لاہور ہائیکورٹ نے مستقل ہونے والے کنٹریکٹ لیکچرارزکو "پے پروٹیکشن "دے دی

لاہور ہائیکورٹ نے مستقل ہونے والے کنٹریکٹ لیکچرارزکو "پے پروٹیکشن "دے دی
لاہور ہائیکورٹ نے مستقل ہونے والے کنٹریکٹ لیکچرارزکو

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے مستقل ہونے والے کنٹریکٹ لیکچرارزکو "پے پروٹیکشن "دے دی.

عدالت نے مستقل کئے گئے لیکچررز کی تنخواہوں سے کنٹریکٹ الاﺅنسز کی ہونے والی کٹوتیاں واپس کرنے کاحکم دے دیا۔جسٹس شجاعت علی خان نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار ظفر مقبول خان کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے-06-07 2005اور2009ءمیں تعینات ہونے والے کنٹریکٹ لیکچررز کو مستقل کرتے ہی حکومت پنجاب نے غیر قانونی طور پر ان کی تنخواہوں سے کنٹریکٹ الاﺅنس کی کٹوتی شروع کر دی۔عدالت کو آگاہ کیا گیاکہ قوانین کے تحت حکومت سرکاری ملازمین کو دی جانے والی مراعات واپس نہیں لے سکتی۔سپریم کورٹ نے کنٹریکٹ سے مستقل ہونے والے ملازمین کی تنخواہوں سے ہونے والی کٹوتیاں غیر قانونی قرار دے رکھیں ہیں ،عدالت حکومت کے غیر قانونی اقدام کو کالعدم قرار دے، عدالت نے فریقین کے وکلاءکے دلائل مکمل ہونے پرکنٹریکٹ لیکچرارز کی تنخواہوں کو پے پروٹیکشن دیتے ہوئے کی جانے والی کٹوتیاں واپس کرنے کا حکم دے دیاہے، عدالت نے وزارت خزانہ پنجاب اور اکاﺅنٹنٹ جنرل پنجاب کو آئندہ سے کٹوتیاں نہ کرنے اور تنخواہوں میں معمول کے ہونے والے اضافہ کو تنخواہ کا حصہ بنانے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -