تبلیغی حضرات سے متعلق معاملات کیلئے فوکل پر سنز مقرر کرنے کا فیصلہ

تبلیغی حضرات سے متعلق معاملات کیلئے فوکل پر سنز مقرر کرنے کا فیصلہ

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ اس وقت صوبہ خیبرپختونخوا میں موجود دیگر صوبوں اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے تبلیغی حضرات ہمارے بھائی اور مہمان ہیں، ہم پشتون روایات کے عین مطابق اپنے مہمانوں کا خیال رکھیں گے، جب تک وہ یہاں ٹھہرے ہیں اُنہیں ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور اُن کا بھر پور خیال رکھا جائے گا جس کیلئے تمام ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام کو پہلے سے ضروری احکامات دیئے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے جمعرات کے روز تبلیغی جماعت کے تین رکنی ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیاجس نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اُن سے ملاقات کی اور موجودہ صورتحال میں تبلیغی جماعت کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی سے متعلق اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ صوبائی وزیر امجد علی خان اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ جس وقت صوبے میں کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوئے اُس وقت سے یہاں پر مقامی، ملکی اور غیر ملکی تبلیغی حضرات کیلئے قرنطینہ، سکریننگ اور ٹیسٹنگ کے علاوہ دیگر انتظامات پر کام شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت قرنطینہ کی مدت پوری کرنے اور ٹیسٹنگ کروانے کے بعد بہت سارے تبلیغی حضرات کو اُن کے صوبوں اور ملکوں کو واپس بھیجوایا گیا ہے جو بحفاظت اپنے اپنے جگہوں میں پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ اس وقت صوبے میں موجود اُن تمام تبلیغی حضرات کو رائیونڈ مرکز تک پہچانے کا بندوبست صوبائی حکومت کرے گی جن کا اندراج رائیونڈ مرکز میں ہوا ہے۔ اُنہوں نے مزید یقین دلایا کہ صوبے سے رائیونڈ مرکز میں خدمت کیلئے جانے والے افراد کو تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ وفد کے مطالبے پر وزیراعلیٰ نے صوبے میں موجود غیر مقامی تبلیغی حضرات کو اُن کے علاقوں کو بھیجنے اور دیگر صوبوں میں موجود خیبرپختونخوا کے تبلیغی حضرات کو یہاں لے آنے کے سلسلے میں محکمہ داخلہ کے ایک اعلیٰ آفیسر کو فوکل پرسن مقرر کرنے کے احکامات جاری کئے۔ اس طرح ایک فوکل پرسن تبلیغی جماعت کی طرف سے مقرر ہو گا جو مذکورہ مقصد کیلئے ایک دوسرے سے روزانہ کی بنیادوں پر رابطہ رکھیں گے۔ اس موقع پر کورونا وائرس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان اور آزمائش قرار دیتے ہوئے خصوصی دُعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ خصوصی رحم و کرم فرما کر پوری قوم کو اس آزمائش میں سرخر و کرے۔

<><><><><><><

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پولیس سکول آف انٹیلی جنس ایبٹ آباد کے اکیڈمک بلاک کی نئی عمارت کا افتتاح کیا۔ پولیس سکول آف انٹیلی جنس پورے ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا اور واحد ادارہ ہے جو خیبرپختونخوا پولیس کے علاوہ دیگر صوبوں کے پولیس افسران کو سکیورٹی انٹیلی جنس اور کاونٹر ٹیرارزم انٹیلی جنس سمیت انٹیلی جنس کے دیگر شعبوں میں بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرتا ہے۔سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی، چیف سیکرٹر ی ڈاکٹر کاظم نیاز اور انسپکٹر جنرل پولیس ثناء اللہ عباسی بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا میں ملکی سطح پر اپنی نوعیت کے پہلے اور واحد تربیتی ادارے کے قیام کو صوبے کیلئے باعث فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کل کے دور میں پولیس انٹیلی جنس کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پولیس فورس کو درپیش چیلنج سے نمٹنے کے قابل بنانے میں ایسے تربیتی اداروں کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ادارے کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے وزیراعلیٰ کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارہ سال 2014 میں قائم کیا گیا تھا اور اب تک یہ ادارہ مختلف رینکس کے 4656 پولیس افسران کو انٹیلی جنس کے متعدد شعبوں میں تربیت فراہم کر چکا ہے جن میں صوبہ پنجاب، آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے پولیس افسران شامل ہیں۔ علاوہ ازیں یہ ادارہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کے سکیورٹی عملے کو بھی تربیت فراہم کر رہا ہے۔ ادارے میں پولیس انٹیلی جنس کے بنیاد ی کورسز کے علاوہ مختلف دورانیے کے مخصوص کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ادارے کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ اس کی تمام ضروریا ت کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے سکولوں کے مختلف شعبوں کا بھی معائنہ کیا۔

مزید :

صفحہ اول -