جمہوریت کے دشمن

جمہوریت کے دشمن
جمہوریت کے دشمن

  

گزشتہ 72سال سے جمہوریت اور مارشل لاء کی آنکھ مچولی نے قوم کو دو الگ طبقوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طبقہ ملک میں نام نہاد جمہوریت اور اس کے مضمرات اور خرافات پر بالکل واضح موقف رکھتا ہے اور ایسی نام نہاد جمہوریت کو سول مارشل لاء سے تشبیہ دیتا ہے اور اس جمہوریت کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیتا ہے۔ دوسرا طبقہ جو کہ سیاسی طریقہ انتخاب اور عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے والے نمائندوں کے ساتھ ملک چلانے کا حامی ہے اور ووٹ کی طاقت پر نظام چلتے رہنے سے ملکی بقاء اور ترقی کو یقینی جانتا ہے۔

جمہوریت ہے کیا اور یہ کن معاشروں کے لئے نظام اقتدار ہے یہ جاننا بے حد ضروری ہے۔ جمہوری سسٹم کے تحت عوام میں اپنے نمائندے منتخب کرنے کا شعور ہونا بے حد ضروری ہے اور یہ شعور دو طریقوں سے آتا ہے ایک تعلیم، دوسرا تجربے سے۔ تعلیم کے اعتبار سے اگر شعور کو پرکھا جائے تو پاکستان میں لٹریسی ریٹ 58فیصد ہے جو 9 کروڑ 76 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

اس لٹریسی ریٹ کے اندر کا جائزہ لیا جائے تو 2 کروڑ 36 لاکھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو صرف اپنا نام لکھنا جانتے ہیں اور دستخط کر سکتے ہیں۔ تقریباً 2کروڑ 90 لاکھ ایسے افراد ہیں جنہوں نے مڈل پاس کیا ہوا ہے۔ یعنی کل ملا کر 58فیصد کے آدھے سے زیادہ افراد صرف سطحی لحاظ سے تعلیم یافتہ شمار کیے جاتے ہیں۔ اگر ان کو ایک طرف کر دیا جائے تو پاکستان میں صرف 28فیصد تعلیم یافتہ طبقہ باقی بچتا ہے۔

اس میں بھی تقریباً آدھے افراد یعنی 14فیصد افراد انتخابات کے عمل میں حصہ لینا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔باقی پڑھا لکھا طبقہ14فیصد ووٹ کے عمل میں حصہ لیتا ہے حالیہ الیکشن کا ٹرن آؤٹ 60فیصد سے زیادہ ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ 46فیصد غیر تعلیم یافتہ افراد الیکشن کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اب دوسرا پہلو تجربہ ہے۔ اس امر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اگر برے تجربے سے بہتر فیصلہ سازی ہوتی تو یہ قوم بار بار کرپٹ حکمران، چور، اچکے، بدمعاش اور رسہ گیر منتخب کر کے اسمبلیوں میں نہ بھیجتی۔ ہمارے ہاں 46فیصد غیر تعلیم یافتہ طبقہ جو کہ انتخابی عمل میں حصہ لینے والے افراد کا کل 77فیصد بنتے ہیں۔ وہ ذاتی لالچ، برادری ازم، دھڑے بازی، دشمن داری اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر نمائندہ چننے کے فیصلے کرتے ہیں۔

ملکی سلامتی، ملکی مفادات، ملکی ترقی، معاشی خوشحالی تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ جمہوریت کا حسن جمہور سے ہے اور جمہور غیر تعلیم یافتہ ہے یہی وجہ ہے کہ جمہوریت پروان نہیں چڑھ پائی۔ رہی سہی کسر ہماری جمہوریت پسند سیاسی پارٹیوں پر آمرانہ خاندانی تسلط نے پوری کر رکھی ہے ۔

سب سے زیادہ اضطراب اس وقت ہوتا ہے جب سب پارٹی نمائندے کرپشن ظاہر ہونے پر بھی اپنی قیادت کے قصیدے پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ میں نے سیاسی سٹرکچر کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ یہ سٹرکچر کارکن سے لے کر قائد تک اپنے اپنے مفادات میں لت پت دکھائی دیتا ہے۔ جلسے میں آنے والے کارکن کی نظر دیگوں پر، ووٹر کی نظر نمائندے کی جیب پر، نمائندے کی نظر فنڈ پر اورقائدین نے نظر قومی خزانے پر رکھی ہوتی ہے۔

سیاسی پارٹیاں اور قائدین ہمیشہ سے یہ گلہ کرتے آئے ہیں کہ جمہوریت کے پودے کو مارشل لاء کے ذریعے مسل دیا جاتا ہے اسی لئے یہ پروان نہیں چڑھ رہا اور دلیل یہ کہ بری سے بری جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔

میں بڑے عرصے تک دل کو یہی تسلی دیتا رہا اور جمہوری جرنلسٹ ہونے پر فخر کرتا رہا۔ لیکن افسوس تیس ،تیس سال سے برسر اقتدار لوگوں کی دولت کی ہوس کم نہیں ہوئی بلکہ مزید نکھر کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے ہر دور میں کرپشن کے نئے طریقے دریافت کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔

قائدین کا دعویٰ ہے کہ کچھ نادیدہ ہاتھ جمہوریت کو پروان نہیں چڑھنے دیتے اور سازشوں کے ذریعے کچل دیتے ہیں میں یہ کہتا ہوں کہ جمہوریت کے خلاف سب سے بڑے سازشی یہ خود ہیں۔ ان کی ذہانت، صلاحیت اپنے خاندان کو تو اربوں کھربوں پتی کر دیتی ہے جبکہ ملک کا دیوالیہ نکل جاتا ہے۔

اگر جمہوریت کرپشن کرنے اور پھر پکڑے جانے پر تحفظ فراہم کرنے کا نام ہے تو عوام کو ایسی جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ جمہوریت صرف چند خاندانوں کے در کی غلام ہے وگرنہ تو عوام کو اسی جمہوریت نے ننگ دھڑنگ کر ڈالا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -