موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی صحرائے تھر میں پینے کے پانی کابحران شدت اختیار کرگیا، انسان بھی جانوروں کیساتھ پانی پینے پر مجبور

موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی صحرائے تھر میں پینے کے پانی کابحران شدت اختیار ...
موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی صحرائے تھر میں پینے کے پانی کابحران شدت اختیار کرگیا، انسان بھی جانوروں کیساتھ پانی پینے پر مجبور

  

عمرکوٹ (سید ریحان شبیر)موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی صحرائے تھر میں پینے کے پانی کابحران سنگین ہوچلا ہے صحرائے تھر میں   انسانی زندگی کے لیے "پانی"زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے پانی قدرت کی ایک عظیم انمول نعمت ہے تھر میں پانی ہےتو زندگی ہے ورنہ تھر میں قحط ہے اگر خدا نہ کرے تھر میں قحط ہوتو تھر میں انسان تو انسان جانور بھی بےدست پا ہوکر رہ جاتا ہے اس وقت تھر میں شدید ترین گرمیوں میں پینے کا پانی ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے غریب تھری باشندوں کو اس شدید ترین گرمی میں تپتی ریت میں خچروں ،اونٹوں اور گدھوں پر  مٹکے ڈرم   اور کین لاد   کر  میلوں پیدل پانی بھر کر  لانا  پڑتاہے  ۔

غریب تھری کے باشندے  پینے کے  صاف  پانی کے حصول کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہے  پانی کا ایک  ایک قطرہ تھری لوگوں کے  لیے انمول   ہے  خواتین اپنے سروں پر  بھاری  مٹکے رکھ کر پانی کےلیےکئی   میل کی مسافت طے کرنا پڑتی ہےتھر میں  پانی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے  بعض اوقات تو  تھر میں انسان اور جانور اونٹ گدھا     خچر ایک ہی گھاٹ پر   پانی پینے  پر  مجبور ہوتےہیں    تھر میں قدرت کی نظام ہےکہ اگر مطلوبہ اوقات میں باران رحمت کا نزول بارشیں ہوجائے تو تھر ایک جنت نظیر وادی کا روپ دھار لیتا ہے تھر میں مطلوبہ بارشیں ہوجائے تو تھر کشمیر سے زیادہ حسین منظر پیش کرتا ہے اور اگر تھر میں مطلوبہ بارشیں نہ ہوتو تھر میں شدید قحط سالی ہو جاتی ہے اور صحرائے تھر میں شدید قحط سالی کے دوران تھر میں انسانوں کے ساتھ بےزبان جانور بھی بیراج علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

تھر میں حکومت سندھ اپنے طور کام کررہی ہے مگر زیادہ تر معاملات سیاسی انداز میں توجہ دی جاری ہےوفاقی حکومت کا تو تھر کی طرف کوئی دھیان نہیں ہے تھر میں پانی کا زیادہ تر انحصار بارشوں پر کیا جاتا ہے ْ۔ تھر کے غریب باشندوں کا واحد ذریعہ معاش مال مویشی کی تجارت پر ہے تھر میں لوگوں نے پانی کے حصول کے لیے کنویں کھود رکھے ہیں لیکن اس وقت ان کنوؤں میں پانی زیادہ تر خشک ہوچکا ہے یا پھر پانی انتہائی خشک اور زہریلا ہوچکا ہے ہیلتھ کے ماہرین مطابق تھر کے زیر زمین پانی میں سنکھیا شامل ہے تھر میں غریب تھری باشندے پینے کے پانی کا زیادہ تر انحصار بارشوں کے پانی پر کیا جاتا ہے تھر میں جب اچھی بارشیں ہوتی ہے تو تھر کے باشندے تالابوں جسے تھر کی مقامی زبان میں "ترائی "کہتے ہیں اس میں بارش کا پانی ذخیرہ کرلیا جاتا ہے ۔

تھر میں زمین دوز ٹینک بنائے جاتہیں ہیں جس میں پانی      ذخیرہ کیاجاتا تھا پھر یہ کئی روز کا بوسیدہ   پانی تھری باشندے استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تھر میں بارشیں ماہ جون سے اگست تک بارشوں  کا  سلسلہ رہتا ہے اگست تک اگر  تھر   میں مطلوبہ بارشیں  ہوجائے تو  ٹھیک ہے  ورنہ پھر ضلعی انتظامیہ تھر میں قحط ڈکلیئر کردیتی ہے جس کے   بعد    تھر   میں امدادی کاروائیاں شروع کی  جاتی  ہے  اس کے      علاوہ حکومت سندھ نے تھر میں پینے کے کھارہے پانی کو میٹھا کرنے کے بڑی تعداد میں آراو پلانٹ لگائے گئے ہیں مگر یہ تھر میں آبادی کے لحاظ سے نہ کافی ہے جس میں سے تو اکثر وبیشتر تو صیح کام نہیں کررہے ہیں ان  تھری باشندوں کے بقول اکثر وبیشتر آراو پلانٹ سیاسی سفارشی بنیادوں پر لگائے گئے ہیں اس دور جدید میں تھر کے غریب باشندے صاف میٹھے پانی کے لیے ترس رہے ہیں صحرائے تھر کے غریب تھری باشندے غربت بھوک افلاس کا شکار ہے ۔

حکومت سندھ کو تھر میں پینے کے صاف میٹھے پانی کی فراہمی کا معاملہ ٹھوس بنیادوں پر حل کرنا ہوگا غریب تھری باشندوں کو شدید ترین گرمی میں تپتی ریت میں پانی کی تلاش میں در در کی ٹھوکروں سے بچانا ہوگا تھری باشندوں کی مشکلات کے خاتمے اور تھری لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں وفاقی حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے حکومت تھر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ انسانی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا تھر میں غربت بھوک افلاس بےروزگاری کے باعث غریب تھری باشندے شدید مشکلات کا شکار ہے ہر سال تھر میں غذائی قلت کے باعث سینکٹروں بچے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -عمرکوٹ -