کرونا کا بہانہ‘ ڈی ایچ کیو مظفر گڑھ آنیوالے مریض رل گئے

    کرونا کا بہانہ‘ ڈی ایچ کیو مظفر گڑھ آنیوالے مریض رل گئے

  

مظفرگڑھ (بیورو رپورٹ ) کورونا وائرس کا خوف،حکومت کی جانب سے حفاظتی کٹس اور آلات کی فراہمی کے باوجود بھی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کا علاج معالجہ کرنے کی بجائے پہلے کورونا وائرس کا نام لیکر ڈرانا اور بعدازاں نشتر ہسپتال ملتان ریفر کرنا شروع کردیا،تفصیلات کیمطابق گزشتہ روز محلہ شیخوپورہ کے رہائشی 70 سالہ رحمت علی کی طبیعت خراب ہونے پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال مظفرگڑھ کی میں منتقل کیا گیا،ایمر(بقیہ نمبر33صفحہ6پر)

جنسی میں موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے نے مریض کی حالت دیکھ اسکے قریب جانے سے انکار کردیا اور مریض سے دور بھاگنے لگے،اس دوران ایمرجنسی میں بھی ہلچل پیدا ہوگئی،اہلخانہ کو یہ کہہ ڈرا دیا گیا کہ مریض میں کورونا وائرس کی علامات ہیں.ایمرجنسی میں ڈاکٹروں کی جانب سے کورونا وائرس کا شبہ ظاہر کیے جانے کے بعد مریض رحمت علی کے رہائشی علاقے محلہ شیخوپورہ میں بھی لوگوں متفکر ہوگئے،چہ مگوئیاں شروع کردی گئیں اور لوگ پریشان ہوکر مریض کے ورثاء سے معلومات کے حصول کے لیے بار بار فون کالز کرتے رہے.بعدازاں جب حفاظتی کٹس میں ملبوس ڈاکٹروں کی جانب سے مریض کا دوبارہ معائنہ کیا گیا تو مریض میں دمے اور نمونیہ کی تشخیص کی گئی اور علاج معالجہ شروع کرنے کی بجائے ورثاء کو حکم صادر کردیا کہ مریض کو نشتر ہسپتال ملتان لے جایا جائے.رحمت علی نامی مریض کے ورثاء ایمرجنسی میں 6 گھنٹوں تک سب تماشا دیکھتے رہے،،اس دوران نشتر ہسپتال ملتان منتقلی کے لیے ریسکیو 1122 کی گاڑی منگوائی گئی تو دو گھنٹے تک مریض کی منتقلی کے لیے گاڑی بھی دستیاب نہ ہوئی،بعدازاں مریض کے ورثاء پرائیویٹ گاڑی میں مریض کو نشتر ہسپتال ملتان لے گئے،اس موقع پر ورثاء کا کہنا تھا کہ جب کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج معالجہ رجب طیب اردوان ہسپتال میں کیا جارہا ہے تو ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ سمیت ضلع میں موجود سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی تک کے مریضوں کو بھی علاج معالجہ کی سہولیات فراہم نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے،انھوں نے مطالبہ کیا کہ غریب مریضوں کے علاج معالجے کے لیے سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی کو نہ صرف کھولا جائے بلکہ غریب مریضوں کا علاج معالجہ نہ کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے خلاف کارروائی کی جائے،واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کورونا وائرس کے مصدقہ مریض رجب طیب اردوان ہسپتال مظفرگڑھ منتقل کیے جاتے ہیں اور ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ میں کورونا وائرس کا صرف ایک مشتبہ مریض ہی زیرعلاج ہے،مگر ڈاکٹروں اور طبی عملے کی جانب سے ہسپتال کی صرف ایمرجنسی ہی نام نہاد طور پر کھلی رکھی گئی ہے اور سرجنز،کنسلٹنٹس اور دیگر پروفیشنل ڈاکٹرز بھی ہسپتال میں موجود ہونے کے باوجود بھی ایمرجنسی میں آنے والے بیشتر مریضوں کا علاج معالجہ شروع کرنے کی بجائے سیدھا نشتر ہسپتال ملتان ریفر کردیا جاتا ہے۔

کرونا کا بہانہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -