دنیا بھر میں 2کروڑ شیرخوار بنیادی نوعیت کی ویکسین سے محروم: عالمی ادارہ صحت 

دنیا بھر میں 2کروڑ شیرخوار بنیادی نوعیت کی ویکسین سے محروم: عالمی ادارہ صحت 
دنیا بھر میں 2کروڑ شیرخوار بنیادی نوعیت کی ویکسین سے محروم: عالمی ادارہ صحت 

  

نیو یا رک (آن لائن)عالمی ادارہ صحت کی طرف سے شیر خوار بچوں کی بنیادی ضرورت کی ویکسین سے متعلق جاری کردہ ایک رپورٹ میں لرزہ خیز اعدادو شمار بیان کیے گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایک کروڑ 95 لاکھ شیر خوار ایسے ہیں جنہیں بنیاد نوعیت کی ویکسین دستیاب نہیں۔ ان میں سے 86 فیصد بچوں کو گذشتہ سال کے دوران بنیادی ویکسین نہیں پلائی جا سکی۔یہ رپورٹ عالمی ہفتہ امیونائزیشن کی مناسبت سے جاری کی گئی ہے۔ یہ مہم 24 سے 30 اپریل تک پوری دنیا میں منائی جا رہی ہے جس میں بچوں کی بنیادی صحت اور ویکسینیشن کے بارے میں آگاہی مہیا کی جائیگی،اس مہم کے ذریعے دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص پسماندہ علاقوں میں بچوں کی طبی ضروریات اور ان کے حصول کے طریقوں کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے گا۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ’’ ام یونائیزیشن ‘‘ صحت کے حوالے سے ایک فعال اور زیادہ کامیاب طبی ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ڈالر جسے بچوں کی ویکسین پر خرچ کیا جاتا ہے اس کے بدے میں اقتصادی اور سماجی شعبوں کو 44 ڈالر کا فائد ہ پہنچتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ ڈاکٹر جواد المحجور کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالت کا شکار خطے کے کئی ممالک میں شیر خواروں کو بنیادی ویکسین کی فراہمی ایک مشکل مرحلہ ہے مگر ہم اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈائریا،تشنج اور کالی کھانسی کی تیسرے مرحلے کی ویکسین کا 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے ،تاہم ابھی بہت سے دوسریامراض کے علاج کے لیے ویکیسینیشن پر کام کرنا باقی ہے۔اعدادو شمار کے مطابق سنہ 2016ء میں 3 کروڑ 70 لاکھ بچے ڈائریا، تشنج اور کالی کھانسی کے تیسرے مرحلے کی ویکسین سے محروم رہے۔ان میں6 ممالک میں صحت کے حوالے سے ہنگامی حالات نافذ تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -