قائمہ کمیٹی کا لاک ڈاؤن نرم رمضان میں مساجد کھلی رکھنے پر تحفظات کا اظہار

قائمہ کمیٹی کا لاک ڈاؤن نرم رمضان میں مساجد کھلی رکھنے پر تحفظات کا اظہار

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے کورونا سے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ملک میں جاری لاک ڈاؤن کو نرم کرنے اور رمضان المبارک میں دیگر اسلامی ممالک کے برعکس مساجد کھلی رکھنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے،چیئرمین اور ارکان کی جانب سے حکومتی پالیسی کو مبہم قرار دیدیا جبکہ معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کوئی فیصلہ اکیلے نہیں کررہی،لاک ڈاؤن کو سمارٹ لاک ڈاؤن میں بدلنے کا فیصلہ بھی صوبوں کی مشاورت سے ہوا،علماء اور حکومت میں طے شدہ ضابطہ پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو مساجد بند کرنے پر مجبور ہوں گے،میڈیا کارکنان کیلئے جلد پیکیج کا اعلان ہوگا، میڈیا یا میڈیا اداروں کو انتقام کا نشانہ بنانا حکومت کی پالیسی نہیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا پیمرا ہیڈ کوارٹر میں چیئرمین میاں جاوید لطیف کی زیرصدارت اجلاس ہوا۔ کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں میڈیا کے کردار اور حکومت کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی کی جانب سے میڈیا کے کردار کو ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا گیا۔ میاں جاوید لطیف نے کہاکہ پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی کورونا سے متاثر ہورہا ہے، مکمل لاک ڈاؤن کے حوالے سے رائے تقسیم ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوروناکے حوالے سے میڈیا نے بہت ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے،ہر چینل نے کوروناسے متعلق احتیاطی تدابیر کے حوالے سے پروگرام کیے ہیں، کوروناسے بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے، کورونا سے غریبوں کے ساتھ سفید پوش طبقہ بھی زیادہ متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسا نہ ہو حکومت معیشت کو دیکھتی رہے تاہم لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں۔ نفیسہ شاہ نے کہاکہ کورونا کے حوالے سے پارلیمنٹ کا متحرک ہونا ضروری ہے۔چیئر مین قائمہ کمیٹی نے کہاکہ ایک میڈیا ہاؤس کے مالک کو گرفتار کیا گیا ہوا ہے،سیکرٹری اطلاعات بتائیں میڈیا مالک کو بطور کاروباری گرفتار کیا گیا یا بطور صحافی،ایک وزیر کے بیان کی وضاحت ہونی چاہئے کہ وزیر اعظم تمام میڈیا ہاؤسز سے صلح کرلیں،اس کا مطلب ہے کہ صلح ہوجائے تو نیب مقدمات ختم ہوجائیں گے۔ نفیسہ شاہ نے کہاکہ حکومت بتائے کہ کرونا کے خلاف کوئی قومی بیانیہ بنایا گیا ہے،جس طرح ڈاکٹرز فرنٹ لائن پر ہیں اسی طرح صحافی بھی فرنٹ لائن پر ہیں،کیا حکومت میڈیا کے لئے بھی کوئی پیکیج دے رہی ہے۔میاں جاوید لطیف نے سوال اٹھایا کہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے حکومتی پالیسی میں ابہام کیوں ہے؟، مساجد کھلی رکھنے کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے واضح کیا کہ ہم سعودی عرب اور یواے ای نہیں کہ ڈنڈے سے ایک ہی خطبہ ہوتا اور مساجد میں ایک ہی بات ہوتی،یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ مساجد کو زبردستی تالے لگوائے گئے ہیں ایس او پی پر عمل نہ کرنے والی مساجد بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ صوبوں کے مطالبے پر ضروری اشیاء سے متعلق شعبے کھولے گئے،کرونا ٹیسٹ کء تعداد بڑھنے کے کے باعث پازیٹو کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ چیئرمین میاں جاوید لطیف نے صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے حکومتی رکن کنول شوذب کی زیرصدارت ذیلی کمیٹی قائم کردی۔

قائمہ کمیٹی

مزید :

صفحہ اول -