آوارہ گھومتے نوجوانوں  کو پولیس نے ایمبولینس میں کورونا کے مریض کے پاس چھوڑ دیا، پھر کیا حالت ہوئی؟  ویڈیو دیکھ کر  ہنسی نہ رکے

آوارہ گھومتے نوجوانوں  کو پولیس نے ایمبولینس میں کورونا کے مریض کے پاس چھوڑ ...
آوارہ گھومتے نوجوانوں  کو پولیس نے ایمبولینس میں کورونا کے مریض کے پاس چھوڑ دیا، پھر کیا حالت ہوئی؟  ویڈیو دیکھ کر  ہنسی نہ رکے

  

چنائی (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومتوں کی جانب سے عوام کو کورونا سے بچانے کیلئے لاک ڈاؤن کیا  جارہا ہے لیکن بہت سے لوگ بلا ضرورت اس کی خلاف ورزی پر بضد نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں پولیس بے وجہ گھروں سے باہر نکلنے والے افراد کی چھترول بھی کرتی ہے لیکن اب بھارتی پولیس نے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔

ریاست تامل ناڈو کی پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ پولیس 2 موٹر سائیکلوں پر آوارہ گھومنے والے 5 نوجوانوں کو روکتی ہے۔ قریب ہی ایک ایمبولینس کھڑی ہوتی ہے جس میں کورونا وائرس کا جعلی مریض لٹایا گیا ہوتا ہے۔

پولیس نے نوجوانوں کو بریفنگ دینے کے بعد انہیں ایمبولینس میں ڈالنا شروع کردیا۔ جب آوارہ گرد نوجوانوں کو کورونا کے مریض سے ملانے کیلئے ایمبولینس میں ڈالا جارہا تھا تو اس وقت ان کی جو حالت ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔ ان نوجوانوں کی کیفیت بیان کرنے کیلئے " اردوئے محلہ " کے مشہور مزاحیہ شاعر خالد مسعود خان کی مدد لینی پڑے گی۔

مزاحیہ شاعر خالد مسعود خان نے ایک دفعہ کراچی کے علاقے لالو کھیت میں مشاعرہ کیا۔ ایک شعر میں انہوں نے پنجابی کا سب سے مشہور لفظ "چول" استعمال کیا تو ایک اردو دان نے ان سے سوال کیاکہ " چول" کیا ہوتا ہے۔ جس پر  خالد مسعود خان نے کہا کہ چول سمجھایا نہیں جاسکتا بلکہ دکھایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح تامل ناڈو کے ان  نوجوانوں کی  حالت بھی ایسی ہی  تھی جو سمجھائی نہیں جاسکتی بلکہ دکھائی جاسکتی ہے، اس لیے آپ یہ ویڈیو دیکھیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -