یہ 18 سالہ افغان لڑکا دراصل کون ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ جواب ایسا کہ آپ کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتے، جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا کہ ایسا بھی ممکن ہے

یہ 18 سالہ افغان لڑکا دراصل کون ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ جواب ایسا کہ آپ کبھی ...
یہ 18 سالہ افغان لڑکا دراصل کون ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ جواب ایسا کہ آپ کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتے، جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا کہ ایسا بھی ممکن ہے

  

کابل(نیوز ڈیسک)بیٹی ہو یا بیٹا، دونوں قدرت کی انمول نعمت ہیں، لیکن بدقسمتی سے پسماندہ اور غریب ممالک میں لڑکیوں پر لڑکوں کو ترجیح دینے کا رویہ بہت ہی عام پایاجاتا ہے۔ ہمسایہ ملک افغانستان میں پائی جانے والی قدیم روایت ”بچہ پوشی“ ظاہر کرتی ہے کہ یہ مسئلہ کس حد تک سنگین ہے اور بیٹے کی چاہ میں والدین کیا کچھ کر گزرتے ہیں۔ اس ملک میں بیٹے سے محروم بعض والدین اپنی بیٹی کو لڑکوں والے کپڑے پہنانا شروع کر دیتے ہیں، اس کے بال کٹوا کر زبردستی لڑکا نظر آنے پر مجبور کرتے ہیں اور بیچاری لڑکیوں کے ساتھ یہ ظلم سالہاسال تک چلتا رہتاہے۔

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں ستارہ وفادار نامی افغان لڑکی کے بارے میں بتایا گیا ہے جو تقریباً ایک دہا ئی سے خود کو لڑکا بنائے ہوئے ہے۔ وہ لڑکوں والے کپڑے پہنتی ہے اور بال بھی لڑکوں جیسے کٹواتی ہے۔ روزانہ لڑکا بن کر کام پر جاتی ہے اور شادی بیاہ ہو یا کسی کی فوتگی، لڑکا بن کر ہی اس میں شرکت کرتی ہے۔

ستارہ کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے ہی لڑکیوں والے رنگ برنگے ملبوسات پہننے اور لمبے بال رکھنے کا خواب دیکھتی رہی ہے۔ وہ پانچ بہنیں ہیں اور کوئی بھائی نہیں ہے۔ بس یہی وجہ تھی کہ اس کے والدین نے اسے لڑکے کا بہروپ دینے کا فیصلہ کیا اور وہ کئی سال سے اپنی اصل شناخت چھپا کر خود کو لڑکا ظاہر کرنے پرمجبور چلی آرہی ہے۔ وہ ہر صبح شلوار قمیض پہنتی ہے اور مردانہ چپل پہن کر کام پر چلی جاتی ہے۔ اس کے والدین نے بھٹہ مالک سے بھاری قرض لے رکھا ہے جسے چکانے کے لئے سارا خاندان بھٹے پرمزدوری کرتا ہے۔

ستارہ نہ صرف اپنے والد کا بڑا بیٹا بن کر کام کرتی ہے بلکہ شادی بیاہ اور فوتگی میں بھی اپنے خاندان کی بطور مرد نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لڑکی ہونے کی صورت میں وہ نہ تو بھٹے پر جاکر کام کرسکتی تھی، نہ خاندان میں کہیں جاکر اپنے گھر والوں کی نمائندگی کرسکتی تھی۔

بچہ پوشی کی روایت کا شکار بننے والی لڑکیاں عام طور پر بلوغت کو پہنچنے پر زنانہ لباس پہننا شروع کردیتی ہیں لیکن بعض ایسی بھی ہیں جو بعد میں بھی لڑکوں والا لباس پہنتی رہتی ہیں۔ ستارہ کی عمر 18 سال ہوچکی ہے لیکن وہ اب بھی مردانہ لباس پہن کر روزانہ بھٹے پر کام کرنے جاتی ہے۔ اسے کبھی سکول جانے کا موقع نہیں ملا۔ آٹھ سال کی عمر میں اس نے بھٹے پر کام شروع کیا تھا اور اب زندگی اس حال میں گزارتے 10 برس بیت گئے ہیں۔ روزانہ 500 اینٹیں بنانے کے اسے تقریباً 250 روپے ملتے ہیں۔ صبح کام کے لئے جاتی تو واپس آتے شام ڈھل جاتی ہے، اور بس یہی ستارہ کی زندگی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -