1930ء کا واقعہ دراصل جنگ آزادی کی قربانیوں کا ایک چھوٹا حصہ ہے، غلام احمد بلور

1930ء کا واقعہ دراصل جنگ آزادی کی قربانیوں کا ایک چھوٹا حصہ ہے، غلام احمد بلور

  

 پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور نے 23اپریل سانحہ قصہ خوانی کے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت و سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1930ء کا یہ واقعہ دراصل جنگ آزادی میں دی جانیوالی قربانیوں کا ایک چھوٹا حصہ ہے، پشاور شہر نے اس سے بڑی قربانیاں دی ہیں اور آج کے دن ان تمام شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر نے جنگ آزادی کی بڑی قیمت چکائی ہے، سینکڑوں جانوں کا نذرانہ صرف 23اپریل 1930ء کو دیا گیا جب نہتے اور غیرمسلح خدائی خدمتگاروں پر انگریز سرکار کی جانب سے گولیاں برسائی گئیں لیکن ان کے حوصلوں کو لاشوں یا زخموں سے پست نہ کیا جاسکتا۔ آج انہی قربانیوں کی وجہ سے ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ حاجی غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے، بدقسمتی سے آج بچوں کو شاید ان تاریخی واقعات کاعلم نہ ہو لیکن ہمارے اکابرین کی جانب سے دی گئی ہر قربانی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، کس طرح انگریز سرکار کی بکتربند گاڑی نے 14افراد کو کچل کر شہید کیا گیا لیکن قصہ خوانی میں بیٹھے آزادی کے متوالوں کے حوصلے مزید توانا ہوگئے اور جنگ آزادی کی یہ لڑائی لڑی جاتی رہی۔ سامراجی تاریخ میں اس طرح کے واقعات کو بھلادینا معمول کی بات ہے لیکن ہم اپنے شہداء پر فخر کرتے ہیں۔ حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ سانحہ قصہ خوانی جنگ آزادی کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن لڑائی تھی جہاں ایک طرفبندوق، سرکاری طاقت، گولیوں کی بوچھاڑ جبکہ دوسری طرف نہتے غیرمسلح خدائی خدمتگار تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس روز پشاور کے باسی قصہ خوانی میں یادگار شہداء پر جمع ہو کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں اس طرح ممکن نہیں، آج ہم ان تمام شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس مٹی اور اس ملک کی آزادی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، گولیاں کھائیں لیکن اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -