کورونا مکمل لاک ڈاؤن سے بھی ختم نہیں ہو گا، جیسے جیسے چیزیں کھلیں گی وباء بڑھتی جا ئے گی ہمیں سمارٹ لاک ڈاؤ ن کی طرف جانا پڑیگا کوشش ہے شرح سود مزیدکم ہو: عمران خان

کورونا مکمل لاک ڈاؤن سے بھی ختم نہیں ہو گا، جیسے جیسے چیزیں کھلیں گی وباء ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس صورتحال میں ہم سب کو یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔احساس ٹیلی تھون کی خصوصی نشریات سے خطاب اور مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں ملک کی مدد کی۔ ہم مستحق لوگوں کے لیے پیسے اکٹھے کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینے والا کبھی خسارے میں نہیں رہتا۔ جو وقت آگے آ رہا ہے ہم سب کو یکجا ہونا ہوگا۔ یہ ایسا وائرس ہے جو بڑی تیزی سے پھیلتا ہے۔گزشتہ رات ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ اپنے ٹیلی فونک رابطے کے بارے میں بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر بھی اب سمارٹ لاک ڈاؤن کی بات کر رہے ہیں، اتنی بڑی اکانومی ہونے کے باجود انھیں ڈر ہے کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو کہیں ان کی معیشت نہ بیٹھ جائے۔وزر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کر لیں تو بھی کورونا نہیں رکے گا، ہمیں وائرس کے ساتھ رہناپڑیگا۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت پیسہ خرچ کررہی ہے لیکن متاثرین اتنے ہیں کہ اس کیلیے بہت زیادہ رقم درکار ہے لہٰذا لوگ دل کھول کر عطیات دیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ آنیوالے وقت میں پوری قوم کو مشقت کرنا پڑے گی، کوئی حکومت اس کورونا کا مقابلہ اکیلے نہیں کرسکتی،پوری قوم کو مل کر کورونا کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔عمران خان نے کہا کہ قوم سے کہتا ہوں کہ پوری طرح احتیاط کریں، اس وائرس کے پھیلنے کی رفتار دیگر وباؤں سے مختلف ہے، کوشش کریں کہ سماجی فاصلہ اختیار کریں اور احتیاط کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ شرح سود اور کم ہوجائے، جیسے جیسے چیزیں کھلتی جائیں گی کورونا وبا بڑھتی جائیگی البتہ پاکستان میں اب تک جو ٹرینڈ نظر آرہا ہے اس سے لگتا ہے کہ زیادہ کیسز نہیں ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان نے احساس کفالت پروگرام کے تحت ایمرجنسی کیش پروگرام میں فی خاندان 12 ہزار روپے کی تقسیم کے حوالے سے بتایا کہ ابھی جو لوگوں کوپیسے دیے جارہے ہیں پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ہم جو 12ہزارروپے دے رہے ہیں اس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں، زیادہ رقم سندھ میں تقسیم کی گئی جہاں ہماری حکومت بھی نہیں ہے، احساس پروگرام جیسا شفاف پروگرام پاکستان کی تاریخ میں نہیں دیاگیا۔کورونا کی وجہ سے ملک بھر میں جاری جزوی لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں اب اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جاناپڑیگا، ہمیں اب لوگوں کیلیے دکانیں کھولنی پڑیں گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کامطلب ہیکہ جہاں کورونا پھیلا وہاں کنٹرول کریں گے، سب ممالک سمجھ رہے ہیں کہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیاجا سکتا، خوف ہے کہ چھوٹاکاروبارکہیں مکمل طورپرختم نہ ہوجائے۔عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اسمال اینڈ میڈیم انڈسٹری رجسٹرڈ ہی نہیں ہے، اگرآپ پورالاک ڈاؤن کردیں گیتوکیسے دیہاڑی دارکوسنبھالیں گے، ابھی ہمیں کچی بستیوں کیرہنیوالوں کوریلیف دیناہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ڈیم فنڈ وہیں کا وہیں ہے وہ ادھرہی جائیگا، لاک ڈاؤن سے متعلق مجھ پر شدید تنقیدکی گئی، کچی آبادی میں لوگ جس طرح رہتیہیں وہاں کتنی دیرتک لاک ڈاؤن کیا جائے گا؟ کچی آبادیوں میں سماجی فاصلیرکھنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ عدالتوں اورجیلوں میں چلے جائیں وہاں ساریغریب لوگ ہیں، غریب لوگ سرکاری اسپتال اور طاقتور اچھے اسپتالوں میں علاج کراتے ہیں، کوئی بھی فیصلہ کرناہیتوپوریپاکستان کیلئے ہونا چاہیے اشرافیہ کیلئے نہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ رمضان میں گھرمیں عبادت کرنی چاہیے، لوگوں کو باہر نہیں نکلناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ آپ پورا لاک ڈاؤن بھی کر لیں توپھر بھی کورونا نہیں رکے گا، ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ رہناپڑیگا، ہمارے علماء نے ضمانت دی ہے اور اب ان کی ذمے داری ہے، اگرخلاف ورزی ہوئی توہم مساجد بندبھی کردیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے "احساس ٹیلی تھون" پروگرام کے تحت عوام سے براہ راست عطیات وصول کییجس 2ارب 65کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز جمع ہوچکے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا ، اب ہمیں سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا، اس کی وجہ سے ہر جگہ پر لوگ متاثر ہیں۔ اب آہستہ آہستہ کاروبار شروع ہوگا۔ اب تو سمارٹ لاک ڈاؤن مغرب کے اندر بھی شروع ہو گیا ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام جیسا شفاف کوئی بھی پروگرام نہیں ہوا، اب تک 13 کروڑ لوگوں نے اس پروگرام میں اپلائی کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہاحساس پروگرام میں سب سے زیادہ پیسہ سندھ میں دیا گیا۔ احساس پروگرام کی پوری تیاری کی گئی، بارہ ہزار روپے مکمل تصدیق کے بعد دیئے جاتے ہیں، اس پروگرام میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے۔ پاکستان میں 75 فیصد مزدور رجسٹرڈ ہی نہیں، ان تک پہنچنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچی بستیوں میں حالات بہت زیادہ برے ہیں۔ سندھ حکومت نے ایک دم کرفیو ٹائپ لاک ڈاؤن کردیا حالانکہ میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ ہمیں لاک ڈاؤن بیلنس کرنا ہے۔ پاکستان کے حالات دنیا سے مختلف ہیں، پورے لاک ڈاؤن سے دہاڑی دار متاثر ہونگے۔وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملاقات کی اور صوبے میں کورونا وائرس کی صورتحال پر بریفنگ دی۔عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان کو کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے صنعتی عمل کی روانی خصوصاً حکومت کی جانب سے کھولی جانے والی صنعتوں میں حفاظتی تدابیر کو یقینی بنانے کے حوالے سے اقدامات بارے بھی بریف کیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ذخیرہ اندوزی کے تدارک اور ماہ رمضان کے حوالے سے کیے جانے والے مختلف اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔وزیراعظم عمران خان نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کے دور ہ کے موقع پر آئی ایس آئی کی خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ملک کی سلامتی، سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ جمعرات کو وزیراعظم آ فس کے مطابق وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزرا اور مشیران نے ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کا دورہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم کو داخلی اور خارجی محاذوں پر درپیش چیلینجز کے ساتھ کرونا کے اثرات پر بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کی سلامتی، سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ وزیراعظم نے اعلی ریاستی ایجنسی آئی ایس آئی کی خدمات اور قربانیوں کو سراہا۔

وزیر اعظم

اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور (جنرل رپورٹر، سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان میں کورونا وائرس سے جمعرات کے روز مزید 8 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ملک میں مہلک وبا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 228 ہو گئی جب کہ مزید نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مصدقہ مریضوں کی تعداد 10811 تک پہنچ گئی ہے۔228 ہلاکتوں میں سے اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 83 افراد انتقال کرچکے ہیں۔اس کے علاوہ سندھ میں 73، پنجاب میں 58، بلوچستان میں 8 جب کہ گلگت بلتستان اوراسلام آباد میں تین، تین افراد اس مہلک وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔ جمعرات کو ملک بھر سے کورونا وائرس کے 308 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 8 ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں جن میں سے سندھ میں 298 کیسز اور 4 ہلاکتیں، اسلام آباد میں 10 کیسز، پنجاب اور بلوچستان میں 2،2 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔سندھ میں کورونا کے مزید 298 کیسز سامنے آئے اور 4 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔مراد علی شاہ کے مطابق نئے کیسز کے بعد صوبے میں کل مریضوں کی تعداد 3671 اور ہلاکتیں 73 ہوگئی ہیں۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں رپورٹ کیسز میں ہلاکتوں کی شرح 1.98 فیصد ہے جب کہ سندھ میں کل 2934 مریض زیرعلاج ہیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 15 افراد صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 730 ہوگئی ہے۔پنجاب میں کورونا وائرس سے مزید 2 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کی گئی ہیں جس کے بعد صوبے میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 58 ہوگئی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق صوبے میں کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 4590 ہے جب کہ صوبے میں اب تک وائرس سے 790 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے مزید 10 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 204 ہوگئی ہے جب کہ شہر میں اب تک وائرس سے 3ا فراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں کورونا سے مزید 2 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق محکمہ صحت کی جانب سے بھی کی گئی ہے، صوبے میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔صوبے میں بدھ کو کورونا وائرس کے مزید 57 کیسز سامنے آئے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 552 ہوگئی۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان میں اب تک کورونا کے 168 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔۔خیبرپختونخوا میں اب تک 414 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔گلگت بلتستان میں بدھ کو مزید 7 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 290 ہوگئی جب کہ اب تک 201 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔محکمہ صحت کے مطابق گلگت میں زیر علاج افراد کی مجموعی تعداد 86 رہ گئی ہے اور صحتیابی کا تناسب 73 فیصد سے زائد ہے۔گلگت بلتستان میں اب تک کورونا وائرس سے 3 افراد کا انتقال ہوا ہے۔موذی وائرس نے لاہور میں مزید دوافراد کی جانیں لے لیں۔ ایک مریض میو ہسپتال اور دوسرا جناح ہسپتال میں جان کی بازی ہار گیا۔ لاہور میں مزید چوہتر افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے سے مریضوں کی تعداد سات سو بہتر ہوگئی۔عالمی وباء کورونا وائرس کی شدت میں مسلسل اضافہ ہونے لگا۔ میو ہسپتال میں خاتون اور جناح ہسپتال میں 60سالہ مریض دم توڑ گیا۔ ایم ایس جناح ہسپتال ڈاکٹریحیٰ سلطان نے تصدیق کر دیلاہور میں کورونا وائرس کے مزید 78 کیس رپورٹ ہونے سے مریضوں کی تعداد 850 تک جا پہنچی۔ پنجاب میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 4 ہزار 707 ہو گئی۔ترجمان محکمہ صحت کے مطابق راولپنڈی 190، جہلم 37، اٹک 11، ننکانہ 1، قصور 55، شیخوپورہ 18، چکوال 4، گوجرانوالا 116، سیالکوٹ 59، فیصل آباد52، چنیوٹ 11، ٹوبہ ٹیک سنگھ 7، نارروال 7، گجرات 167، حافظ آباد 12، منڈی بہاوالدین 12، ملتان 35، خانیوال 3 اور وہاڑی میں 35 شہریوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔کیمپ جیل 59، سیالکوٹ 3، گوجرانوالا 7، ڈی جی خان 9، جہلم 3، بھکر 2، فیصل آباد، قصور اور حافظ آْباد میں ایک ایک قیدی وائرس کا شکار ہوئے۔ڈی جی خان 221، ملتان 457، فیصل آباد 23 اور گوجرانوالا 42 زائرین میں تصدیق، شیخو پورہ 12، منڈی بہاوالدین 33، سرگودھا 145، میانوالی 7، وہاڑی 46، راولپنڈی 30، اٹک 7، جہلم 54، ننکانہ 28، گجرات 10، گوجرانوالا 21، رحیم یار خان 56، بھکر 67، خوشاب 32، راجن پور 19 حافظ آباد 35، سیالکوٹ 22، لیہ 38، جھنگ 38، رحیم یار خان 62، سرگودھا 33، مظفر گڑھ 61، نارووال 26، بہاولنگر 25 اور فیصل آباد میں 18 تبلیغی اراکین میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

پاکستان ہلاکتیں

واشنگٹن،لندن، نئی دہلی بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکا کورونا کے سامنے بے بس ہو گیا، ایک دن میں مزید 2 ہزار 341 افراد ہلاک ہوگئے، اب تک 47 ہزار 676 افراد جان سے گئے، آٹھ لاکھ سے زائد شہری مہلک وائرس کا شکار ہیں۔ریاست اوہائیو کی ایک جیل میں 78 فیصد قیدیوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ نیویارک کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے جہاں دو پالتو بلیوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر یہ وائرس دوبارہ ملک میں سر اٹھاتا ہے تو اس کی شدت وہ نہیں ہو گی جو اس بار تھی۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک پریس بریفنگ میں چین پر ملک میں کورونا وائرس کے موجودہ نمونوں کو ضائع کرنے اور امریکا کے ساتھ وائرس کے نمونے کا تبادلہ نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ان کا کہنا تھا چین ملک میں موجود کورونا کے نمونوں کو ضائع کر رہا ہے جس کے باعث وائرس کی ابتدا کا پتا لگانا ناممکن ہو جائے گا۔پوری دنیا میں نوول کروناوائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 26لاکھ 28ہزار 929 تک پہنچ گئی ہے، اٹلی 1لاکھ 87ہزار 327 مصدقہ کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر فرانس میں مصدقہ کیسز کی تعداد1لاکھ57ہزار135 جبکہ جرمنی میں 1لاکھ50ہزار648ہوگئی برطانیہ میں 1لاکھ34ہزار638مصدقہ کیسز ہیں جبکہ ترکی میں 98ہزار674مصدقہ کیسز ہیں۔ایران میں مصدقہ کیسز کی تعداد85ہزار996 اور روس میں مصدقہ کیسز کی تعداد57ہزار999تک پہنچ گئی ہے۔اسی طرح چین میں مصدقہ کیسز کی تعداد 84ہزار302ہوگئی ہے۔شمالی کشمیر کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں کوروناوائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں مثبت کیسز کی تعداد 426تک پہنچ گئی ہے۔وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے 27 نئے مثبت کیسزسامنے آئے ہیں، جن کا تعلق کشمیر سے ہے۔ جموں و کشمیر انتظامیہ کے ترجمان روہت کنسل نے نئے کورونا کیسز کی تصدیق کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کیسز کی کل تعداد 426تک پہنچ گئی ہے، جن میں جموں سے56 اور کشمیر سے 351کیسزہیں۔ لداخ میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 19 ہے۔کشمیر میں مثبت قرار دئے گئے27مریضوں میں سے 14شوپیان اور7 بانڈی پورہ، 4کپوارہ، ایک اننت ناگ اور ایک بارہمولہ کا ہے۔سکمز صورہ میں منگل کو25کیس مثبت قرار پائے گئے۔ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران یہاں 489نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں 25 کومثبت قرار دیا گیا جبکہ464کی رپورٹ منفی آئی۔ بھارت میں 922 کورونا وائرس کے نئے مثبت کیس رپورٹ ہوئیجبکہ مزید 48افراد ہلاک ہو گئے۔ مجموعی طور پر بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 21393 ہو گئی ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 681 ریکارڈ کی گئی۔ بھارتی حکام کے مطابق جاری کردہ معلومات میں بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن میں 3 مئی تک کی توسیع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 4258 مریضوں کو صحت یابی کے بعد ہسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -