کراچی کے تاجروں کی مکمل حمایت کرتے ہیں: ڈاکٹر سلیم حیدر

  کراچی کے تاجروں کی مکمل حمایت کرتے ہیں: ڈاکٹر سلیم حیدر

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے صوبائی حکومت، کراچی کی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے صنعتکاروں، مل مالکان اور دکانداروں کیخلاف کی جانے والی انتقامی کارروائی کو دیہی متعصب حکومت کی مہاجر دشمنی قرار دیتے ہوئے تاجر رہنماؤں کی یکم رمضان کو بازار کھولنے کی مکمل حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کی سیاسی و سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور کراچی کے عوام، صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم کسی طورپر بھی ان پر ظلم و زیادتی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایاکہ حالت یہ ہے کہ کراچی کی سب سے بڑی الکرم ٹیکسٹائل مل کے جنرل منیجر اور ایڈمن سیکورٹی میجر (ر) عامر رحمن سید اور ان کے دیگر افسران کو مقامی پولیس کے افسران مسلسل ہراساں کررہے ہیں تاکہ ان سے بھاری رقم وصول کی جائے، اس سلسلے میں خود انہوں نے بتایا کہ کافی دنوں سے ہمیں پولیس افسران تنگ کررہے ہیں، اب کورونا کی آڑ میں انہوں نے کھلی بدمعاشی لگارکھی ہے۔ گزشتہ روز پولیس افسران کی مختلف ٹیمیں فیکٹری میں آئیں ان میں سے ایک ٹیم نے مل کے منیجر کو اپنے ساتھ لے گئے اور انہیں لے جاکر تھانے میں بند کردیا جب مجھے اطلاع ملی تو میں مل پہنچا تو کچھ افراد جن میں پولیس اہلکار اور سادہ لباس میں ملبوس افراد تھے وہ ہاتھوں میں کیمرہ اٹھائے فیکٹری میں داخل ہوئے اور انہوں نے کہاکہ آپ کی فیکٹری چل رہی ہے میں نے انہیں بتایا کہ پوری فیکٹری بند ہے سوائے ماسک بنانے والی مشین کے وہاں موجود لیبر جوکہ فارغ ہے اور ان کا تعلق فیصل آباد سے ہے انہیں دیکھ کر انہوں نے معلوم کیا تو میں نے انہیں بتایا کہ یہ پنجاب کی لیبر ہے اور یہاں کام کرتے ہیں ان کو ہم نے رہائش دی ہوئی ہے یہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے واپس پنجاب نہیں جاسکتے۔ اگر آپ انہیں گاڑی یا ٹرین کا بندوبست کردیں تو ہم انہیں واپس فیصل آباد بھیج دیتے ہیں۔ ہم نے ان کیلئے احتیاطاً قرنطینہ بنایا ہوا ہے۔ ہائی جین کیلئے اسپرے کرارہے ہیں، کیمیکل ڈال رہے ہیں، ان کے کھانے کا بندوبست کررہے ہیں، ہم تو خود مشکل میں ہیں، جب ہم نے انہیں سب بتایا کہ تو وہ مجھے بھی تھانے لے گئے جہاں ایس ایچ او نے میرے ساتھ بدتمیزی کی اور ہمارے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی، ان کا کہنا تھاکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ ہمیں اس لئے پریشان کررہے ہیں کہ وہ ہمارے سیٹھ سے بات کرکے معاملات کرنا چاہتے ہیں، ہمارے پاس ساڑھے تین ہزار ورکر کام کرتے ہیں، پوری مل بند ہے، ہم بحالت مجبوری ملازمین کی تمام ضروریات پوری کررہے ہیں اوپر سے صوبائی حکومت، پولیس اور انتظامیہ بھی ہم ہی کو ہراساں کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہی صورتحال کراچی کے تمام صنعتکاروں اور تاجرؤں کو درپیش ہے جنہیں ایک طرف حکومت سہولیات فراہم کرنے کے بجائے ان ہی سے بھتے کی صورت میں رقم وصول کرنا چاہتی ہے۔ تاجر رہنماؤں کو گرفتار کیا جارہا ہے ان کیخلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے آرمی چیف، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعظم سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -