کورونا مریضوں ک طبی فضلہ اور اشیاء محفوظ طریقے سے کانے لگایا جائے: ماہرین

  کورونا مریضوں ک طبی فضلہ اور اشیاء محفوظ طریقے سے کانے لگایا جائے: ماہرین

  

کراچی(اکنامک رپورٹر) پاکستان میں کورونا کے مریضوں کیلئے قائم قرنطینہ سینٹر میں مریضوں کے طبی فضلے،زیر استعمال اشیاء، کپڑوں کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کا کوئی بہتر انتظام نہیں جس سے اس مرض کے پھلینے کا سبب بنے گا اور سیپا اور ہیلتھ کیئر کمیشن اس سلسلے میں بہتر کردار ادا کر سکتا ہے ان خدشات کا اظہار ماہرین ماحولیات نے گذشتہ روز عالمی یوم ارض کے موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس و انڈسڑیز کی ماحولیاتی کمیٹی کے تحت منعقدہ ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس کانفرنس کا انعقاد نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کے تعاون سے کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ماہرین کے خیال میں شہر میں نکاسی آب کی بہتر منصوبہ بندی کا فقدان بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کورونا کے مریضوں ک طبی فضلے کو انتہائی محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگائے جائے کیونکہ اگر اس فضلے کو معمول کے مطابق ٹھکانے لگایا گیا تو اس سے وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔ماہرین نے مطالبہ کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور اس کا فوری طور پر حل تلاش کیا جائے تاکہ ملک میں وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے۔اس موقع پر کنوینئر اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ماحولیات ایف پی سی سی آئی محمد نعیم قریشی، ایف پی سی سی آئی کے بزنس مین پینل کے سنیئر وائس چیئرمین میاں زاہد حسین، ماہر ماحولیات ثاقب اعجاز حسین، رفیع الحق، توفیق پاشا، حنا جمشید، سینئر صحافی عافیہ سلام، سیما طاہر، ایس ایم فاروق، یاسر حسین و دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر ثاقب اعجاز حسین کا کہنا تھا کہ ملک میں لاک ڈاؤن کے باعث ماحولیاتی اداروں کے پاس موقع ہے کہ وہ ماحولیاتی سسٹم بنائیں جس سے لوک ڈاؤن کے دوران فضائی آلودگی میں کمی کو مستقبل بنیادوں پر مانیٹر کیا جا سکے اور اسکو مستقبل میں صنعتوں، ٹرانسپورٹ کے معمول پرآنے کے بعد کیسے قابو کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فضائی آلودگی کی بات کر رہے ہیں مگر گھروں کی اندورنی ہوا کا معیار بھی خراب ہے اور اسکی کوئی گائیڈ لائین ہونی چاہیئے۔ محمد نعیم قریشی نے کہا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کی گئی جس کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا ملک میں شجرکاری کے ذریعے آلودگی میں کمی کو مستقل بنیادوں پر قابو کیا جا سکتا ہے۔ رفیع الحق نے کہا کہ خراب فضائی آلودگی کے باعث سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو تا ہے جو کہ کورونا وائرس جیسے مرض سے لڑنے میں نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کراچی جیسے بڑے شہر میں ماحولیاتی قوانین سخت ہونے چاہیے اور ساتھ ہی ان پر سختی سے عمل درآمد بہت ضروری ہے۔توفیق پاشا نے کہا کہ شہر میں لوک ڈاؤن کے باعث ماحولیاتی تبدیلی واقع ہوئی ہے اسے برقرار رکھنے کیلئے ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جا ئے اور صاف ایندھن استعمال کیا جا ئے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام صنعتیں ماحولیاتی قوانین پر مکمل عمل درآمد کریں تاکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم سے کم کیا جا سکے۔عافیہ سلام نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی سائسندانوں کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ تحقیق کے ذرئعے مستقبل میں ماحولیاتی آلودگی میں کمی کو ممکن بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا نے ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے یہ سکھایا ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدل سکتے ہیں اور اگر فضائی آلودگی کم ہوتی تو انسانی غلطیاں تھیں۔ہمیں اب اپنی ٹرانسپورٹ اور صنعتوں کو ماحولیاتی قوانین کے دائرے میں لانا ہوگا۔یاسر حسین نے کہا کہ آدھے شہر کی آبادی کا کوئی ڈیٹا نہیں تو ان جگہوں پر کرونا کیسے کنڑول کیا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں ماحولیاتی اداروں کی کارکردگی مایوس کن ہے۔سیما طاہر نے کہا کہ صاف پانی اور پانی کی بہتر تقسیم اور اسکی بچت ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔انہوں نے کہا کہ قدرت نے کرونا کی شکل میں ہمیں صحیح راستہ دکھایا ہے اپنے آپ کو بہتر کرنے کا اور اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -