آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم
 آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم

  

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پہلی تراویح

قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس کتاب ہے جو ایک معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب انسانی ہدایت کی آخری کتاب ہے۔ جس میں عقائد، عبادات، معاملات کے تمام مسائل موجود ہیں۔

قرآن مجید کا پڑھنا، پڑھانا اور اس پر عمل کرنا، باعث رحمت، باعث برکت اور موجب مغفرت ہے۔ تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب یہی مقدس کتاب ”قرآن مجید“ ہے۔ قرآن مجید کی ترتیب درحقیقت سورتوں کے مطابق ہے۔ پھر اس کو اپنے معمول کے مطابق پڑھنے والوں نے اپنی آسانی کی خاطر مختلف اجزاء میں تقسیم کیا جو صحابہ کرامؓ ایک ماہ میں قرآن پاک ختم کرتے تھے، ان کے مطابق اس کے 30 پارے کئے گئے جو صحابہ کرام 7 دن میں ختم قرآن کرتے تھے، ان کے مطابق اس کی 7 منزلیں قائم ہوئیں۔ ان 7 منزلوں کی تفہیم کے لئے ایک عربی فقرہ ہے ”فمی بشوق“۔ یعنی:-

پہلی منزل ”ف“ سے یعنی سورہ فاتحہ سے شروع ہوتی ہے۔

دوسری منزل ”م“ یعنی سورہ مائدہ سے۔

تیری منزل ”ی“ یعنی سورہ یونس سے

چوتھی منزل ”ب“ یعنی سورہ بنی اسرائیل سے۔

پانچویں منزل ”ش“ یعنی سورہ شعراء سے۔

چھٹی منزل ”و“ یعنی سورہ والصافات سے۔

ساتویں منزل ”ق“ یعنی سورہ ”ق“ سے شروع ہوتی ہے۔

رمضان المبارک میں ہر مسجد میں نماز تراویح میں قرآن مجید کے ختم کا باقاعدہ اہتمام ہوتا ہے۔ حفاظ کرام اپنے اپنے شوق کے مطابق روزانہ مصلی کا اہتمام کرتے ہیں اور اس کے مطابق قرآن پاک کا حصہ تلاوت کرتے ہیں، کوئی سورتوں کے مطابق تقسیم کرتا ہے اور کوئی پاروں کے مطابق۔ ہم قرآن پاک کا خلاصہ سورتوں کے مطابق کریں گے۔ غرض بہرحال رمضان المبارک میں قرآن پاک کے واسطہ سے سعادت حاصل کرنا ہے۔

سورہ الفاتحہ:پہلی سورت

قرآن مجید کی پہلی سورہ ہے۔ رسول پاک ؐ نے اس کے بے شمار نام بیان فرمائے ہیں، امام جلال الدین سیوطی نے 25 اور مولانا عبدالستار دہلوی نے 30 نام (احادیث کی روشنی میں) درج کئے ہیں۔ ان میں سے مشہور نام درج ذیل ہیں۔

-1الفاتحہ، -2 فاتحہ الکتاب، -3 الدعا، -4 الشفاء، -5 الکنز، -6 اساس القرآن، -7 الحمد، -8 ام القرآن، -9 ام الکتاب -10 الصلٰوۃ وغیرہ۔

-1 سورہ الفاتحہ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، قرآن پاک کی سب سے پہلی سورہ ہے۔گویا اسی سے قرآن پاک کھلتا ہے اور اسی سے اس کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس سورۃ میں 7 آیتیں ہیں۔ 27 کلمات ہیں اور 140 حروف ہیں۔ یہ سورہ مکیہ ہے، گو کہ مدینے میں بھی نازل ہوئی ہے۔ یہ سورہ تمام قرآن کا خلاصہ ہے اور اس کے بغیر کوئی رکعت مکمل اور مقبول نہیں۔ اس سورہ سے پہلے بِسم اللہ اَلرحمٰن الرحیم لکھنا اور پڑھنا ضروری ہے، بلکہ سوائے سورہ التوبہ کے ہر سورہ سے پہلے اسے پڑھنا لکھنا چاہئے اور ہر مباح کام کی ابتداء بِسم اللہ اَلرحمٰن الرحیم سے کرنا مستحب اور موجب خیرو برکت ہے۔

سورہ الفاتحہ کی ابتدا حمد و ثنا سے ہوتی ہے۔ اس لئے بِسم اللہ اَلرحمٰن الرحیم کے ساتھ ہی اللہ پاک کی حمد و ثنا کرنا افضل ہے۔ حمد و ثنا کا مستحق صرف اللہ پاک ہے اور صرف اللہ پاک کی ذات کو حمد زیبا ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ سورہ مبارکہ میں حمد و ثناء ہے۔ اس کی ربوبیت، رحمت اور مالکیت کا ذکر ہے۔ خیر کی توفیق بھی اسی سے حاصل ہو سکتی ہے، ہدایت بھی وہی کرتا ہے اور وہی کر سکتا ہے۔ بندوں کو صرف اس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ وہی عبادت کے لائق ہے، اسی سے استعانت کرنا چاہئے اور اسی کی مدد کی طلب چاہئے۔ رشد و ہدایت دینے والا بھی وہی ہے۔ دعا کرنے کے آداب بھی اس سورہ میں واضح ہیں کہ صالحین کے حال سے موافقت اور گمراہوں سے اجتناب ہی خاص دعا ہونی چاہئے۔ دنیوی زندگی کا خاتمہ اور جزا و سزا کا دن بھی اسی لئے یاد دلایا گیا ہے کہ ہم صرف اس سے ڈریں جو اس دنیا اور دوسری دنیا کا مالک ہے اور جو ہر طرح اپنے بندوں پر فضل کرنے والا ہے۔

سورۃ فاتحہ کے اختتام پر آمین پڑھنا بھی سنت ہے جس کے معنی ہیں ”ایسا ہی کر“ یا قبول فرما“ یہ لفظ قرآن میں شامل نہیں لیکن اس کا ادا کرنا پسندیدہ ہے کیونکہ حضور انور ﷺ کا پسندیدہ ہے۔

سورۃ البقرہ: دوسری سورت

سورۃ البقرہ مدنیہ ہے۔ اس میں ۲۸۶آیتیں ۴۰ رکوع اور ۲۱۲۱کلمے ہیں جن کے ۲۵۵۰۰حروف ہیں۔ بقرہ عربی میں گائے کو کہتے ہیں سورۃ البقرہ کے آٹھویں رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم اور اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کا ذکر ہوا ہے جس میں ایک گائے کا ذکر ہے اسی کے نام پر سورۃ البقرہ رکھا گیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن ہر شک و شبہ سے پاک ہے۔ اس سے وہی لوگ ہدایت پا سکتے ہیں جو متقین ہیں یعنی وہ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز اور زکوٰۃ کو قائم کرتے ہیں۔ قرآن اور اس سے پہلے کے صحیفوں پر ایمان رکھتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ کافر وہ ہیں جو ایمان نہیں لاتے اور سرے سے احکام خداوندی کے منکر ہیں لیکن منافق وہ ہیں جو بظاہر مسلمانوں سے ملتے ہیں اور در پردہ کافروں سے ساز باز رکھتے ہیں، اس لئے انسان کو چاہے کہ وہ صرف اللہ کو پہچانے اور اس کی اطاعت کرے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اس کے لئے کیا کیا نعمتیں بہم پہنچائیں اور یہ قرآن بھی عنایت فرمایا جس کی ایک سورت جیسی عبارت کوئی انسان نہیں بنا سکتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ بھی انسان کی بصیرت کے لئے بیان کیا جاتا ہے کہ انہیں خلافت الھیہ کے لئے پیدا کیا گیا اور علم کے زیور سے آراستہ کیا گیا اور اس طرح وہ مسجود ملائک بن گئے۔ لیکن ابلیس نے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کیا اور وہ انسان کا دشمن بن گیا اس نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا کو بہکایا لیکن ان دونوں نے توبہ کی تو اللہ پاک نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ چنانچہ انسان کے منصب خلافت کو نہ صرف بحال کیا گیا بلکہ اس کو اسی دشمن سے پھر آگاہ کیا گیا کہ وہ اس کی پیروی کے بجائے اللہ پاک کی طرف رجوع کرے اور استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا اور آخرت میں کامیاب فرمائے گا۔ پھر بنی اسرائیل (یہود) سے خطاب ہے کہ یہ قرآن وہی دعوت دیتا ہے جو تورات میں تھی۔ اس چیز کو جانتے اور سمجھتے ہوئے اس کا انکار مت کرو اور ”اول کافر“ مت بنو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو کہ صبر اور نماز دونوں سے اصلاح نفس کی جا سکتی ہے۔ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کو ٹھکرایا تھا جس کی پاداش میں وہ ذلیل و خوار ہوئے۔ مسلمان اس قوم کی ذلت ورسوائی سے سبق حاصل کریں اور نصرانیت کی گمراہیوں سے بھی آگاہ رہیں۔ بنی اسرائیل کو تو رات عطا کی گئی اور فرعون مصر کے مظالم سے نجات دی گئی لیکن ان لوگوں نے شکر کرنے کے بجائے شرک اختیار کیا اور بچھڑے کی پرستش شروع کر دی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ شروع کر دیا کہ اللہ کو ہماری ظاہری آنکھوں سے دکھلاؤ، اس امر پر اللہ نے انہیں سزا دی۔ بنی اسرائیل پر ایک اور انعام جو ہوا تھا اس کا ذکر بھی ہے کہ اللہ نے صحرائے سینا کی بے آب و گیاہ اور دھوپ سے تپتی زمین پر بادلوں کا سایہ بھی کر دیا تھا اور من وسلویٰ بھی غذا کے لئے نازل کیا تھا لیکن ان لوگوں نے اس انعام کی بھی ناشکری کی اور فتح ونصرت کے موقع پر بھی عبودیت اور نیاز کے بجائے غرور اور غفلت کو اختیار کیا۔ بنی اسرائیل کے لئے بارہ چشمے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے مارنے سے جاری ہوئے تھے لیکن ان لوگوں نے اس کی قدر بھی نہیں کی اور وہ نہ صرف کام و دہن کی لذتوں میں مبتلا ہوئے بلکہ انبیاء علیہم السلام کو قتل بھی کیا جس کی پاداش میں وہ لوگ ذلت و مسکنت میں مبتلا ہوئے یہود و نصاریٰ کی گروہ بندیاں دنیا و آخرت کے لئے مفید نہیں ہو سکتیں بلکہ صرف اللہ پر ایمان، یوم آخر کا یقین اور عمل صالح ہی مفید ہیں۔بنی اسرائیل نے کوہ طور کے دامن میں یہ عہد کیا تھا کہ وہ تورات پر قائم رہیں گے اور احکام الہٰی بجا لائیں گے لیکن وہ اپنے اس عہد سے پھر گئے اور قتل نفس میں بے باک ہو گئے جو شریعت الہٰی کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ اسی سلسلے میں ایک واقعہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے ایک قتل ناحق کیا اور قاتل کی شناخت نہیں ہو رہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ اس چیز کو وہ ٹالنا چاہتے تھے اور بڑی مشکل سے آمادہ ہوئے تھے۔

پھر یہ بتایا گیا ہے کہ نیکیاں صرف وہ ہیں کہ جن کو اللہ نے نیکیاں قرار دیا ہے۔ مثلا: اللہ، اس کے رسولوں، فرشتوں، کتابوں اور یوم آخر پر ایمان لانا، ان کیلئے مستحق لوگوں پر مال خرچ کرنا، نماز اور زکوٰۃ ادا کرنا، وعدہ وفا کرنا، احکام الٰہی پر عمل کرنے میں جو سختیاں درپیش ہوں ان پر صبر کرنا۔ پھر کچھ تعزیری قوانین کا ذکر ہے اور حکم ہے کہ قرآن کے مطابق اپنے مال کی وصیت کرو۔ پھر قرآن کے مہینے یعنی رمضان کی فضیلت اور روزے کی فرضیت کا اعلان ہے جو تقویٰ کے حصول کیلئے ہے اور یہ کہ جب مریض صحت یاب ہو جائے اور مسافر جب اپنا سفر ختم کر لے تب روزے رکھ سکتا ہے۔ بوڑھے کیلئے روزے کا فدیہ ہے، اعتکاف کی ترغیب بھی ہے۔

صدقات کی ترغیب کے ساتھ ہی سود کی ممانعت ہے کہ اس سے باہمی مساوات اور محبت پر ضرب پڑتی ہے اور حاجت مندوں کا خون چوس لیا جاتا ہے۔ سود کے لین دین کو اللہ اور رسولؐ سے جنگ قرار دیا گیا ہے۔ قرض واپس لینے میں بھی سہولت اور وقت کی مہلت دی جائے اور عسرت والوں کا قرض معاف کر دیا جائے تو اللہ کی بڑی خوشنودی ہے۔ لین دین کو تحریر میں لانا چاہئے البتہ جو لین دین دست بدست اور نقد ہو رہا ہے اس میں تحریر کی ضرورت نہیں۔ تحریر ہو تو دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی بھی ضروری ہے۔ سفر میں اگر لین دین کے لئے تحریر نہ ہو سکے تو ہرج نہیں۔ امانت بھی مطالبے کے وقت بغیر لیت و لعل کے واپس کر دی جائے اور کوئی شہادت پوشیدہ نہ رکھی جائے۔ اللہ نے کسی شخص کو اس کی طاقت اور برداشت سے زیادہ پابند نہیں کیا۔ مومنین ہمیشہ اللہ کی جانب رجوع ہوتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ‘ ہماری بھول چوک معاف فرما دے‘ ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈال‘ ہمیں معاف فرما دے‘ ہماری مغفرت فرما دے‘ ہم پر رحم فرما دے کہ تو ہی ہمارا آقا ہے اور ہمیں نصرت د ے کافروں پر۔ (آمین)

نوٹ: قرآنِ حکیم کی آیات کا احترام آپ پر لازم ہے اس صفحے کو کاٹ کر محفوظ کر لیں۔

مزید :

رائے -کالم -