ہمارے بُرے دن آنے والے ہیں!

ہمارے بُرے دن آنے والے ہیں!
ہمارے بُرے دن آنے والے ہیں!

  

قنوطیت اور ناامیدی ایک غیر اسلامی صفت ہے۔ صفات (Attributes) اچھی بھی ہوتی ہیں اور بُری بھی۔ صفت کا لغوی مفہوم ”نیک عادت“ یا ”نیک خصلت“ نہیں، صرف عادت اور خصلت ہے۔ اس لئے ناامیدی بھی ایک صفت ہے لیکن یہ رحمانی نہیں، شیطانی صفت ہے اسی لئے شیخ فرید الدین عطار نے کہا تھا:

بحرِ الطافِ تو بے پایاں بود

نا امید از رحمتت شیطاں بود

خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام میں خودکشی اسی لئے حرام ہے کہ خودکشی کرنے والا خدا کی عنایات سے ناامید ہو جاتا ہے۔ لیکن امید یا ناامیدی کی وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا باامید قائم…… دوسرے لفظوں میں امید کے خاتمے کا مطلب دنیا کا خاتمہ ہے۔ آج کورونا وائرس کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کرۂ ارض پر انسان لاکھوں کی تعداد میں مر رہا ہے لیکن معمولاتِ زندگی پھر بھی جاری ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا باقی رہے گی۔ ہمیں اگر خدا کی ضرورت ہے تو خدا کو بھی اپنی خدائی کا ثبوت دیکھنے کے لئے ایک اشرف المخلوقات کی ضرورت ہے۔ بایں ہمہ انسان سے کسی جگہ تو کوئی غلطی ہوئی ہے۔ اس کے خالق نے زمین پر ایک ایسی آفت نازل کر دی ہے جو کسی وارننگ کے بغیر آتی ہے۔ میں سوچتا ہوں اگر دنیا کی آبادی سات ارب سے زیادہ ہے تو کیا انسان نے اس آبادی کو کورونا وائرس سے ٹیسٹ کرنے کے لئے سات ارب سے زائد ٹیسٹ کٹس (Kits) فراہم کر دی ہوئی ہیں؟ کیا ان کو بروئے عمل لانے کے لئے اتنا میڈیکل سٹاف بھی دنیا میں موجود ہے؟…… اگر نہیں تو کیسے معلوم ہو گا کہ کوئی انسان Negative ہے یا Positive ہے؟……

انسان کب تک لاک ڈاؤن میں رہے گا؟ آخرتو اسے کسی نہ کسی سکیل پر لاک ڈاؤن میں نرمی کرنی پڑے گی۔ لیکن کیا کورونا وائرس اس نرمی سے بے اعتنائی برت کر انسان سے درگزر کر دے گا؟…… میرے خیال میں آج تک (یہ پانچواں مہینہ جا رہا ہے) دنیا بھر میں کہیں بھی ایسا کوئی مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملا کہ جہاں انسان نے لاک ڈاؤن کی پرواہ نہ کی ہو اور وہ بچ گیا ہو…… بچے گا وہی جو احتیاطی تدابیر اختیار کرے گا!…… اور صاحبو! یہ احتیاطی تدابیرکا مسئلہ بڑا الجھا ہوا ہے…… ہم پاکستانی ایسی قوم ہیں کہ اس مشکل ترین مرحلے سے کامیابی کے ساتھ نہیں گزر سکتےّ اس لئے زود یا بدیر ہم پر بُرا وقت آنے ہی والا ہے!

کورونا وائرس کسی مذہب، عقیدے، رنگ و نسل اور قومیت کو نہیں دیکھتا…… یہ ایک خدائی وبا ہے جس کی وجہ یا وجوہات کا اب تک کسی کو بھی کوئی علم نہیں۔ اس لئے اس کا علاج بھی دریافت نہیں کیا جا سکا۔ اندازہ لگایا گیا تھا کہ ڈیڑھ سال بعد شائد کوئی ویکسین ایجاد کر لی جائے گی جو اس وائرس کو روکنے کا سبب بن جائے گی۔ لیکن معلوم ہو رہا ہے کہ یہ تریاق جب عراق سے آئے گا تو کورونا کا مارگزیدہ مر چکا ہو گا۔ وہی بات ہوگی:

آخرِ شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ

صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

پچھلے کئی ہفتوں سے ہم پلان کر رہے ہیں کہ اس وائرس سے بچنے کی کم سے کم تدابیر کیا ہیں لیکن ہم ان کی پابندی کرنے سے قاصر ہیں۔ یا شائد یہ کسی بنی نوع انسان کے بس میں نہیں کہ وہ گھر میں مقیّد ہو کر بیٹھ جائے اور زندہ بھی رہے۔ زندہ رہنے کے لئے اسے گھر کی چار دیواری سے باہر نکلنا پڑے گا، لاک ڈاؤن توڑنا پڑے گا یا بصورتِ دیگر مر جانا پڑے گا۔ پاکستانی شہری (یا دیہاتی) آخر کب تک باہر نہیں نکلے گا؟ جب بھی نکلا Positive قرار پائے گا اور کچھ معلوم نہیں کہاں مدفون کیا جائے گا اور کون مدفون کرے گا۔ یہ سنگ دلانہ اور بے رحمانہ کیفیت، قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نہیں تو اور کیا ہے۔ انسان سوشل جانور ہے اس لئے سوشل دوریاں اس جانور کی سرشت میں نہیں۔کورونا کے اس دور میں انسان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے مل جل کر مرنا ہے یا ایک ایک ہو کر، سوشل دوریاں برداشت کرکے اور تنہائی کے عذاب سے گزر کر جان دے دینی ہے۔

صوبہ سندھ کی انتظامیہ لاک ڈاؤن میں ”سختی“ کی حامی ہے جبکہ وفاق ”نرمی“ کا داعی ہے۔

دونوں کی بحثیں میڈیا پر چلتی رہتی ہیں اور وائرس اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ لاک ڈاؤن مکمل ہو یا جزوی، انسان نے اس کو آخر توڑنا ہے اور جب بھی توڑے گا، خود ٹوٹ ہو جائے گا۔ یہ ”خودشکنی“ اسے منظور ہے لیکن ”خود خلوتی“ منظور نہیں …… اللہ اکبر! کیا عجیب صورتِ حال ہے!…… پنجاب میں گزشتہ دنوں لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور کراچی میں کھوے سے کھوا چھلنے لگا۔بظاہر دکانوں کو تالے پڑے ہوئے تھے۔ لیکن سڑکیں اور گلیاں خالی نہیں تھیں۔ سوشل دوریوں کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ اگلے روز معلوم ہوا کہ کورونا کی وجہ سے گزشتہ 24گھنٹوں میں جو اموات ہوئی ہیں وہ اس سے گزشتہ 24گھنٹوں کی نسبت دگنی ہیں۔ اگر یہی صورتِ حال جاری رہی تو مئی کے وسط میں ہم بھی نیویارک،لندن، پیرس، روم، میلان، بارسلونہ اور قُم سے آگے نکل جائیں گے۔ بعض غیر ممالک کے رہنما اور خود پاکستانی، پاکستان کی کم شرحِ اموات کو اس کے لیڈروں کی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن یہ امتحان لیڈروں کا نہیں، عوام کا ہے۔ لیڈر نے تو راستہ دکھا دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ اس صراطِ مستقیم پر نہ چلنے کی سزا موت ہے۔ اس کے بعد اگر عوام اس راستے پر نہ چلیں تو قصور لیڈر کا نہیں، عوام کالانعام کا ہے۔

ایک اور مسئلہ ہماری جان کو آیا ہوا ہے…… اک طرف زندگی یا موت کا سوال ہے اور دوسری طرف ہم گندم، آٹے اور IPPs کی بحث میں پڑے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے دونوں رپورٹیں اوپن کر دی ہیں۔ اس میں اربوں کے گھپلے ہوئے ہیں لیکن کیا یہ کوئی نئی انہونی ہے؟ کیا یہ کرونا نمبر2ہے؟ کیا وزیراعظم کی نیت اور عمل کو ٹیسٹ کرنے کا یہی موقع ہے؟ کیا اس کیس کو کچھ دنوں / ہفتوں / مہینوں تک ملتوی نہیں کیا جا سکتا؟…… آخر پہلے بھی تو کئی برسوں تک یہ سب کچھ زیرِ قالین رہا۔ کئی برسوں تک وہی لوگ برسرِ اقتدار رہے جو ان دونوں سکینڈلوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ اگر گزشتہ حکومتوں نے یہ گوارا کر لیا کہ ان گناہوں کے گنہ گاروں کو شاملِ اقتدار رکھنا ہے تو اب ایسی کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ اسے کورونا سے بھی زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ ٹی وی نیوز چینلوں پر دن رات اودھم مچایا جا رہا ہے، عمران خان کی تقاریر کے وہ ٹکڑے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالے اور سکرینوں کی زینت بنائے جا رہے ہیں جن میں انہوں نے ان سکینڈلوں میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کرنے اور ان کو سزا دینے کا تہیہ اور وعدہ کر رکھا تھا۔ اگر وہی کردار آج کابینہ کا حصہ ہیں تو ان کے انجام کو قبل از وقت کیوں اچھالا جا رہا ہے…… جہانگیر ترین، ندیم بابر، رزاق داؤد، خسرو بختیار وغیرہ کہیں بھاگے نہیں جا رہے۔

جن کو بھاگنا تھا، وہ بھاگ چکے ہیں۔اب ان ”مجرمین“ کا دن قریب آ گیا ہے۔ اب عمران خان اور ان کے ساتھیوں میں براہِ راست مقابلہ ہے۔خان صاحب کے حلق میں یہ ایک ایسی چھپکلی ہیں کہ نگلتے ہیں تو آن جاتی ہے اور اگلتے ہیں تو حکومت جاتی ہے۔ لیکن مصلحت اسی میں ہے کہ حکومت کو اس وقت تک تو چلنے دیں جب تک کورونا کا کوئی ”فیصلہ“ نہیں آ جاتا۔ کیا ہم ان سکینڈلوں اور کورونا کے ماہین فیصلوں میں فوقیت (Priority) کا ادراک نہیں کر سکتے؟…… صبح و شام و شب ٹی وی چینلوں پر یہ بحث چلائی جا رہی ہے کہ ان لوگوں نے اربوں کھربوں لوٹے ہیں اس لئے ان کو کابینہ سے نکالا جائے۔ لیکن ان کی جگہ کون سے فرشتے آئیں گے؟ جمہوریت میں یہی خوبیاں تو تھیں جن کو ہم ”جمہوریت کا حسن“ کہتے نہیں تھکتے تھے۔ گزشتہ کئی عشروں تک ہم نے ان نہنگوں کو برداشت کیا ہے۔ لیکن آج ایک بڑے کورونائی نہنگ کو جال میں ڈالنے کا چیلنج درپیش ہے۔ کورونا قابو کر لیں گے تو قوم بچ جائے گی جس میں یہ مگرمچھ بھی بچ جائیں گے۔ قوم کا بھی ایک اجتماعی سٹرٹیجک ویژن ہونا چاہیے۔ ان لٹیروں کی نشان دہی تو ہو چکی۔ لیکن ان کا بھی ایک موقف ہو گا جو یہ لوگ موجودہ کمیشن کے سامنے پیش کریں گے۔ پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ موقف لولا لنگڑا ہو گا لیکن اس کے فیصلے کا انتظار کیاجانا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -