نشتر انتظامیہ کی غفلت‘ ایک اور ڈاکٹر کرونا وائرس کا شکار

  نشتر انتظامیہ کی غفلت‘ ایک اور ڈاکٹر کرونا وائرس کا شکار

  

ملتان (نمائندہ خصوصی)نشتر میڈیکل یونیورسٹی اور ہسپتال انتظامیہ کی بڑی نا اہلی، ہاسٹلز ڈس انفیکیشن نہ کروائی جا سکی،بھٹہ ہال میں رہائش پذیر ایک اور ڈاکٹر میں کورونا کی تصدیق،آئی سو لیشن وارڈ مین زیر علاج ڈاکٹر نے سہولیات نہ ملنے پر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی تفصیل کے مطابق نشتر میڈیکل یونیورسٹی اور ہسپتال انتظامیہ ایک جانب ہاسٹلز کی ڈس انفیکیشن کو ممکن نہیں بنا سکی ہے دوسری جانب ہاسٹلز میں رہائش پذیر ڈاکٹروں کے مہمانوں کی آمد (بقیہ نمبر28صفحہ6پر)

و رفت کا سلسلہ بھی جاری ہے،ادھر نشتر ہسپتال کے شعبہ امراض نفسیات میں ایک ماہ قبل اپنی ریذیڈینسی مکمل کرنے والے ڈاکٹر رضوان بھٹہ جو اب نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے بھٹہ ہال میں رہائش پذیر تھے ان میں کورونا کی تصدیق ہو گئی ہے، ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب رات گئے جاری کی گئی،علاج کی سہولیات نہ ملنے پر ڈاکٹر رضوان نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ سے خود کو گھر میں آئی سو لیٹ کر رکھا تھا،3 سے 4روز ہوئے دوبارہ بھٹہ ہال نشتر ہسپتال واپس آیا،یہاں رجب طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ کے نیگیٹیو آنے والے ڈاکٹروں کو گھروں پر آئی سو لیشن کا کہا گیا لیکن وہ ہاسٹلز میں پھر رہے ہیں انتظامیہ اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کر رہی،نشتر ہسپتال کا ڈاکٹر ہونے کے باوجود مجھے ادویات تک کا نہیں پوچھا جا رہا،میں ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہوں کسی نے نہ ادویات پوچھیں نہ کوئی دیگر ٹیسٹ کروائے،ادھر ویڈیو وائرل ہونے پر ینگ ڈاکٹرز ریفارمز ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر میاں عدنان نے وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور ہاسٹلز کی ڈس انفیکیشن نہ ہونے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے انتظامیہ کی نااہلی سے 27 ڈاکٹر کورونا میں مبتلا ہوئے اور اب ہاسٹلز میں رہائش پزیر ڈاکٹروں میں کورونا پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔

کرونا کا شکار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -