جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن کے رضا کاروں کو سلام

جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن کے رضا کاروں کو سلام
 جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن کے رضا کاروں کو سلام

  

تاریخ گواہ ہے قوموں پر آزمائش، عروج زوال آیا کرتے ہیں اور یہ سب کچھ سلطنت ِ دُنیا کے قیام سے ہوتا آ رہا ہے، کسی قوم پر گناہوں کی پاداش میں عذاب الٰہی کی شکل میں، کسی پر بیماریوں کی شکل میں اور کسی پر قحط کی شکل میں، اسی طرح بارش، سیلاب، زلزلے اور آزمائش اور غضب خدا بندی مختلف انداز میں مختلف قوموں کو مختلف انداز میں آزماتے رہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے نبی ئ مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک اور آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا، ان دِنوں عالمی سطح پر کورونا کی شکل میں جان لیوا بیماری نے گھیر رکھا ہے، جس نے دُنیا بھر کی معیشتوں کا جنازہ نکال دیا ہے کورونا وائرس نے پاکستان کے معاشی ستون بھی دھڑن تختہ کر دیئے ہیں۔

آزاد میڈیا کا دور دورہ ہے بے لگام سوشل میڈیا کی یلغار ہے، ہر فرد مرضی کا بیان داغ رہا ہے۔البتہ یہود و نصاریٰ کے موقف یکساں نہیں ہیں، مغرب کچھ کہہ رہا ہے،یورپ میں کچھ بحث جاری ہے، وسطی ایشیاء، جنوب ایشیاء میں دوسری بحث جاری ہے۔البتہ ایک موقف کی تائید تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے اِس وقت عالم انسانی میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ مکافاتِ عمل ہے، فلسفہ انسانی ہے اِس دُنیا میں جو کچھ رونما ہو رہا ہے وہ بلاوجہ نہیں ہے، جو بویا جائے گا وہ کاٹنے کو ملے گا،اچھا یا بُرا۔ جزا اور سزا کی صورت میں سامنا کرنا پڑے گا، مکافاتِ عمل انسانی زندگی پر بھی ہمیشہ حاوی رہا ہے اور عالم انسانی پر بھی یہی روایت جاری ہے۔ بحیثیت مسلمان اگر جائزہ لیا جائے تو بھی اندازہ ہوتا ہے۔ انسان کو بلاوجہ پیدا نہیں کیا گیا اس کو پیدا کرنے کے ساتھ ہی بتا دیا گیا کہ عارضی دُنیا ہے جو بیج ڈالو گے اس کے مطابق فصل کاٹنے کو ملے گی، جہاں تک کہا گیا ہے دُنیا کی عارضی زندگی میں حق باطل کی جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی، کچھ کا حساب دُنیا میں ہو جائے گا اور جو رہ جائیں گے اِس دُنیا میں گزرے ہوئے ایک ایک لمحہ کا حساب روزِ قیامت دینا پڑے گا۔اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یقین نہ رکھنے والے عیسائی،یہودی اور دوسری قومیں موجودہ آزمائش الٰہی کو ایک دوسرے پر الزامات تھوپ کر جان چھڑا رہے ہیں۔ پوری دُنیا کو ورلڈ آرڈر کے ذریعے چلانے کے دعویدار بھی بے بسی کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں، دُنیاوی حل، مرض کا توڑ دینے کے ماہر بھی آسمانوں کے رب سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں، سب سے زیادہ یکسوئی جن امور میں نظر آتی ہے وہ ہے رجوع اللہ، گناہوں کی معافی، اللہ کی بارگاہ میں سر سجود ہوا جائے۔ ان معاملات میں بھی اُمت مسلمہ دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ایک حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ایک ساتھ ادا کرنے میں نجات کی منتظر ہے اور اس کے لئے حرمین شریفین اور مساجد سے تعلق جوڑ کر ان کی رونقیں بڑھا کر اللہ کو راضی کرنے کے حق میں ہے۔ دوسرا حلقہ جو اپنے آپ کو ماہر اور دانشور دُنیا داری میں کورونا کا علاج گھروں تک محدود ہونے کا سمجھتا ہے،جو اندر سے خوفزدہ ہے، وہ اللہ سے مدد کا طلب گار ضرور ہے، مگر عقل ِ قل کی حیثیت سے وسائل اور احتیاط کا ترجیح اول پر رکھنا چاہتا ہے۔

نہ ختم ہونے والی بحث میں میڈیا کا کردار بڑا خوفناک ہے اس نے عالمی انسانی کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے، عارضی دُنیاوی آزمائش میں پوری دُنیا کی طرح پاکستان بھی پوری طرح لپیٹ میں آ رہا ہے،ہر فرد کنفیوژ ہے 12ہزار سے زائد مریض ہیں، ڈھائی سو کے قریب اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں،پورا پاکستان لاک ڈاؤن کے حوالے سے دو حصوں میں تقسیم ہے۔ایک لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے، جبکہ دوسرا عوم کو بھوک سے مرنے سے بچانے کے لئے کاروبار کھولنے کے حق میں ہے۔ایک ماہ سے زائد عرصہ کے لاک ڈاؤن کے اثرات بے روزگاری اور خود کشیوں کی صورت میں نکلنا شروع ہو رہے ہیں۔ 22کروڑ کی آبدی میں لاکھوں نہیں، کروڑوں خاندان حکومتی امداد نہ ملنے کی وجہ سے اپنے دائیں بائیں مدد کے لئے دیکھ رہے ہیں۔گزشتہ35 دِنوں میں آزمائش کی گھڑی میں بے بس اور لاچار عوام کے لئے ریلیف پیکیجز کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔عوام کی فیورٹ تین تین دفعہ اقتدار کا مزا لینے والی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی بیان بازی اور فوٹو سیشن دیکھے ہیں ایک دوسرے پر الزامات اور پوائنٹ سکورنگ کے لئے ریلیف کی بجائے آئین بچانے کے لئے فوری اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی دیکھا ہے۔حکومتی اقدامات اربوں روپے کی احساس پروگرام کے ذریعے تقسیم کو بھی مانیٹر کیا ہے،مگر آج سلام کرنے کو دِل کرتا ہے۔اس جماعت کے امیر، سیکرٹری جنرل، فوکل پرسن، امرائے صوبہ اور امرائے اضلاع اور ان کی الخدمت فاؤنڈیشن کے ہزاروں رضا کاروں کو! جو عوام کی کبھی ترجیح نہ تھے، ہر انتخاب میں قیمے والے نان اپنی گلی اور محلے کی سڑک کے نام پر ان کو نظر انداز کرتے رہے ان کو کبھی ووٹ نہ دیا، یقینا آپ سمجھ گئے ہوں گے اس جماعت کا نام جماعت اسلامی ہے۔ آج کا پورا کالم اس جماعت کی نظر کرنا چاہتا تھا، مگر تمہید طویل ہونے کی وجہ سے حق ادا نہ کر سکا۔ سید مودودیؒ کی قبر کو اللہ جنت الفردوس کے باغوں میں سے باغ بنائے۔ ان کے جماعت اسلامی کی شکل میں لگائے گیا پودا،جو آج تناور درخت شجر سایہ دار باغ کی شکل میں پوری پاکستانی قوم کو فیض یاب کر رہا ہے۔

سید مودودیؒ کی جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور ان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم اور فوکل پرسن برائے ریلیف اظہر اقبال حسن اور ان کی صوبائی اور اضلاع تحصیل ٹاؤن یونین کونسل کے ذمہ داران اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر عبدالشکور سید احسان اللہ وقاص، احمد جمیل راشد، اکرام الحق سبحانی اور لاہور جماعت کے امیر ذکر اللہ مجاہد اور صدر الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر عبدالعزیز عابد اور ملک بھر کی الخدمت فاؤنڈیشن کی ٹیم اور ان کے ہزاروں رضا کاروں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم بتا رہے تھے۔ایک ارب روپے کی کثیر رقم سے ایک کروڑ خاندانوں کو راشن فراہم کر چکے ہیں، لاکھوں افراد کو پکا پکایا کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔الخدمت فاؤنڈیشن کے ملکی اور غیر ملکی نیٹ ورک کے ذریعے لاکھوں ماسک، سینی ٹائزر اور راشن کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔امیر العظیم نے بتایا ہماری ٹیم دو کام ایک ساتھ کر ہی ہے، صاحب ِ حیثیت افراد سے فنڈ اکٹھا کر رہی ہے اور مستحق افراد تک پہنچانے کے لئے فول پروف انتظامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا جتنا کیا جائے کم ہے۔ سیاسی،مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے لئے اپنے آپ کو منوانے، اپنے رب کو راضی کرنے کا سنہری موقع ہے۔ انہوں نے کہا ہم پوری یکسوئی سے اپنی خدمت کی روایت کو جاری رکھیں گے، ہمیں نمبر بنانے یا عوام کو باورکرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم مشکل وقت میں ہمیشہ ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے عوام جماعت اسلامی کو مشکل وقت کا ساتھی سمجھتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے ہم نے کبھی عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا، اب کیوں چھوڑیں گے۔ ریلیف، خدمت کی تاریخ کا نام جماعت اسلامی ہے۔الخدمت فاؤنڈیشن کے رضا کاروں کو سلام، اللہ ان کی کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، کل سے نیکیوں کے موسم بہار رمضان المبارک کا آغاز ہو رہا ہے،آزمائش کی اِس گھڑی میں اللہ کو راضی کرنے اور اپنے گناہوں سے توبہ کا اچھا موقع ہے، آئیں مل کر اللہ کے آگے سرسجود ہو کر توبہ کریں اور کورونا سے نجات کے لئے اللہ کو راضی کریں۔

مزید :

رائے -کالم -