فیملی عدالتوں میں طلاق کے دعووں میں اضافہ، 7روز میں 100دعوے دائر،50کوڈگریاں جاری 

فیملی عدالتوں میں طلاق کے دعووں میں اضافہ، 7روز میں 100دعوے دائر،50کوڈگریاں ...
فیملی عدالتوں میں طلاق کے دعووں میں اضافہ، 7روز میں 100دعوے دائر،50کوڈگریاں جاری 

  

لاہور(نامہ نگار)فیملی عدالتوں میں طلاق کے حصول کے لئے دعوے دائرکرنے کی شرح میں اضافہ ہونے لگا ،ایک ہفتے میں تقریباً100خواتین نے دعوے دائر کردیئے گئے جبکہ50خواتین کے حق میں ڈگریاں بھی جاری کردی گئی ہیں ۔

عدالتوں نے جاری کی گئی ڈگریوں میں قراردیا کہ زندگی کے نئے سفرمیں جلدبازی کی بجائے والدین کی مرضی شامل کرنابہت ضروری ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال یکم جنوری سے یکم نومبرتک اڑھائی ہزارطلاق کے دعوے دائرکئے گئے تھے،ان خواتین میں زیادہ تروہ تھیں جنہوں نے والدین کی مرضی کے خلاف شادیاں کی تھیں۔فیملی عدالتوں میں طلاق لینے کے لئے دعوے دائرکرنے کی شرح دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے۔اس حوالے سے وکلاءوکلاءمدثر چودھری، مرزاحسیب اسامہ ،مجتبیٰ چودھری کا کہنا ہے کہ والدین کی مرضی کے بغیرشادی کرنے والی خواتین بعد میں اپنی غلطی تسلیم کرتی ہیں جس کے بعد وہ طلاق کیلئے عدالت سے رجوع کرلیتی ہیں ،اگر وہ پہلے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں بلکہ اپنے ماں باپ کی خواہش کے مطابق چلیں تو انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑے۔اسی طرح شوہروں سے خرچہ نہ ملنے پربھی بہت سی خواتین نے عدالت کادروازہ کھٹکھٹا یاہے ۔فاضل عدالتوں کے ججوں نے بھی مختلف مقدمات میں ڈگریاں جاری کرتے ہوئے قراردیاکہ شادی کرتے وقت والدین کی رضامندی شامل ہونی چاہیے۔اس حوالے سے وکلاءمدثر چودھری، مرزاحسیب اسامہ ،مجتبیٰ چودھری کا مزید کہنا ہے کہ فیملی سول عدالتوں میں روزانہ کی بنیادپر3سے 5طلاق کے دعوے دائر ہوناتشویشناک ہے۔ایسی صورتحال میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ جلدبازی کی روش کوترک کردیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -