آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے

  

ایک مسلمان کو کردارسازی پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔ماں کی گود سے تعلیمی اداروں تک یہ کام ہوتا رہا ہے ،جب یہ ختم ہوا،مسلمانوں میں کردار سازی کا سکول بھی بند ہوتا چلا گیا ۔کردار سازی خوف خدا سے ہوتی ہے۔جسے خوف خدا ہو وہ حب رسول ﷺ کا شیدا ہوتا ہے ۔اور جو رسول اللہﷺ سے محبت کرتے ہیں ،ان کے لئے سکول آف تھاٹ اسوہ حسنہ ہونا چاہئے جس کو کوئی ختم نہیں کرسکتا ۔ 

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں زندگی میں رات کوسوتاہی نہیں تھا ۔جب پوچھاگیاکہ آپؓ کیوں نہیں سوتے۔ کہا کہ اگرمیں نیندکے دوران مرگیاتواللہ کے سامنے کون سے اعمال پیش کروں گا۔اس خوف سے حضرت علیؓ سوتے ہی نہیں تھے۔علیؓ نے پھرکہاکہ میں صرف ایک رات سویاتھا۔اس رات سویاتھاجب اللہ کے رسولﷺ نے کہا’’علیؓ،آج رات تم میرے بسترپرلیٹ جانا‘‘

رسولﷺ نے سونے کانہیں کہابلکہ کہاکہ لیٹ جانا۔اورکہاکہ صبح لوگوں کی امانتیں واپس کردینا۔اس رات میں سویاکہ صبح علیؓ یقیناً اٹھے گاکیونکہ رسولﷺنے فرمایاکہ صبح اٹھ کرعلیؓ،لوگوں کی امانتیں واپس کردینا۔علیؓ کوعلیؓ کس نے بنایا۔ایمان نے بنایااورایمان کردارکے بغیرممکن نہیں۔خداکی شناخت کے لیے دلوں کوتوڑنے والے نہیں چاہئیں۔محمود غزنوی کے ایک وزیرکانام ایاز تھا۔اس کاایک چھوٹاساکمراتھاجسے وہ تالالگاکررکھتاتھا۔لوگوں نے شکایت لگائی کہ بادشاہ سلامت ،ایاز اس کمرے میں چوری کامال رکھتاہے اور پھر تالا لگا دیتاہے۔کسی کونہیں پتاکہ اس کمرے کے اندرکیاہے۔

محمود کوبھی شک ہوااوراس نے ایازسے کہاکہ مجھے دکھاؤکہ کمرے میں کیاہے۔ایاز نے تالاکھولا،تواس میں ایک چٹائی اور کچھ برتن تھے جن میں خشک روٹیاں تھیں ا ورپانی تھا۔محمود نے پوچھاکہ تم نے سونے چاندی کی چوری کی۔ایاز نے نفی میں جواب دیا تومحمودنے کہاکہ یہ سب کیاہے۔ایاز نے کہاکہ بادشاہ سلامت،آپ نے مجھ پراحسان کیااورمجھے وزیربنادیاتومیں نے اس کمرے میں وہ چٹائی اوروہ دیگچی رکھ دی اوراس میں خشک روٹیاں اورپانی ہے جومجھے یاددلاتاہے کہ جب میں وزیرنہیں تھاتومیری اوقات کیاتھی۔جب مجھے بطوروزیرتکبرمحسوس ہونے لگتاہے تومیں تالاکھول کریہ سب چیزیں دیکھتاہوں اوریاد کرتا ہو ں کہ میں توخشک روٹی پانی میں ڈبوکرکھانے والاہوں۔ 

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -