طالبان کا بڑا حملہ ، مرنے والے 13 افراد کا اشرف غنی کی حکومت سے کیا تعلق تھا؟ افغان صدر کے لئے نئی پریشانی کھڑی ہو گئی

طالبان کا بڑا حملہ ، مرنے والے 13 افراد کا اشرف غنی کی حکومت سے کیا تعلق تھا؟ ...
طالبان کا بڑا حملہ ، مرنے والے 13 افراد کا اشرف غنی کی حکومت سے کیا تعلق تھا؟ افغان صدر کے لئے نئی پریشانی کھڑی ہو گئی

  

قلعہ نو(ڈیلی پاکستان آن لائن)افغانستان کے مغربی صوبہ بادغیس میں طالبان عسکریت پسندوں کے حملے میں حکومت نواز مقامی ملیشیا کے 13 رکن مارے گئے ہیں ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صوبہ بادغیس حکومت کے ترجمان نجم الدین برہانی نے طالبان حملے اور ہلاکتوں  کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ  صوبائی دارالحکومت قلعہ نو کے مغربی مضافاتی علاقہ لامان میں ایک مرکزی سڑک کے ساتھ بنی سیکورٹی چوکی پر طالبان عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد مقامی باغی جنگجوں کے نام سے مشہور حکومت کی حامی قبائلی ملیشیا کے13 ارکان جاں بحق  ہو گئے ہیں، نصف شب کے وقت ہونیوالے حملے میں عسکریت پسندوں کی جانب سے گروہ کے ایک رکن کا اغوا کر لیا گیا ہے۔مقامی بغاوت کرنیوالے جنگجو جنہیں افغان سیکیورٹی اداروں کی حمایت حاصل ہے وہ سیکیورٹی کی فراہمی اور ملک کے دور دراز دیہات اور اضلاع کی حفاظت کرتے ہیں جہاں فوج اور پولیس کو محدود رسائی حاصل ہے۔

حکومتی ترجمان نے مزید کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور سیکیورٹی فورسز زیر حراست شخص کو ڈھونڈنے اور بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔غیر سرکاری رپورٹس سے پتا چلا ہے کہ اس حملے کو طالبان سہولت کاروں کی مدد حاصل تھی اور یہ اندرونی حملوں کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ تھا جب حکومتی فورسز کے اراکین اور حکومت نواز جنگجو اپنی بندوقوں کا رخ اپنے ہی ساتھیوں کی جانب کر لیتے ہیں۔یہ صوبہ طویل عرصہ سے سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپیں ہو رہی ہیں۔دوسری طرف  طالبان عسکریت پسند گروہ کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

مزید :

بین الاقوامی -