وکلاء میں فنڈزکی فراہمی کا لائحہ عمل بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل

وکلاء میں فنڈزکی فراہمی کا لائحہ عمل بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے وکلاء کو فنڈز کی عدم فراہمی کے خلاف دائر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر گرانٹ اور اس کی تقسیم کے طریقہ کار کے تعین کیلئے ا یڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد شان گل کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی قائم کر دی۔ فاضل جج نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ حکومت اور وکلاء امداد کی بابت طریقہ کار طے کر لیں، اگر کسی وکیل نے امداد کے لئے نیا کیس دائر کیا تو حکومت پورٹل سے اس کا نام نکال دے، ہائیکورٹ اور سیشن کورٹس اس معاملے میں حکومت کا پورا ساتھ دیں گی،مقصد یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں ضرورت مند معاشرے کے افراد کی مدد کی جائے،فاضل جج نے یہ بھی ریمارکس دیئے کہ عدالت کو سب معلوم ہے کتنے وکیل امدا د کے مستحق ہیں،امدادی رقم کے لئے درخواست دینے والوں میں ایک بڑی تعداد غیر مستحق وکلاء کی بھی ہے۔چیف جسٹس نے وکلاء رہنماؤں سے کہا کہ یہ نہ بتائیں کتنے وکلاء نے درخواستیں دی ہیں،مجھے پتہ ہے کہ جہاں سے بار الیکشن میں پانچ سو وکلاء نے ووٹ دیا وہاں سے پندرہ سو درخواستیں آئی، جس وکیل کا بیٹا کراچی میں کام کرتا ہے اس نے اپنا اور اس کے نام کی درخواستیں بھیج دیں، گزشتہ روز وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری سعود عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ حکومت مستحق وکلاء کی امداد کے لئے تیار ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ وزارت قانون وکلاء کو رقوم فراہم کرنا چاہتی ہے، وکلاء کا پورٹل بنا کر رقوم دینے کی تجویز ہے۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ جو وکلاء کوئی کاروبار یا دوسری ملازمت نہیں کرتے وہ کیا کریں.،جن کی روزی

روٹی ہی وکالت سے چلتی ہے اب وہ کیسے گزارہ کریں. وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے نہیں بتایا کہ وہ کتنے فنڈز وکلاء کو دینگے۔ ممبر پنجاب بار کونسل نے عدالت کو بتایا کہ پورے پنجاب سے پچیس ہزار کے قریب ضرورت مند وکلاء کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔جس پر فاضل جج نے مذکورہ ریمارکس دیئے۔ وکلا رہنماوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس وکلاء کی گرانٹ کے اکیس کروڑ روپے پڑے ہیں۔ استدعا ہے کہ عدالت حکومت کو وکلا کے لیے ریلیف فنڈ فوری مہیا کرنے کا حکم دے۔ دلائل کے بعد عدالت نے گرانٹ اور امداد کے طریقہ کار کیلئے ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی قائم کر دی اور ہدایت کی کہ کمیٹی جو فیصلہ کرے اس کی سفارشات 27 اپریل تک پیش کی جائیں۔کمیٹی میں بار کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

کمیٹی تشکیل

مزید :

صفحہ آخر -