کورونا اور نچلی ذاتیں

کورونا اور نچلی ذاتیں

  

وقت کا ستم دیکھیں کہ آدمی کے لئے وقت کاٹنا دوبھر ہو چلا ہے۔ایک ایک لمحہ گویا گھنٹوں پر محیط ہو رہا ہے اور دن کٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ انسان، اپنے جیسے انسانوں سے دور، خود کو محبوس کئے، کسی معجزے کے انتظار میں ہے۔ یہ شاید حضرتِ انسان کی کسی مجہول حرکت کا محرک ہے یا فطرت کے اصولوں کی پامالی کا کوئی شاخسانہ، کہ ایک نہایت چھوٹا جرثومہ، ”کورونا“ کے نام سے، کہیں سے نمودار ہوتا ہے اور دُنیا بھر کے انسانوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔انسانی زندگی کو جامد کرتے ہوئے،دُنیا بھر کے صحت کے اداروں میں ایک تھرتھلی سی برپا کر دیتا ہے۔ صرف یہی نہیں،پورے عالم کے معبدوں، چمکتے دمکتے شہروں اور رنگا رنگ گلزاروں کو ویرانوں میں بدل ڈالتا ہے۔ایسی روح فرسا بے بسی میں ہمیں ”روحانی بابا“ یاد آ گئے،جن کی باتیں اکثر ہماری اُلجھن سلجھا دیا کرتی تھیں۔باہر لاک ڈاؤن چل رہا تھا، مگر ہم اپنے ”طبیب“ کے ہاں جانے کا بہانہ لئے ”روحانی بابا“ کے آستاں جا پہنچے۔(جبکہ ہمارے لئے تو وہ طبیب سے بھی اوپر کا درجہ رکھتے ہیں)۔

ہماری یوں اچانک آمد پر ”روحانی بابا“ ذرا سا مسکرائے اور ماضی کے برعکس قدرے خوشگوار انداز میں گویا ہوئے ”لاڈلے! مجھے تمہاری آمد کا اندازہ تھا اور ہواس باختگی کا بھی احساس ہے، نیز تمہارے چہرے پہ لکھے سوالات بھی پڑھ چکا ہوں۔ سوچتا ہوں کیا کہوں،کیونکہ پہلے کی طرح، آج بھی میری باتیں تمہارے سر کے اوپر سے گزر جائیں گی؟“ہم نے اثبات میں سر ہلایا اور عرض کیا ”بابا جی! یہ سب کچھ آخر کب تک چلے گا؟ امیروں کو تو چھوڑیں، اُن مجبو و مقہور غرباء کو گھروں میں قید کر کے،حاکم اعلیٰ شاید ”کورونا“ سے تو انہیں بچا لیں گے،مگر بھوک و بیماری سے تو اُنہیں کوئی نہیں بچا پائے گا۔ سُنا تھا قیامت چند لمحوں میں ہی برپا ہو جائے گی،مگر یہ کیسی قیامت ہے، جو طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔ آخر اِن بے بس انسانوں کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟“

”روحانی بابا“ نے ہماری بات کانوں پر سے یوں اُڑا دی، جیسے وہ پہلے ہی جانتے ہوں کہ ہمارا سوال کیا ہو گا؟وہ کہنے لگے ”یہ سزا غربت کو اس کی جہالت، امارت کو اُس کی شقاوت اور عبادت کو اُس کی تجارت پر دی جا رہی ہے۔حالات جب اِس نہج پر پہنچ جائیں تو فطرت کے ابدی قوانین متحرک ہونا شروع ہو جاتے ہیں،جن کی ایک جھک تم آج کل دیکھ رہے ہو“۔ بابا جی ایک لحظے کو رُکے اور بولے ”دیکھو! یہ دُنیا اور اُس کا نظام ایک انتہائی توازن پر قائم ہے۔آج کل تو بچوں کو بھی علم ہے کہ یہ زمین ایک ایسے زاویے پر محو ِ گردش ہے، جو ذرا کروٹ بدلے تو سب کچھ اُلٹ ہو سکتا ہے۔ اس پر بسنے والا انسان بھی ایسے ہی کسی انتہائی توازن پر پیدا کیا گیا ہے اور اِسی توازن کو ”فی احسن تقویم“ کہا گیا ہے۔ اتنا کہہ کر انہوں نے توقف کیا تو ہم نے سوال داغ ڈالا ”بابا جی“!چلیں ہمیں تو ہماری غربت، جہالت اور دکھاوے کی عبادت پر سزا مل رہی ہے،مگر جو انسان،اِن علتوں سے ماورا ہیں وہ تو سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں جیسے اٹلی،امریکہ سپین، برطانیہ جیسے ممالک۔ وہاں کے انسان تو باشعور اور باعلم ہیں۔ یہ کیسا بے رحم انصاف ہے جو نسبتاً زیادہ باشعور لوگوں پر برہم ہے؟

بابا جی نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولے ”اگر تم نے انسانوں کی تاریخ کو بغور پڑھا ہو تو جان لو کہ انسانوں میں قدرت نے مختلف گروہ تخلیق کئے ہیں جسمانی طور پر سبھی مرد و زن ایک جیسے ہوتے ہیں،مگر فطرتاً جُدا جُدا بھی۔ تاریخ ِ عالم ہمیں بتاتی ہے کہ مختلف گروہوں میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو ازل سے اپنے ہی ذہنی انتشار کا شکار رہا ہے۔کئی برگزیدہ پیغمبر بھی اُسے سدھارنے کی کوشش کرتے رہے، مگر تھک ہار کر انہیں ملعون کر کے چلے گئے۔اُس گروہ کے لاکھوں انسان، طرح طرح کے مصائب جھیل کر بھی سرکشی، فتنہ گری سے کنارا کش نہ ہوئے۔ابھی زیادہ دور کا قصہ نہیں، فقط 90،80سال پیشتر جس ابتری سے وہ گزرے، کوئی اور قوم ہوتی تو کاروبارِ حیات چھوڑ، کسی معبد میں جا بسیرا کرتی، مگر اپنی ہٹ کے پکے اور اپنی برتری پہ نازاں،آگے بڑھتے رہے۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد دُنیا بھر کی حکومتیں اور عوام، جب سانسیں استوار کرنے میں وقت صرف کر رہے تھے اُس وقت اُس گروہ کے چنیدہ افراد، نئے علوم، نئی ٹیکنالوجیز کے حصول میں دن رات ایک کئے جا رہے تھے۔انتہائی غیر معمولی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے، وہ غیر مرئی طریقے سے، ایسے ایسے علوم میں مہارت حاصل کرتے گئے کہ ہر شعبہ زندگی اُن کے زیر نگیں آتا گیا۔ہلاکت آفرین ہتھیاروں کی تیاری سے لے کر خورد ونوش کے بڑے بڑے اسٹیک ہولڈرز تک، مصنوعی ذہانت کے کرشموں سے لے کر میڈیا انڈسٹری کے طلسمات تک، زمین کی تہوں میں مدفون خزانوں سے لے کر افلاک کی تسخیر تک، وہ بے پناہ علم سمیٹ چکے تھے اور آج وہ دن ہے کہ پوری انسانیت کو وہ اپنی مٹھی میں لئے بیٹھے ہیں۔ ذرا دباؤ ہٹاتے ہیں تو زمانہ سانس لینے لگتا ہے، صرف انگلی دباتے ہیں تو آدمی کا دم گھٹنے لگتا ہے“۔

سچی بات تو یہ ہے کہ روحانی بابا کی باتیں سُن کر ہمارا بھی دم گھٹنے لگا تھا۔ہم نے اٹکتے لہجے میں سوال کیا ”بابا جی! مگر اب کیا ہو سکتا ہے ہم جیسے کم علم کہاں جائیں، کس دیوار سے سر پھوڑیں،اِس ذومعنی قید سے کیسے نجات پائیں؟“ بابا جی کہنے لگے ”دیکھو! جیسے شطرنج کے کھیل میں ایک پیادہ، بے حیثیت سا ہوتا ہے، یہ وائرس بھی ایک پیادہ ہے جسے اپنی ٹیکنالوجی کے بل پر، انہوں نے کچھ اِس انداز سے روانہ کیا ہے کہ جن لوگوں نے پچھلی صدی کے اوائل میں اُن کے اجداد پر ستم توڑے، اُن کی نسلوں سے حساب چُکتا کیا جا سکے۔اور آئندہ کے لئے انسانوں کو کچھ اس طرح غلام بنایا جائے،جیسے صدیوں پیشتر وہ خود محکومی کرتے رہے تھے۔ اور شاید اگلے راؤنڈ میں وہ انسانوں کی ایک کثیر تعداد کو کچھ ایسے حیوانوں میں بدل ڈالیں جو اُن کے نشان زدہ پٹے گردن میں ڈالے، اُن کے اشاروں پر کبھی ہنسیں، کبھی روئیں،کبھی رقص کریں، کبھی ایک دوسرے کو نوچیں گے اور کبھی خود کو ہی ہلاک کریں گے“۔بابا جی کی یہ منظر کشی ہمارے لئے کپکپاہٹ کا باعث بن گئی۔

ہم نے ڈرتے ڈرتے بابا جی سے سوال کیا ”بابا جی!آپ کا اشارہ جس گروہ کی جانب ہے، وہ تو خود اس ابتلا کا شکار ہو رہا ہے۔ کیا اُن کی ٹیکنالوجی انہیں محفوظ نہیں رکھ سکتی؟“ بابا جی نے عجیب نظروں سے ہمیں گھورا اور کہنے لگے، دیکھو منّے:مَیں تو تمہیں کچھ فہیم آدمی سمجھتا تھا، مگر تم تو بالکل کورے نکلے۔اگر تم نے اپنی سرکشی اور انتظامی درندگی کے باعث ایک بڑی انسانی آبادی کا صفایا کرنا ہے تو دُنیا کو اپنا مثبت چہرہ دکھانے کے لئے کچھ تو ڈرامہ کرنا پڑے گا۔بابا جی نے ہماری بات کاٹ دی اور ذرا جوشیلے انداز میں کہنے لگے ”دیکھو!تم وہ Low Caste (نچلی ذات) ہو جو گزشتہ35،40 سال سے اپنی حکمران اشرافیہ کے ہاتھوں ملاوٹ زدہ زہریلے کھانے، اور آلودہ جراثیم زدہ پانی پی کر بار بار Holocaust کی بھٹی سے گزر کر اتنے زیادہ جسمانی دفاعی نظام (Immunity) کے مالک بن چکے ہو کہ یہ معمولی ”کورونا“ جراثیم تمہارا کیا بگاڑ لے گا؟ مگر پھر بھی تمہیں ہوشیار رہنا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -