اسلامی ریاست میں شعائر اسلام پر حملے

اسلامی ریاست میں شعائر اسلام پر حملے
اسلامی ریاست میں شعائر اسلام پر حملے

  

صبح ہی صبح برطانیہ سے چھوٹی بہن کا نمبر اسکرین پر ابھرا تو میں لرز گیا، اللہ خیر کرے، وہ بولی: " دو دن ہوگئے سوچا, آج بتا ہی دوں۔ بھائی جان! مجھیبھی کو ککرونا ہو گیا ہے"۔ میں نے سن کر اطمینان کا سانس لیا کہ اس سے زیادہ کی توقع تھی. انہیں بھی اطمینان دلایا. اس نے ہشاش بشاش لہجے میں بتایا کہ سرکاری ملازم بیٹے کو تو انہوں نے کہیں اور بھیج دیا ہے کہ یہ اس کا محکمانہ تقاضا ہے۔ باقی سب لوگ اپنے گھر ہی میں رہ رہے ہیں، دعا کریں، اللہ خیر کرے گا. دوسری چچازاد برطانوی بہن سے پتا کیا کہ جس کے دو بیٹے چین میں ڈاکٹری پڑھ رہے ہیں۔ اسے بھی مطمئن پایا: "حمزہ، الیاس دونوں ٹھیک ہیں، اور کیا"؟ اس نے بات کا رخ بدل کر کھلکھلانا شروع کر دیا۔ یہ دونوں واقعات میرے اپنے گھر کے ہیں۔ دعاؤں کی درخواست ہے۔ تاہم ہم سب گھر والے زندگی معمول کی گزار رہے ہیں۔ نماز باجماعت مسجد میں، نماز جمعہ ابھی تک تو کوئی قضاء نہیں ہوئی۔ سب اللہ کی عطا کردہ توفیق سے ہے۔ دوسروں کی خاطر ہم کچھ احتیاطیں تو کررہے ہیں لیکن ہم لوگ اپنے دماغ سے سوچنے کے عادی ہیں۔کیمرے اور مائیک سے پیدا شدہ وبائی ہیجان کی خبر ہم سب کو ہے، اثر کسی پر نہیں ہے۔ دادی اماں مرحومہ ایک دعا پڑھا کرتی تھیں:"ربا، کل مومناں، مسلماناں،انساناں دی خیر". میں وہ دعا ان کے لیے بطور صدقہ جاریہ دہرا دیتا ہوں، آپ سب آمین کہہ دیں۔

کسی شاپنگ مال میں لوٹ مار کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں: اندرونی اور بیرونی. رات 10 بجے جب اکا دکا گاہک ہو، لاکھوں روپے کیشیر کے پاس ہوں توبندوق اٹھائے نقاب پوش دن بھر کی کمائی لوٹ لیتے ہیں۔ دوسری شکل یوں ہو گی کہ اچانک بجلی بند ہو جائے تو کیا ملازم، کیا گاہک جس کے ہاتھ جو لگے، لے بھاگتا ہے۔ اس کرونے کے باعث ذرا دیر کے لیے اسلامی معاشرت کی بجلی کیا بند ہوئی، شعائراسلام کی لوٹ مار خود شاپنگ مال کے اندر کے ملازمین اور گاہکوں نے شروع کر دی۔اس شاپنگ مال میں بیرونی حملہ آور بشکل منافقین، ملحدین، لادین، سیکولر اور زنادقہ ہی کیا کم تھے کہ اسے اجاڑنے کے لیے اندر اور پاس پڑوس کے محلے دار بھی آگئے۔ پہلے پہل تو "تحریک بندش مساجد" چلائی گئی, مسجد جہاں پورے دن میں زیادہ سے زیادہ پچاس افراد آتے جاتے ہیں۔ ایک دن میں نے اسلام آباد کی ایک بڑی اور معروف مارکیٹ میں گھوم پھر کر بغیر ذہن میں کچھ رکھے جائزہ لیا۔ تین مساجد میں سے ایک دھڑے کی مسجد میں خلیجی اور حجاز مقد س کی تقلید میں تالا پڑا تھا۔ دو میں معمول کے مطابق لوگ نماز پڑھ رہے تھے، وہی سو پچاس لوگ۔ اسی مارکیٹ میں چھ بیکریاں اور مٹھائی کی دکانیں پوری آب و تاب کے ساتھ صبح 7 سے رات نو بجے تک ہزاروں گاہکوں کو نمٹا رہی تھیں۔کافی غور کیا. یہ بیکریاں اور مٹھائیاں ضروریات زندگی میں کیسے داخل ہیں۔ دن بھر ان میں ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں اور کرو نا ہے کہ پھیلتا ہی نہیں لیکن 50 نمازیوں سے فوراً پھیل جاتا ہے۔ اس ایک مارکیٹ کے ان چند نمازیوں اور چھ بیکریوں مٹھائیوں کے ہزاروں گاہکوں کو پورے ملک پر پھیلا کر دیکھ لیں کیا جواب آتا ہے۔مسجدوں اور بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں کا یہی تناسب پورے ملک میں ہے۔ دو مساجد میں پچاس لوگ کیا داخل ہوتے ہیں، "تحریک بندش مساجد" کے جملہ عہدے دار حفظ نفس کو حفظ دین پر فوقیت دینے آ جاتے ہیں۔ کیا چینل، کیا کالم نگار، کیا اسلام کا واجبی سا علم رکھنے والے مولوی، سب ذخیرہ احادیث اور اسوہ حسنہٰ کی مثالوں سے لیس ہوکر، خود مسجد جائیں نہ جائیں، لوگوں کو دور رکھنے کے لئے آج کل مساجد پر حملہ آور ہیں۔

دوسرے گروہ کے ہاتھ تراویح آگئیں۔ ان لوگوں نے مفتی منیب الرحمن، مفتی تقی عثمانی، جناب سراج الحق، مولانا زاہدالراشدی، صاحبزادہ ابوالخیر صدر جمیعت علمائے پاکستان، حافظ عبدالقادر روپڑی سربراہ علمائے حدیث کو آج کل تراویح کے متعلق کچھ ایسی نئی معلومات سے مزین کرنا شروع کر دیا جو ان علماء کے علم میں شاید اس سے قبل نہیں تھیں۔ یہ گروہ ان جید علمائے کرام کو آج ساڑھے چودہ صدیوں بعد تراویح کی شرعی حیثیت بتا رہا ہے. تیسرے گروہ کی لوٹ مار سے روزہ کیوں بچ جائے،ملاحظہ ہو:"جراثیم بالعموم گلے پر حملہ کرتے ہیں اور خشک گلا تو ان کا پہلا نشانہ ہوتا ہے۔کرونے سے بچنے کی خاطر بار بار پانی پینا لازم ہے۔ پس روزہ نہ رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ رسالت مآب کا فرمان ہے۔۔۔۔۔!" میرے سامنے روزے کے بارے میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات کھلی پڑی ہیں، ایک جملے میں ان خوش بخت غیرمسلم کفار نے ہمارے شاپنگ مال کے اندر کے ان لٹیروں کی ہوا اکھاڑ کر رکھ دی ہے۔ جملہ ملاحظہ ہو:" دیگر امراض کی طرح کرونا وائرس میں بھی روزے کے بارے میں طبیب کی ہدایت پر عمل کریں۔"

میں کرونا بحران کے اس عرصے میں بڑی احتیاط سے مسجدوں، روزوں اور تراویح کے بارے میں اپنے ا ن "فقہاء " کے بصیرت افروز افکار کا جائزہ لیتا رہا. ان سب کو چار زمروں میں سمیٹا جاسکتا ہے۔ ایک زمرہ اپنے مقامی علماء کے مقابلے میں شیخ الازہر کے فتوی کی پیروی میں پاکستان کی مساجد بند کرانا چاہتا ہے۔ مصری جنرل سیسی کے انداز حکمرانی کے قائل یہ لوگ ایک خاص ذہنی ساخت کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کی پہچان یہ ہے کہ آج کل اول تو یہ کسی سے ملتے ہی نہیں۔اور ملیں تو پہلے ہر شے، جی ہاں ہر شے، کرنسی نوٹ بھی سینیٹائز کرتے ہیں۔ کسی وجہ سے میں ایک گھر میں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، دستر خوان بچھا تھا۔ میں تو کھانا کھا چکا تھا لیکن انہوں نے اپنے لئے تنور سے روٹیاں منگوائیں، نوکر کے جوتے اتروا کر باپ بیٹے نے مل کر اس پر اچھی طرح سینی ٹائیزر کی پھوار ماری۔ پتہ نہیں اس ایک آدھ گھنٹے میں میں نے وہاں کیا کچھ نہیں دیکھا۔ جب وہ لقمہ توڑنے لگے تو مجھ سے نہیں رہا گیا: "قبلہ گاہی اس نان کو بھی ذرا سینٹائز کرلیں۔"

دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنی تحریروں میں خلیجی شیوخ اور دیگر حکام کے فرامین کا سہارا لے کر پاکستانی مساجد، روزے اور تراویح کی بندش چاہتے ہیں۔ یہ وہ اہل علم ہیں جن کے "حکام بالا" کو تو وہاں سے کچھ نہ کچھ موصول ہوتا رہتا ہے۔ یہ اہل علم غیر شعوری طور پر مفت میں اپنے بڑوں کی پیروی کرتے ہیں۔ مت سمجھ لیجئے کہ پیری مریدی کے نظام میں جکڑے ان پڑھ مرید ہی پیر کے اندھے عقیدت مند ہوتے ہیں۔ ہرگز نہیں! اپنے دائیں بائیں دیکھ لیجئے، اس زمرے کی اکثریت کا شمار غیرمقلدین میں ہوتا ہے۔ لیکن یہ لوگ کبھی ایک فلاں ملک کے مفتی اعظم کے فتوی کی تقلید کرتے ہیں تو کبھی دوسرے ملک کے کسی عالم دین کا سہارا لے کر اپنے ملک کے علماء کی کردار کشی کرتے ہیں۔

تیسرا زمرہ ان لوگوں کا ہے جو کسی نہ کسی شکل میں ایوان اقتدار کی قر بت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی قیمت اور ہر کسی کا مول الگ الگ ہوتا ہے۔ کچھ ٹی وی پر نظر آنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ کچھ چھوٹی موٹی نوکری یا کسی ادارے میں مشاورت وغیرہ کے لیے کوشاں رہتے ہیں کہ روٹی روزگار چلتا رہے۔ ان لوگوں کے نزدیک محنت یا میرٹ کچھ نہیں ہوتا۔ اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے یہ لوگ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ موقع ملنے پر ایوان اقتدار کی پر پیچ اور گنجلک راہداری میں موجود ان کے ہم خیال انہیں فورا آگے بڑھا دیتے ہیں۔ کچھ اور ہیں جو محض واہ واہ کی خاطر نادانستگی میں الل ٹپ لکھتے رہتے ہیں۔ 22 کروڑ کی آبادی میں سے انہیں بھی اپنے کچھ ہم خیال اور عقیدت مند مل ہی جاتے ہیں۔ان سب نے بہرحال اپنا اپنا حلقہ اثر بنا رکھا ہے۔

تحریک بندش مساجد، روزہ، تراویح کا قائل چوتھا زمرہ وہ اشرافیہ ہے جو گلے گلے تک لذائذ دنیا میں دھنسی ہوئی ہے۔ یہ مال دار، صاحب جائیداد طبقہ نماز، روزے، حج اور زکوا ۃ سب چیزوں کا پابند ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں ان کا چہرہ سنت رسول سے مزین ہوتا ہے۔ یہ لوگ جم سے نکل کر بیوٹی پارلر جاتے ہیں۔ وہاں سے نکل کر کسی ریستوران میں چلے جاتے ہیں۔ اس طبقے کے لوگوں کی مشترک چیز زیادہ وزن ہے۔ یہ لوگ فون پر لمبی گفتگو سے آپس میں وزن کم کرنے پر معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ لذائز دنیا کی کشش نے انہیں موت سے دہشت زدہ رکھا ہے۔ ان مذکورہ اسلامی اثاثہ جات کے ساتھ اس طبقے کے خیال میں ان کا فرمایا ہوا حرف آخر ہوتا ہے۔ جدید شہری رہن سہن میں ان کا مرتبہ و مقام دیہاتی جاگیردار کا سا سمجھ لیجئے کہ جس میں علماء کی حیثیت وہی ہے جو دیہات میں ہوا کرتی ہے۔

تین عشروں پر پھیلی میری تدریسی زندگی میں سے کئی لوگ سپریم کورٹ تک پہنچ گئے۔ یہ لوگ بحیثیت سیشن جج مجھ سے پڑھ کر گئے ہیں۔ میں اپنی تمام اعلی تعلیمیٰ اسناد کے باوجود ان ججوں کے سامنے کسی مؤکل کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا۔ حالانکہ یہ جج محض ایل ایل بی ہیں، جبکہ میں پی ایچ ڈی ہوں۔ ایل ایل بی وکیل ان کے سامنے مقدمہ لڑ سکتا ہے، میں نہیں لڑ سکتا حالانکہ میں بھی ایل ایل بی ہوں۔ تو میں اعلی تعلیم یافتہ قانون کا پروفیسر کیوں عدل کے عمل میں شریک نہیں ہوسکتا؟ اس لیے کہ عدل کا "مرکز" عدالت ہوتاہے, یونیورسٹی نہیں. اور میں نے اس مرکز میں کبھی قدم نہیں رکھا۔ میڈیکل کالج کا اعلیٰ ترین عہدے دار پرنسپل اور ساری زندگی ڈاکٹر تیار کرنے والا پروفیسر محض پروفیسر ہو تو وہ آپریشن تھیٹر میں قدم تک نہیں رکھ سکتا، آپریشن کرنا تو دور کی بات ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ صحت کا "مرکز" ہسپتال ہے, میڈیکل کالج نہیں۔ چنانچہ شیخ الازہرکی رائے ہو یاعرب جامعات میں شریعت کے پروفیسروں کے فتوے ہوں، عام، کم علم اور سادہ مسلمانوں کو صدیوں سے پتا ہے کہ اسلام کا ''مرکز'' مسجد ہے، ٹی وی چینل، یونیورسٹیاں یا اخبارات نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موت کے خوف سے لرزاں ان طبقات کے پھیلائے وبائی ہیجان کرونا کے باوجود ایک سروے کے مطابق ملک کے 82 فیصد مسلمان آج بھی اسی طرح، لیکن احتیاط کے ساتھ، تراویح پڑھنا چاہتے ہیں جیسے زندگی بھر پڑھتے رہے ہیں۔

خالق کائنات نے اپنے ان اربوں عام لوگوں میں بغیر کسی ڈگری، بغیر کسی علم کے، حق اور باطل الگ کرنے کی حس ودیعت کر رکھی ہوتی ہے۔ حق کا انتخاب کرتے وقت یہ عام لوگ علماء سے عمل بھی مانگتے ہیں۔ سامنے پرانا، باسی اور مضرصحت کھانا پڑا ہو تو ناک خبردار کر دیتی ہے، لیبارٹری ٹیسٹ کی حاجت نہیں ہوتی۔ ہر وقت کیمرے کی آنکھ کے سامنے رہنے کے شائق اور مہلاؤں کے ساتھ تصویروں کے شوقین اپنے دو ایک نٹ کھٹ مفتیوں اور مبلغوں کا حشر دیکھ لیں۔ ایوان اقتدار میں قدم رکھتے ہی اور سوقیانہ گفتگو کرتے ہی یہ لوگ اپنے ہی حلقہ اثر میں اجنبی بن کر آج کل کھلنڈرے اینکروں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ ادھر 82 فیصد مسلمان ٹیڑھی ٹوپی والے سراج الحق،ٹیڑھے دانتوں والے مفتی تقی عثمانی، باباجی مفتی منیب الرحمان، صاحب زادہ ابوالخیر، مجلس وحدت المسلمین کے نا صر عباس جعفری، جماعت اہلحدیث کے حافظ عبدالقادر روپڑی اور علامہ سید ساجد علی نقوی وغیرہ ان سب کو اپنی آنکھوں کا نور سمجھتے ہیں۔ان سب کو میرا سلام۔

صدر ڈاکٹرعارف علوی اور چوٹی کے ان علماء کی بصیرت کو سلام کہ جنہوں نے 82 فیصد مسلمانوں کی امنگوں کے مطابق روزے، تراویح اور مساجد کے ضمن میں بصیرت افروز فیصلے کیے۔ یہ افراد آئیندہ کبھی کسی شدید بحران میں لوگوں کو گھروں میں رہنے تلقین کریں گے تو وہ بھی صحیح ہوگا اور لوگ ان کی بات مانیں گے کہ اسلام کا "مرکز" مسجد ہے، چھٹ بھئیوں کی تحریریں اور گھس کھدوں کی تقریریں نہیں ہیں۔لیکن میری خوشی کا سبب اس فیصلے کے علاوہ ہے۔ تراویح، روزے، مسجد اور دیگر شعائر اسلام سے شدید عناد رکھنے والوں کے ہاں اس فیصلے کی وجہ سے ماتم کا سا سماں ہے۔ کسی کے خیال میں ریاست اور پاپائیت کی اس جنگ میں 'پوپ' جیت گیا۔ کسی دوسرے کی رائے میں سعودی عرب کے برعکس اس فیصلے میں اسلام کے لیے خطرہ ہے، یہ خدشہ درست ہے۔ تحت الشعور میں سویا ہوا تضاد ظاہر کے مسلمان پر بالآخرحاوی ہوکر رہتا ہے۔ اسی شخص کے سامنے اسی سعودی عرب میں قتل کے بدلے قتل کے قانون کی حمایت کر کے د یکھیں۔ یہ لوگ جمہوریت کے حامی اور بادشاہت کے دشمن کہلائے جاتے ہیں۔ یہاں پاکستان میں جمہوری قدروں، مشاورت اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ریاستی سطح پر کیا گیا یہ فیصلہ ان کے لئے یقینا سامان عبرت ہے۔ لیکن سمجھے کون؟ مسجدوں، روزوں اور تراویح کا موجودہ مسئلہ مقامی ہے لیکن یہ لوگ اس کا حل سمندر پار سے لاتے ہیں۔

آخر میں اپنے قارئین سے میری ایک گزارش ہے۔ پانچ منٹ کے لیے مسجد جانے والے تین چار درجن نمازیوں کو یہ 'مبلغین' کرونا پھیلانے کا ذریعہ کہتے ہیں۔ ان مبلغین کی تحریر، تقریر میں کیا آپ کو کبھی مٹھائی کی دکانوں اور بیکریوں میں ہزاروں افراد کی دن بھر کی آمدورفت میں بھی کبھی کرونے کا پھیلاؤ نظر آیا؟ کروڑوں کا کاروبار کرنے والی مٹھائی کی دکانیں اور بیکریاں کیسے ضروریات زندگی ہیں، بند کیوں نہیں ہیں؟ کیا فقہاء نے انہیں حفظ نفس کے لوازم میں شامل کر دیا ہے؟ کیا پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں کو کرونا سے محفوظ قرار دیا ہوا ہے؟ ذرا ان لوگوں سے پتا کر کے بتائیے گا۔ اور ہاں ایک گزارش اور! مسجدوں، روزوں اور تراویح کے ان خیرخواہوں کی کسی تحریر میں اگر آپ کو کبھی توبہ، استغفار اور رجوع الی اللہ کی تلقین ملی ہو تو مجھے ضرور آگاہ کریں۔ مجھے انتظار رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -