ڈاکٹروں کا انتباہ نظر انداز نہ کریں

ڈاکٹروں کا انتباہ نظر انداز نہ کریں

  

پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین اور اموات کی تعداد بڑھ رہی ہے، مئی میں وائرس تیزی سے پھیلنے کے بارے میں وزیراعظم عمران خان پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں، ملک میں پانچ ہزار کیسز 46دن میں سامنے آئے ہیں،جبکہ صرف بارہ دِنوں میں پانچ ہزار مزید مریض رجسٹر ہوئے، اموات کی شرح بھی پہلے سے بڑھ گئی ہے، اِس وقت مریضوں کی مجموعی تعداد دس ہزار سے متجاوز ہے۔ سینئر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے نام پر مذاق جاری نہ رکھا جائے اور مساجد، نمازیوں اور رمضان میں تراویح کے لئے نہ کھولی جائیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مریضوں کی بلند ترین سطح مئی کے آخر اور جون کے شروع میں متوقع ہے۔سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ ٹیسٹ کے بعد سو میں سے دس افراد کورونا کے مریض نکل رہے ہیں۔

سرکاری حلقوں اور ڈاکٹروں کی طرف سے مسلسل خبردار کیا جا رہا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مریضوں کی تعداد بڑھے گی اور اموات میں بھی اضافہ ہو گا،لیکن مقامِ افسوس ہے کہ احتیاط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے،بند دکانیں زبردستی کھولنے کی ”دھمکیاں“ بھی دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اگر دو دن میں تاجروں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہ دی گئی، تو وہ یک طرفہ طور پر دکانیں کھول لیں گے۔ سندھ میں شرح اموات2.2 فیصد ہو گئی ہے اور اس کی وجہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ مساجد کھولنے کی اجازت 20شرائط کے تحت دی گئی ہے اگر ان کی پابندی نہ ہوئی تو مساجد بند کر دیں گے، ایسی باتیں حکومتی حلقے مسلسل کر رہے ہیں،ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پہلے اجازت دے دی گئی اور مضمرات پر غور اب کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ ساری باتیں اُس وقت کرنے والی تھیں جب اجازت دی جا رہی تھی، اب کل سے رمضان شروع ہو رہا ہے اور آج تراویح کا آغاز ہو جائے گا،اِس لئے عین وقت پر اجازت منسوخ کرنے کی باتیں کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ اب بھی اچھی طرح سوچ بچار کر کے ایک ہی بار فیصلہ کر لیا جائے، بار بار متضاد فیصلوں سے کنفیوژن بڑھے گا۔

عالمی ادارہ صحت بھی خبردار کر رہا ہے کہ جلدی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا نتیجہ ہو لناک نکلے گا،لیکن لگتا ہے کہ ہمارے ہاں تاجروں کو رمضان اور عید ”کمانے“ کی جلدی ہے وہ کئی ماہ سے اِس کی تیاری کر کے بیٹھے ہوئے تھے کہ کورونا کی آمد نے معمولاتِ زندگی تہس نہس کر دیئے، تاجر کورونا کے اثرات کو نظر انداز کر کے اپنے کاروبار کھولنے پر اصرار کر رہے ہیں، کئی جگہوں پر تو ایسی دکانیں کھول بھی دی گئی ہیں، جن کی اجازت نہیں ہے۔ ایک راستہ یہ بھی نکالا گیا ہے کہ شٹر ڈاؤن کر کے باہر سے تالا لگا کر دکانوں کے اندر کاروبار ہو رہا ہے اسی لئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو متنبہ کرنا پڑا کہ اس انداز میں دکانیں کھولنے والوں کو جرمانے کریں گے۔ لگتا ہے دکانداروں کو کورونا کے سنگین اثرات اور جانوں کے اتلاف کی نسبت اپنے کاروبار میں زیادہ دلچسپی اور جلدی ہے، حالانکہ اِس وقت ضرورت صبر و تحمل کی ہے۔ لاک ڈاؤن کو کامیاب کرنے کے لئے حکومتی اور ڈاکٹروں کی ہدایات کو نظر انداز کرنے کے منفی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

خانہ کعبہ اور مسجد ِ نبوی کی انتظامیہ اور دوسرے عملے کے ارکان کو دس رکعت نمازِ تراویح پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے،جس کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ کم وقت کے لئے مسجد میں ٹھہریں ایسے احتیاطی اقدامات پاکستان میں بھی ہو سکتے تھے،لیکن حکومت اور علماء نے مل کر جو فیصلہ کیا اس میں شرائط تو ایسی رکھ دی گئیں جن پر عمل پیرا ہو کر نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں،لیکن اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا کہ ان پر عمل درآمد کون کرے گا اور کون کرائے گا؟ پچاس سال سے زائد عمر کے افراد پر مسجد میں آنے پر پابندی ہے اسی رعایت سے فائدہ اٹھا کر مفتی منیب الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اور مولانا تقی عثمانی نمازیں گھر پر ادا کریں گے۔پچاس سال سے زائد عمر کے نمازیوں کو بھی یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ گھروں میں نماز ادا کریں،لیکن وہ مسجدوں میں آئے تو انہیں روکے گا کون؟

اِس وقت آزاد کشمیر میں مریضوں کی تعداد پورے ملک کے مقابلے میں کم ہے اور اموات سے تو یہ خطہ بالکل محفوظ ہے۔گلگت، بلتستان میں بھی مریض تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں اور نئے کیسز بھی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہے، اِس لئے یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کم کیسز کی وجہ احتیاطی تدابیر ہیں یا موسمی حالات، جائزے اور تجزیئے کے بعد ایسے اقدامات ملک بھر میں کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تاثر تو غلط ثابت ہو چکا ہے کہ گرمی میں وائرس ختم ہو جاتا ہے۔دُنیا کے کئی ممالک میں گرمی کی شدت شروع ہو چکی ہے پاکستان کے بعض علاقوں میں بھی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے،لیکن کورونا کے مریضوں میں اضافے سے اس تاثر کی نفی ہو رہی ہے کہ گرمی میں وائرس ختم ہو جاتا ہے۔دُنیا کے بہت سے ممالک میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کیا جا رہا ہے کہ عجلت میں کوئی غلط فیصلہ نہ کیا جائے، ہمارے جو تاجر کاروبار شروع کرنے کے لئے بے قرار ہیں انہیں پہلے مرض کے پھیلاؤ اور کاروباری سود و زیاں کا حساب لگا لینا چاہئے،حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کر کے کاروبار کو ترجیح دینا بہرحال ایک بُرا فیصلہ ہو گا، جس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ احساس پروگرام سے سفید پوش طبقے کو بھکاری بنا دیا گیا ہے احساس پروگرام کی سربراہ شہریوں کو قطاروں میں لگا کر تصاویر بنواتیں اور بری الذمہ ہو جاتی ہیں۔ جناب چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کی گڈ گورننس پر بھی سوالات اٹھائے ہیں ان ریمارکس کی روشنی میں امدادی رقوم کی تقسیم کا طریقہ کار بدلنے کی ضرورت ہے ایسے اجتماعات میں سماجی فاصلے کی پابندی بھی نہیں کی جاتی اور اہتمام کے ساتھ تصاویر بھی بنائی جاتی ہیں۔ جماعت اسلامی اب تک ایک ارب سے زیادہ کا امدادی سامان تقسیم کر چکی ہے،لیکن کوئی ایسی تصویر کبھی سامنے نہیں آئی جس میں حاجت مند لوگ نظر آ رہے ہوں، زیادہ سے زیادہ امدادی سامان رکھے جانے کی تصاویر اخبارات میں شائع ہوئی ہیں اس طریق ِ کار کو اگر حکومتی ادارے بھی اپنائیں تو اس سے لوگوں کو عزتِ نفس کا احساس ہو گا، حکومت کے جو منصب دار بڑے اہتمام سے تصویریں بنواتے اور چھپواتے ہیں،اُن کے لئے جناب چیف جسٹس کے ریمارکس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے۔ سرکاری امداد سے ”حلقے مضبوط کرنے“ کی حکمت عملی کو بھی خیر باد کہنا ہو گا، زندگی کی متاعِ عزیز کو وقتی مصلحتوں پر قربان کرنے کا رویہ درست نہیں ہے اس لئے ساری توجہ کورونا پھیلنے سے روکنے پر مرکوز ہونی چاہئے، باقی سب باتیں ثانوی ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -