’ہر لڑکی پر کوئی نہ کوئی ہاتھ۔۔۔‘ معروف بھارتی کوریوگرافر نے مجبور لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی پر ایسی بات کہہ دی کہ لڑکیوں تو کیا مردوں کو بھی شدید غصہ چڑھا دیا

’ہر لڑکی پر کوئی نہ کوئی ہاتھ۔۔۔‘ معروف بھارتی کوریوگرافر نے مجبور لڑکیوں ...
’ہر لڑکی پر کوئی نہ کوئی ہاتھ۔۔۔‘ معروف بھارتی کوریوگرافر نے مجبور لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی پر ایسی بات کہہ دی کہ لڑکیوں تو کیا مردوں کو بھی شدید غصہ چڑھا دیا

  

ممبئی(نیوز ڈیسک)کسی پڑھے لکھے سے بات کریں یا ان پڑھ سے، کسی اچھے سے پوچھیں یا برے سے، جنسی استحصال کی بہرحال کوئی حمایت نہیں کرتا، لیکن بالی ووڈ کوریوگرافر سروج خان کے جی میں نجانے کیا آئی کہ فلم انڈسٹری میں اداکاراﺅں کے جنسی استحصال کی کھل کر حمایت کر ڈالی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہندوستان ٹائمز کے مطابق مشہور کوریو گرافر کا کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری میں یہ سب چلتا ہے، ہر لڑکی پر کوئی نا کوئی ہاتھ صاف کرتا ہے، اور اگر وہ لڑکیوں کو استعمال کرتے ہیں تو روزگار بھی تو دیتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ تیلگو اداکارہ سری ریڈی کے متعلق وہ کیا کہیں گی، جو کہ فلم انڈسٹری میں نئی آنے والی لڑکیوں کے جنسی استحصال کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں سروج خان کا کہنا تھا ”ایک بات بتاﺅں، یہ تو چلتا آرہا ہے بابا آدم کے زمانے سے۔ ہر لڑکی پر کوئی نہ کو ئی ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حکومت بھی کرتی ہے۔گورنمنٹ کے لوگ کرتے ہیں تو فلم انڈسٹری کے پیچھے کیوں پڑے ہو۔ وہ روٹی بھی تو دیتے ہیں۔ ریپ کرکے چھوڑ تو نہیں دیتے۔ وہ مت بولو، وہ لڑکی کے اوپر ہے کہ تم کیا کرنا چاہتی ہو۔ تم اس کے ہاتھ نہیں آنا چاہتی تو نہیں آﺅ گی۔ تمہارے پاس آرٹ ہے تو تم کیوں اپنے آپ کو بیچو گی؟ فلم انڈسٹری کا نام نہیں لینا وہ ہماری مائی باپ ہے۔“

سروج خان کے ان جملوں نے صرف بالی ووڈ انڈسٹری ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں ایک ہنگامہ سا برپاکردیا ہے۔ جنسی استحصال کا دفاع کر کے سروج خان نے اپنے پرائے سب کو پریشان کر دیا ہے۔ وہ فنکار جو ان کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں ان کے مﺅقف کا دفاع مشکل محسوس کر رہے ہیں۔ ہر کسی نے ان کے الفاظ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اداکارہ صوفی چودھری کا کہنا تھا ”یہ کیا ہے؟ سروج جی کے لئے بطور کوریو گرافر بہت احترام ہے لیکن کیا وہ لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ اس طرح کرتی ہیں؟“ بالی وڈ کے دیگر فنکاروں کے جذبات بھی کچھ اسی طرح کے تھے جبکہ سوشل میڈیا تو بہت ہی برہم نظر آتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -تفریح -