لیئے ہر دہلیز پر سجدہ کرنے کو تیار ہیں میاں نواز شریف کا بیانیہ مزاحمتی اور نظریاتی سیاست کا علمبردار ہے جبکہ شہبازشریف مصالحت کے سرخیل بنے پھر رہے ہیں ۔آنے والے الیکشن میں کس کو کیا حصہ ملے گا اسکا فیصلہ تو نتائج کرینگے مگر عوام کا کہنا ہے کہ پچھلے الیکشن میں ن لیگ کی تشہیری مہم میں انہیں بلٹ ٹرین دکھائی گئی تھی۔ حکمرانوں کا تو چائنہ آنا جانا لگا رہتا ہے جب تک اصل ممکن نہیں ہے بلٹ ٹرین کا ماڈل ہی منگوا کر بڑے شہروں کے مرکزی مقامات پر نصب کر دیا جائے۔

دوسری طرف بعض لوگ بضد ہیں کہ لوڈ شیڈنگ۔ توانائی کا بحران ن لیگ کی انتخابی مہم کا مرکزی ایجنڈا ہونا چاہیے کیونکہ جب تک یہ مسائل حل نہیں ہونگے انہیں پر ووٹ لینے کی سیاست ہوتی رہے گی اور اسطرح ووٹ کی عزت میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -