کورونا کے مسائل، اور تاجر بھائی؟

کورونا کے مسائل، اور تاجر بھائی؟
کورونا کے مسائل، اور تاجر بھائی؟

  

کووِڈ19(کورونا وائرس) کے پھیلاؤ میں کمی نہیں ہو پا رہی،پاکستان میں بھی متاثرین کی تعداد ساڑھے دس ہزار سے بڑھ گئی ہے، تشویش کی بات یہ ہے کہ روزانہ اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اس تعداد میں بھی اضافہ ہی نظر آیا،ایک روز قبل کراچی پریس کلب میں ڈاکٹر حضرات نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ بتا کر پریشانی میں اضافہ کیا کہ کورونا سے متاثر مریضوں میں 40فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے یہ ڈاکٹر حضرات لاک ڈاؤن میں نرمی پر جز بز تھے اور کہہ رہے تھے کہ لاک ڈاؤن میں اضافہ اور سختی کی جائے۔ انہوں نے مساجد کھولنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور پوچھا کہ جو حفاظتی انتظامات تجویز اور منظور کئے گئے ہیں،کیا ان پر سو فیصد عمل ممکن ہے؟ اگر نمازوں کی اسی طرح اجازت دی گئی تو اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں ہو گا، ڈاکٹر حضرات نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ملک میں صحت کے حالات دِگر گوں ہیں اور ہمارے پاس ہسپتالوں کی بھی کمی ہے، پھیلاؤ ہوا تو مریضوں کا علاج کہاں ہو گا، ڈاکٹروں نے علماء کرام سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی، اور کہا کہ مزید احتیاط کی جائے۔

ڈاکٹر حضرات کی گذارشات بروقت ہیں، اس حوالے سے لاک ڈاؤن کی سختی اور نرمی کے دِنوں کے حالات کا جائزہ لیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ہم پاکستانی کسی نظم و نسق کے پابند نہیں ہو سکتے، جب لاک ڈاؤن تھا تب بھی لوگ کسی نہ کسی بہانے گھروں سے باہر ہوتے تھے، اور اب جب لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی تو سب کچھ بالاء طاق رکھ دیا گیا، بازاروں اور منڈیوں میں ہجوم ہو گیا اور سڑکوں پر ٹریفک میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔ لاہور میں تو صورتِ حال یہ تھی، جیسے حالات معمول پر آ گئے ہوں،عوام کو کسی قسم کی فکر نہیں تھی، ان کے خیال میں کورونا کی وبا شاید ختم ہو چکی۔ یوں بھی، ابتدائی احتیاط کے نتیجے میں ملک میں کورونا کے پھیلاؤ میں شدت نہیں تھی، لوگ تو مطمئن نظر آنے لگے اور ایسی گفتگو شروع ہوئی کہ حکومت گھبرا گئی ہے،حالانکہ وزیراعظم عمران خان مسلسل لاک ڈاؤن سے پیدا مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار اور اس خواہش کا اظہار کرتے تھے، کہ لاک ڈاؤن میں نرمی ہونا چاہئے اور پھر انہوں نے تعمیراتی شعبہ کو کھولنے اور ایک حد تک لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی، صوبائی حکومتوں نے بھی سختی میں کمی کی،بعض صنعتیں (برآمد سے منسلک) کھولنے کی اجازت دے دی، اس کے ساتھ لوگ گھروں سے باہر سڑکوں پر تھے اور مجمع کی صورت ہونے لگی۔ یہ حالات کورونا کے پھیلاؤ کے لئے ساز گر ثابت ہوئے اور اندیشہ کے عین مطابق مریضوں اور اموات کی تعداد بڑھنے لگی، طبی حلقوں، معالج ڈاکٹروں اور صائب الرائے حضرات کی طرف سے ایسی نرمی کی مخالفت کی گئی،جو مانی نہیں گئی اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ہی کاروبارِ حیات پھر سے چلانے کی کوشش ہی نہیں ہوئی، بلکہ کھوے سے کھوا چھلنے لگاکسی نے بھی ایس او پیز پر عمل نہیں کیا اور یوں تحفظات کے عین مطابق اب ہر روز متاثرین اور وفات پانے والے افراد بڑھ رہے ہیں۔

کل سے رمضان المبارک کا آغاز ہو رہا ہے ابھی تک صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ علماء کرام کے طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کی کوئی صورت نظر نہیں آئی، بلکہ بعض مساجد میں داخلے کے حوالے سے نمازی اور منتظمین تکرار کرتے نظر آئے اور پچاس سالہ تو کجا ساٹھ اور ستر سال کی عمر والے بھی جھگڑا کر کے مساجد میں داخل ہوئے،اس سے ثابت ہوا کہ پہلے والا ہی عمل شروع کرنا ہو گا کہ پیش امام سمیت صرف پانچ افراد نماز باجماعت ادا کریں اور باقی حضرات نماز کی ادائیگی گھروں پر ہی کیا کریں۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے ایک اور بڑا تنازعہ بھی اُٹھ کھڑا ہوا ہے، ملک بھر کے تاجر حضرات رمضان المبارک اور عید کی کمائی چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں، اور ان سب نے یکم رمضان المبارک سے دوکانیں کھولنے کا اعلان بھی کر دیا ہے، جبکہ حکومت کے مطابق تاحال غور کیا جا رہا ہے کہ برآمدی صنعتوں اور تعمیراتی شعبے کے بعد تجارتی شعبہ میں بھی نرمی کی جائے،لیکن اس سے پہلے ہی جو صورتِ حال پیدا کر دی گئی، اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہاں رضا کارانہ طور پر قواعد و ضوابط پر عمل ممکن ہی نہیں،کراچی میں تو تاجر حضرات نے پولیس سے جھگڑا کر کے ایک تحریک کی شکل بنانے کی کوشش کر ڈالی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار ہڑتال کی نہیں،دوکانیں کھولنے کا اعلان ہے، کراچی کے اس تنازعہ نے سیاسی رنگ بھی اختیار کیا جب پیپلز پارٹی کی طرف سے باقاعدہ الزام لگایا گیا کہ تحریک انصاف یہ صورتِ حال پیدا کر رہی ہے۔ نفیسہ شاہ نے تو گورنر سندھ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یہ ایک نئی صورتِ حال ہے،اب اگر سب دوکانیں کھول دی جائیں تو کہاں کا کورونا اور کہاں کا لاک ڈاؤن سب سمجھدار حضرات متفق ہیں اور چینی دوستوں کی رائے بھی یہی ہے کہ سخت لاک ڈاؤن اور ا حتیاط ہی سے اس وائرس کی روک تھام ممکن ہے۔دیکھئے آنے والے دن کیا پیغام لاتے ہیں؟

وباؤں کے حوالے سے شہر میں ہونے والی گفتگو کے بعض پہلوؤں کا ذکر بے جا نہ ہو گا یہاں عوام میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہروبا کا ایک مقررہ وقت ہے،کوئی بھی وبائی صورت پیدا ہو تو بتدریج بڑھ کر کم ہوتی چلی جاتی ہے اور ایک وقت میں ختم ہو جاتی ہے، اس سلسلے میں برصغیر میں ہیضہ اور طاعون کے دو مراحل کا ذکر کیا جاتا ہے، جو قبل از تقسیم پیش آئے اور جنازے اٹھانے مشکل ہو گئے تھے،تب طب میں اتنی ترقی نہیں ہوئی جو آج کی میڈیکل سائنس نے کی ہے، لہٰذا اب کورونا کی واپسی کا عمل شروع ہونے والا اور جلد ہی ادویات بھی ایجاد ہو جائیں گی کہ عالمگیر ادویات ساز اداروں کی تجوریاں بھی تو بھرنا ہیں۔ بہرحال حالات ایسے خیالات کو مفروضہ ہی ثابت کر رہے ہیں کہ ابھی تو صرف ویکسین کی بات ہوئی اور وہ بھی ابتدائی مراحل میں ہے۔صحت کے لئے تو پہلے سے موجود ملیریا اور نمونیہ والی ادویات ہی سے کام چلایا جا رہا ہے،اِس لئے کسی ایسے مفروضے پر عمل اور غور کی بجائے احتیاط کا دامن تھامے رکھیئے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو لاک ڈاؤن میں نرمی شعبہ طب کے مشورے پر کرنا چاہئے اور احتیاطی تدابیر پر عمل ڈنڈے سے کرنا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -