کورونالاک ڈاون،شوہر بیویوں کے ہاتھوں پٹنے لگے،متاثرہ مردوں کیلئے حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟ خبرآگئی

کورونالاک ڈاون،شوہر بیویوں کے ہاتھوں پٹنے لگے،متاثرہ مردوں کیلئے حکومت نے ...
کورونالاک ڈاون،شوہر بیویوں کے ہاتھوں پٹنے لگے،متاثرہ مردوں کیلئے حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟ خبرآگئی

  

برلن(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا بھرمیں کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاون گھریلو تشدد میں اضافے کا باعث بننے لگے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برازیل سے جرمنی اور چین سے یونان تک گھریلو تشدد میں اضافے کی رپورٹس سامنے آرہی ہیں۔ دنیا کے کئی حصوں میں مردوں کے خواتین پر تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں تو جرمنی میں شوہر بیویوں کے ہاتھوں پٹ رہے ہیں۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے(ڈی ڈبلیو) کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کی صوبائی حکومتوں نے گھریلو تشدد سے متاثرہ مردوں کیلئے مخصوص ہیلپ لائن قائم کی ہے جہاں گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والے مرد ہی رپورٹ کرسکیں گے۔ اطلاعات کے مطابق  جرمن ریاستوں نارتھ رائن ویسٹ فیلیا اور باواریہ نے مل کر متاثرہ مردوں کے لیے ٹیلیفون ہیلپ لائن کا آغاز کیا ہے جس کا اعلان دونوں ریاستوں کے وزرا نے کیا ہے۔ اور یہ جرمنی میں اپنی نوعیت کی واحد ہیلپ لائن ہے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ مرد ایک ٹیلی فون نمبر پر مفت کال کر سکیں گے اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

یہی نہیں بلکہ آئندہ ان صوبوں میں ایسے ‘محفوظ گھر‘ بھی قائم کیے جائیں گے، جہاں گھریلو زندگی میں تشدد کا شکار ہونے والے مردوں کو رہائش اختیار کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔جرمنی میں انسداد جرائم کے محکمے کے اعدد و شمار کے مطابق دو ہزار اٹھارہ میں اپنی شریک حیات کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے مردوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

ماہرین کے مطابق خواتین کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے مردوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے لیکن مرد شرمندگی کی وجہ سے ایسے تشدد کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -کورونا وائرس -