کوروناسے نمٹنے کے لئے قومی یکجہتی پیدا نہیں کی گئی، بلاول بھٹو

کوروناسے نمٹنے کے لئے قومی یکجہتی پیدا نہیں کی گئی، بلاول بھٹو

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں کوروناوائرس سے نمٹنے کیلئے قومی یکجہتی پیدا نہیں کی گئی،سندھ اس فلسفے پر کام کر رہا ہے کہ ہم معیشت کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں لیکن انسانوں کو نہیں،یہ وقت نہیں کہ مقبول فیصلے کئے جائیں بلکہ یہ وقت ڈاکٹروں اور طبی ماہرین سے مشورہ کرکے فیصلے کرنے کا ہے،عمران خان کی جانب سے پابندیاں نرم ہونے سے قبل عوام تعاون کر رہے تھے اور پابندیاں نرم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی،وزیراعظم اپنے فیصلوں کو جائز قرار دے رہے ہیں اور عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں،حیرت کی بات ہے کہ تعمیراتی شعبے کو ریلیف پیکیج دیا گیا ہے لیکن ڈاکٹروں کو اور نرسوں کو نہیں دیا گیا جو ہر روز اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں،عوام سے اپیل ہے کہ وہ ماہ رمضان میں گھر پر رہ کر عبادات کریں اور اپنی زندگی کو بچائیں۔جمعرات کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں عمران خان کی یہ منتطق سمجھ نہیں آتی کہ وہ پابندیاں اٹھا لیں جن پر پہلے اچھی طرح عمل ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈان کے پہلے چند ہفتے بہت بہتر گزر رہے تھے اور لوگ پابندیوں کی پاسداری کر رہے تھے لیکن پھر لاک ڈان میں عمران خان نے پابندیوں نرم کر دیں اور حجام اور درزیوں کی دکانیں کھولنے کا حکم دے دیا۔ اس کے بعد مذہبی طبقوں کو سمجھانا مشکل ہوگیا۔ عمران خان کی جانب سے پابندیاں نرم ہونے سے قبل عوام تعاون کر رہے تھے اور پابندیاں نرم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم اب وزیراعظم اپنے فیصلوں کو جائز قرار دے رہے ہیں اور عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ نے سب سے پہلے لاک ڈائن کیا اور مذہبی حلقوں کو اعتماد میں لیا اور مسجدوں میں باجماعت میں صرف پانچ لوگ شامل ہو سکتے تھے لیکن اب عمران خان نے آزادی کی مسئلہ بناد یا ہے۔ جب ہم اپنا موازنہ سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک سے کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان ممالک نے اپنے شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت کی خاطر باجماعت نماز پر پابندی لگائی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ وقت نہیں کہ مقبول فیصلے کئے جائیں بلکہ یہ وقت ڈاکٹروں اور طبی ماہرین سے مشورہ کرکے فیصلے کرنے کا ہے۔ پاکستان بھر میں ڈاکٹر پریس کانفرنس کرکے حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ تحفظ چاہتے ہیں اور ہیلتھ کیئر سسٹم کو بچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی اتنی مدد نہیں کر رہی جس کی وہ توقع کرتے ہیں اور ٹیسٹنگ کی استعداد بڑھانے کے لئے بھی وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کی مدد نہیں کی ہے کہ اس وباکا مقابلہ کرنے کے لئے دنیا میں کسی بھی ملک میں صلاحیت نہیں ہے لیکن ساری دنیا کی حکومتیں لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے کوشاں ہیں۔ سندھ اس فلسفے پر کام کر رہا ہے کہ ہم معیشت کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں لیکن انسانوں کو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وباسے پہلے بھی پاکستان کی معیشت کمزور تھی اور بدانتظامی کا شکار تھی اور وفاقی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معیشت کو چلائے، لوگوں کی زندگیاں بچائے اور ان کا روزگار بھی بچائے۔۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اس وباسے نمٹنے کے لئے تیار نہیں تھی بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان میں اس وباسے نمٹنے کے لئے قومی یکجہتی پیدا نہیں کی۔

بلاول

مزید :

صفحہ اول -