ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے فاسٹر سکیم ٹیکسٹائل سیکٹر کے ساتھ ناکام تجربہ ہے‘ محمد احسن شاہ

  ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے فاسٹر سکیم ٹیکسٹائل سیکٹر کے ساتھ ناکام تجربہ ہے‘ ...

  

ملتان(نیوز رپورٹر)آل پاکستان بیڈ شیٹ اینڈ اپ ہو لسٹری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئر مین سید محمد احسن شاہ نے کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کی غرض سے FASTER (بقیہ نمبر40صفحہ6پر)

سکیم کے نام پر ٹیکسٹائل سیکٹر کے ساتھ ایک نہایت ناکام تجربہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جولائی 2019 سے نافظ کیا گیا سیلز ٹیکس ریفنڈ (FASTER) انڈسٹری کے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہوا جس کی وجہ سے برا?مد کنند گان مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔چیئرمینAPBUMA نے بتایا کہ خود کار سیلز ٹیکس ریفنڈ سکیم کے تحت برا?مد کنند گان کے تقریباً 100 ارب روپے حکومت کے ذمہ واجب ادا ہیں۔ انہوں نے اس امر پر نہایت مایوسی کا اظہار کیا کہ بارہا یقین دہانیوں کے بعد بھی ادائیگیوں کے عمل کو تیز نہیں کیا گیا۔ اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس وقت کے چیئرمین FBR کی جانب سے ٹیکسٹائل سیکٹر کی لوکل سیلز کا غلط تخمینہ لگایا گیا تھا اور اس کی بنیاد پر خود کار سیلز ٹیکس ریفنڈ کا اجراء کیا گیا تھا۔احسن شاہ نے مزید کہا کہ اب جب کہ تجربہ نہایت بری طرح ناکام ہو چکا ہے تو بہتر ہو گا اس غلطی کی تلافی کے طور پر فور ی زییرو ریٹنگ کا نظام بحال کیا جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ موجودہ حالات میں جبکہ پوری دنیا میں کورونا وایئرس کی وجہ معاشی حالات نہایت دگرگوں ہیں اور ان کا براہ راست اثر پاکستان کی برا?مدات پر پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات اس بات کی متقاضی ہیں کہ ملکی صنعت اور روز گار بچانے کے لئے فوری طور پر سیلز ٹیکس ریفنڈ کی ادئیگیاں کی جائیں۔

احسن شاہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -