پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کا کورونا پر وفاق کے اقدامات پر سخت تشویش کا اظہار

پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کا کورونا پر وفاق کے اقدامات پر سخت تشویش کا اظہار

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے کورونا کے حوالے سے وفاقی حکومت کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور صحت کے شعبے کے بحران سے وفاقی حکومت جس طرح نمٹ رہی ہے وہ قابل تشویش ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات میں تسلسل اور واضح سوچ کی کمی ہے جس کے باعث اس وبا سے نکلنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔کمیشن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے مختلف پیغامات دے کر عوام کو کنفیوز کیا اور اپنے حامیوں کو سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے پر تنقید کرنے کے لیے بھڑکایا۔ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے ترقی یافتہ ملکوں نے کہیں زیادہ نقصان اٹھایا ہے، اس کے باوجود ان سے سبق حاصل کرنے کے بجائے وفاقی حکومت غیر سنجیدہ نظر آتی ہے۔انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن(پی ایم اے) کی جانب سے واضح وارننگ کے باوجود حکومت نے بعض علماء کے دباؤ میں آکر رمضان میں باجماعت نماز کی اجازت دے دی ہے حالانکہ دیگر مسلم ممالک میں لاک ڈاؤن کے دوران اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ایچ آر سی پی نے کہا ہے کہ یہ نہایت افسوس ناک بات ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک کی بڑی آبادی کورونا کے خطرے سے دوچار ہے، وفاقی حکومت ایک صوبائی حکومت کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہے۔

سخت تشویش

مزید :

صفحہ اول -