وہ مسلمان بادشاہ جو شکار سے واپس آتے ہی قیدیوں کو طلب کرتا اور ایسا حکم جاری کرتا کہ پوری سلطنت دنگ رہ جاتی ،وہ ایسا کیا کام کرتا تھا کہ جس پر عمل کیا جائے تو انصاف کا بول بالا ہوسکتا ہے ،آپ بھی جانئے

وہ مسلمان بادشاہ جو شکار سے واپس آتے ہی قیدیوں کو طلب کرتا اور ایسا حکم جاری ...
وہ مسلمان بادشاہ جو شکار سے واپس آتے ہی قیدیوں کو طلب کرتا اور ایسا حکم جاری کرتا کہ پوری سلطنت دنگ رہ جاتی ،وہ ایسا کیا کام کرتا تھا کہ جس پر عمل کیا جائے تو انصاف کا بول بالا ہوسکتا ہے ،آپ بھی جانئے

  

لاہور(ایس چودھری)سلطنت دہلی کے حاکم اور تغلق خاندان کے تیسرے بادشاہ سلطان فیروزشاہ تغلق کا مزاج اپنے اجداد کی نسب بے حد معتدل تھا ۔ تیرہویں صدی میں دہلی کے تخت پر متکمن ہوئے والے خاندان تغلق کے جن دو بادشاہوں کا تاریخ میں بڑا چرچا رہا ہے ان میں ایک سلطان محمد عادل بن تغلق شاہ تھا جو اپنی سخت گیری میں شہرہ رکھتا تھا تو دوسرابادشاہ سلطان فیروز شاہ تغلق تھا جو نرم مزاج اور رفاہ عامہ کے کاموں اور علم کی ترویج و ترقی میں کوشاں رہتاتھا ۔اس نے بے شمار ہسپتال، مساجد، یتیم خانے، سرائیں اور مدارس بنوائے، دریاؤں پر پل تعمیر کئے اورنہریں کھدوائیں ۔موجودہ ہندوستان میں اسکی تعمیر و ترقی کے آثار ابھی تک باقی ہیں ۔ 

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

سلطان فیروز شاہ تغلق پر خوف خدا سے لرزہ طاری ہوجاتا تھا ۔وہ قیدیوں کی فلاح کا خیر خواہ تھا ۔جب وہ سیر اور شکار سے واپس آتا تو شہر فیروز میں قیام کرتا اور قیدخانوں کا دورہ کرتا،قیدیوں کے احوال پوچھتا اور ان سے ملاقاتیں بھی کرتا تھا ۔اگر کسی کی سزا میں تھوڑا وقت رہ جاتا تو اسے رہا کردیتا،جس قیدی کی سزا میں کافی وقت ہوتااور سمجھتا کہ اسے جلاوطن کردینا زیادہ بہتر ہے تو اسے جلا وطن کردیتااور اسکو مال و دولت بھی دیتا کہ وہ دوسرے دیس جا کر اپنا روزگار چلا سکے۔اسکے اس طرز عمل سے تغلق رعایا بڑی خوش تھی۔اور کوئی اس کی رعایت اور انسان پروری کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا ۔

فیروز شاہ کا حکم تھا کہ کسی مجرم کو زیادہ عرصہ قید میں نہ رکھو کیونکہ اسکے دل کی آہ کو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے وہ فوری انصاف کرتا تھا تاکہ کسی کو ناحق قید نہ ہو اور مجرم کو بھی زیادہ تکلیف نہ پہنچے۔اسکا عدالتی نظام کڑا اور تیز تھا۔فیروز شاہ کا نظریہ تھا کہ غریب افراد کی کفالت کرنی چاہئے،جو غریب کسی جرم میں قید ہوتا ہے اسکے ورثا میں جرم کی ترغیب پیدا ہوتی ہے،اس لئے اسکے اہل خانہ کی کفالت کرنی چاہئے۔اس نے اپنے وزرا اور دیگر عمال کو سخت تاکید کررکھی تھی کہ جہاں تک ممکن ہوسکے قیدی کو جلد رہا کردو۔تغلق سلطنت کے تمام قید خانوں میں موجود قیدیوں کی فہرستیں ہر ماہ فیروز شاہ تغلق کو پیش کی جاتی تھیں ۔تاکہ وہ قیدیوں کے حالات سے آگاہ رہ سکے۔ 

مزید :

روشن کرنیں -